افغانستان میں قیام امن کے اشارے

زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں تشدد کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔

زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں تشدد کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ فوٹو: فائل

امریکا کا خصوصی نمایندہ جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کر رہا ہے، گزشتہ روز کابل پہنچ گیا ہے۔ ایک سرکاری افسر نے تصدیق کی ہے کہ عسکریت پسندوں کے ساتھ معاہدے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ واشنگٹن اور طالبان کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لیے برسرپیکار ہیں تا کہ امریکا اور اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلاء کا راستہ نکالا جا سکے تاہم اس مقصد کے لیے سیکیورٹی کی ضمانتیں درکار ہیں۔ طالبان بھی اپنی سیکیورٹی کی ضمانت طلب کر رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکا کی طرف سے مذاکرات کی پیش رفت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔

افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمایندے زلمے خلیل زاد نے افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ بات چیت کی۔ افغان صدارتی محل سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ زلمے خلیل زاد اسلام آباد کا دورہ کرنے کے بعد کابل پہنچے ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغانستان کے عسکریت پسندوں اور امریکی حکام کے مابین مذاکرات شروع کرانے میں پوری مدد کی۔ زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں تشدد کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔


امریکا اور طالبان میں امن مذاکرات کی بات کامیابی سے چل رہی تھی اور امریکی حکام امن معاہدے کی کامیابی کے بارے میں اعلان کرنے کی تیاری کر رہے تھے لیکن پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک طالبان پر تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد دسمبر کے مہینے میں افغانستان کے بگرام ایئرپورٹ جہاں امریکا کی فوج تعینات تھی وہاں پر طالبان کا حملہ ہو گیا جس سے حالات قابو سے باہر ہو گئے۔ طالبان کے ذرایع کے حوالے سے میڈیا نے بتایا کہ وہ ایک ہفتہ یا دس دن کی سیز فائر (جنگ بندی) کرنے پر تیار تھے تا کہ امن معاہدے پر دستخط ہو سکیں۔بہرحال اب حالات مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق طالبان کے ساتھ امریکی حکام کے معاہدے کے قریب پہنچنے کی باتیں ہورہی ہیں تاہم امریکیوں کی صرف ایک شرط تھی کہ طالبان کے حملوں میں کچھ کمی کر دی جائے تا کہ 18 سال سے جاری اس جنگ کا اختتام عمل میں آ سکے۔ ادھرافغانستان میں امریکی بمبار طیاروں نے اپنی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے اور ان کی بمباری سے عام شہریوں کی اموات بھی ہورہی ہیں۔ امریکا کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح طالبان کے ساتھ معاملات طے پا جائیں تاکہ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کی راہ ہموار ہوسکے۔زلمے خلیل زاد کا کابل پہنچنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

ادھر طالبان کے رویے میں بھی تبدیلی نظر آرہی ہے اور وہ بھی چاہتے ہیں کہ جنگ سے نکلا جائے۔پاکستان بھی افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔پاکستان کے پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ حالات پر گہری نظر رکھیں اور اپنی شمال مغربی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ہی صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو شرپسندوں سے پاک کیا جاسکتا ہے اور اسی طریقے سے یہ دونوں صوبے ترقی کرسکتے ہیں اور اس کے اثرات کراچی ،اندرون سندھ اور پنجاب پر بھی پڑیں گے اور پاکستان دہشت گردی سے محفوظ ہوجائے گا۔
Load Next Story