ہفتہ رفتہ کاٹن تعطیلات کے باعث کاروباری سرگرمیاں محدود قیمتوں میں معمولی تیزی

روئی کے بھاؤ 100 روپے اضافے سے 6 ہزار 700 تا 6 ہزار 800 روپے من، اسپاٹ ریٹ 6 ہزار 550 روپے من تک پہنچ گئے

ٹیکسٹائل ملز کی بھارت سے روئی درآمد کرنے میں عدم دلچسپی، گیس معطلی کا شیڈول آنے کے بعد لائحہ عمل طے کیا جائیگا، احسان الحق فوٹو: فائل

چین کی جانب سے رواں ہفتے کے دوران اپنے قومی ذخائر سے روئی کی فروخت شروع کرنے کی اطلاعات کے بعد گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی بیشتر بین الاقوامی منڈیوں میں مندی کا رجحان غالب رہا جبکہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز امریکا کی جانب سے مثبت ایکسپورٹ رپورٹ جاری ہونے کے بعد نیو یارک کاٹن ایکس چینج میں مندی کا رجحان تیزی میں تبدیل ہوگیا۔

پاکستان میں محرم الحرام کی تعطیلات کے سبب گزشتہ ہفتے روئی کی کاروباری سرگرمیاں انتہائی محدود رہیں لیکن اسکے باوجود روئی کی قیمتوں میں معمولی تیزی کا رجحان دیکھا گیا، پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن(پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان ا لحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ چین کی جانب سے اپنے ایک کروڑٹن کے ذخائر میں سے 18 ہزار یوآن /3 ہزار امریکی ڈالر فی ٹن کے حساب سے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو 1.36 ڈالر فی پاؤنڈ کے مساوی ہے جبکہ عالمی مارکیٹوں میں اس وقت روئی کے حاضر ڈلیوری کے سودے تقریبا 84سینٹ فی پاؤنڈ کے حساب سے ہو رہے ہیں جس سے توقع ہے کہ چین کو مذکورہ نرخوں پر اپنی روئی فروخت کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ماہرین کے مطابق چین کی جانب سے روئی کے ذخائر فروخت کرنے بارے ابھی تک کوئی حتمی تاریخ اور فروخت ہونے والی روئی کی حتمی مقدار جاری نہ کرنے کے باعث یہ خبر سٹے بازوں کی ایک نئی چال بھی ہو سکتی ہے تاکہ روئی کی عالمی مارکیٹوں میں مندی کا رجحان پیدا کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اطلاعات کے مطابق چین نے ایک بار پھر بھارت سے روئی کی درآمد شروع کردی ہے اور چین بھارت سے 80سے 82سینٹ فی پاؤنڈ کے حساب سے روئی کی خریداری کررہا ہے جب کہ معلوم ہوا ہے کہ بھارتی روئی برآمد کنندگان نے پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کو بھی روئی برآمد کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے اور پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کو سی اینڈ ایف کراچی 81/82 سینٹ فی پاؤنڈ جب کہ واہگہ کے ذریعے 83/84سینٹ فی پاؤنڈ کی پیشکشیں کررہے ہیں تاہم پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان فی الحال بھارت سے روئی درآمد کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لے رہے تاہم توقع ہے کہ پنجاب میں واقع ٹیکسٹائل ملز کو سوئی گیس کی معطلی کا حتمی شیڈول آنے کے بعد پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان بھارت سے روئی درآمد کرنے بارے کوئی لائحہ عمل طے کرینگے۔




انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت ٹیکسٹائل نے کاٹن کراپ اسسمنٹ کمیٹی (سی سی اے سی) کا اجلاس 22 نومبر کو ملتان میں طلب کیا ہے جس میں پاکستان میں رواں سال روئی کی مجموعی ملکی پیداوار بارے نیا تخمینہ جاری کیا جائیگا۔ یاد رہے کہ قبل ازیں سی سی اے سی نے 2013-14 کے دوران پاکستان میں روئی کی مجموعی ملکی پیداوار 11.95 ملین بیلز کاہدف مقرر کررکھا ہے۔ احسان الحق نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیو یارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 1.15 سینٹ فی پاؤنڈ کمی کے بعد 83.90 سینٹ فی پاؤنڈ تک گر گئے جب کہ دسمبر ڈلیوری روئی کے سودے 0.24 سینٹ فی پاؤنڈ اضافے کے بعد 77.12سینٹ فی پاؤنڈ تک پہنچ گئے اور بھارت میں روئی کے سودے معمولی کمی بیشی کے ساتھ 40 ہزار 600 روپے فی کینڈی، چین میں 65 یوآن فی ٹن کمی کے بعد 19 ہزار 750 یوآن فی ٹن جب کہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کے اسپاٹ ریٹ 150 روپے فی من اضافے کے ساتھ 6 ہزار 550 روپے فی من تک پہنچ گئے جبکہ پاکستان میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتیں 100 روپے فی من اضافے کے ساتھ 6 ہزار 700 سے 6 ہزار 800 روپے فی من تک پہنچ گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں جرمنی میں ایک بڑا ٹیکسٹائل فیئرمنعقد ہورہا ہے جس میں پاکستان سے بڑی تعداد میں ٹیکسٹائل ملز مالکان شرکت کررہے ہیں اور توقع ہے کہ پاکستان ٹیکسٹائل ملز مالکان اس فیئر سے بڑی تعداد میں سوتی دھاگے اور کپڑے کے بڑے برآمدی آرڈر حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائینگے جب کہ توقع ہے کہ جنوری کے پہلے ہفتے سے پاکستان کو جی ایس پی اسٹیٹس ملنے سے بھی پاکستان سے بڑی تعداد میں کاٹن پروڈکٹس ایکسپورٹ ہونے سے پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان سامنے آسکتا ہے۔
Load Next Story