سابق دور حکومت میں تیارکردہ نئے ٹیکس دہندگان کی لسٹ بوگس قرار
نئی لسٹوں کی تیاری شروع کردی، سالانہ ایک لاکھ بیس ہزار افرادٹیکس نیٹ میں شامل ہوں گے
ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے وفاق ایوان صنعت و تجارت اور لاہور چیمبر سمیت ملک کے تمام چیمبرز اور تجارتی تنظیموں سے بھی مدد مانگ لی
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سابق حکومت کے دور میں نئے ٹیکس دہندگان کی لسٹ کو بوگس قرار دے دیا کیونکہ اس لسٹ کے تحت بھجوائے گئے۔
اکثریتی ٹیکس نوٹس غلط ایڈریس یا صحیح معلومات نہ ہونے کی وجہ سے واپس آ گئے ہیں، جس پر ایف بی آر کے حکام نے از سرنو ٹیکس دہندگان کی لسٹ کی تیاری شروع کر دی ہے جس کے تحت ہر ماہ دس ہزار افراد کو ٹیکس نوٹس بھجوائے جائیں گے۔ اس طرح سالانہ ایک لاکھ بیس ہزار افرادٹیکس نیٹ میں شامل ہوں گے۔ یہ نوٹس ایسے افراد کو بھجوائے جا رہے ہیں جو بڑے بڑے بنگلوںاور کوٹھیوں میں رہائش پذیر ہیں، مرسڈیز،لینڈ کروزر اور بی ایم ڈبلیو سمیت دیگر لگژری گاڑیاں ،قیمتی پلاٹس اور فارن کرنسی اکائونٹس کے مالک ہیں اور ان کے بچے بیرون ممالک اعلی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ماہانہ لاکھوں روپے کے یوٹیلٹیز بل ادا کرتے ہیں لیکن ٹیکس ادا نہیں کر رہے ہیں۔ ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق آئندہ تین سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 14فیصد تک لانی ہے جو اس وقت 9فیصد سے بھی کم ہے جس کے لیے نئے ٹیکس دہندگان کا ٹیکس نیٹ میں شامل ہونا ضروری ہے۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایف بی آر کے چیئرمین طارق باجوہ کی سربراہی میں ایک خصوصی سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کررہا ہے جس کی بنیاد پر ہر اس شخص کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا، جو قابل آمدنی ہے اور ٹیکس ادا نہیں کر رہا، اس سلسلے میں جلد ہی حکومت ملک میں نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم بھی متعارف کروا رہی ہے جس کے تحت کالا دھن سفید کرایا جا سکے گا کیونکہ اس وقت حکومت کو 2400 ارب روپے سے زائد ریونیو کی ضرورت ہے جس کے لیے نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہو گیا ہے۔ ایف بی آر کے حکام نے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے وفاق ایوان صنعت و تجارت اور لاہور چیمبر سمیت ملک کے تمام چیمبرز اور تجارتی تنظیموں سے بھی مدد مانگ لی ہے اور ان کے نمائندگان کو کہا ہے کہ وہ نئے ٹیکس دہندگان کی نشاندہی کریں اس سلسلے میں فیڈریشن، چیمبرز اور تجارتی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایف بی آر سے تعاون کرے گی۔
اکثریتی ٹیکس نوٹس غلط ایڈریس یا صحیح معلومات نہ ہونے کی وجہ سے واپس آ گئے ہیں، جس پر ایف بی آر کے حکام نے از سرنو ٹیکس دہندگان کی لسٹ کی تیاری شروع کر دی ہے جس کے تحت ہر ماہ دس ہزار افراد کو ٹیکس نوٹس بھجوائے جائیں گے۔ اس طرح سالانہ ایک لاکھ بیس ہزار افرادٹیکس نیٹ میں شامل ہوں گے۔ یہ نوٹس ایسے افراد کو بھجوائے جا رہے ہیں جو بڑے بڑے بنگلوںاور کوٹھیوں میں رہائش پذیر ہیں، مرسڈیز،لینڈ کروزر اور بی ایم ڈبلیو سمیت دیگر لگژری گاڑیاں ،قیمتی پلاٹس اور فارن کرنسی اکائونٹس کے مالک ہیں اور ان کے بچے بیرون ممالک اعلی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ماہانہ لاکھوں روپے کے یوٹیلٹیز بل ادا کرتے ہیں لیکن ٹیکس ادا نہیں کر رہے ہیں۔ ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق آئندہ تین سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 14فیصد تک لانی ہے جو اس وقت 9فیصد سے بھی کم ہے جس کے لیے نئے ٹیکس دہندگان کا ٹیکس نیٹ میں شامل ہونا ضروری ہے۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایف بی آر کے چیئرمین طارق باجوہ کی سربراہی میں ایک خصوصی سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کررہا ہے جس کی بنیاد پر ہر اس شخص کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا، جو قابل آمدنی ہے اور ٹیکس ادا نہیں کر رہا، اس سلسلے میں جلد ہی حکومت ملک میں نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم بھی متعارف کروا رہی ہے جس کے تحت کالا دھن سفید کرایا جا سکے گا کیونکہ اس وقت حکومت کو 2400 ارب روپے سے زائد ریونیو کی ضرورت ہے جس کے لیے نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہو گیا ہے۔ ایف بی آر کے حکام نے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے وفاق ایوان صنعت و تجارت اور لاہور چیمبر سمیت ملک کے تمام چیمبرز اور تجارتی تنظیموں سے بھی مدد مانگ لی ہے اور ان کے نمائندگان کو کہا ہے کہ وہ نئے ٹیکس دہندگان کی نشاندہی کریں اس سلسلے میں فیڈریشن، چیمبرز اور تجارتی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایف بی آر سے تعاون کرے گی۔