تمام پڑوسی ممالک بھارت سے نالاں ہیں بی بی سی
عالمی تعلقات میں بھارت اتنا بے اثر کبھی نہیں نظر آیا جتنا منموہن سنگھ کے دور میں رہا
نیپال میں ساکھ مجروح، پاکستان سے سرد مہری، چین کے ساتھ سرحدی تنازع ہے۔ فوٹو : فائل
FAISALABAD:
بی بی سی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ 10 برس میں بھارت کی حکومت نے جو خارجہ پالیسی اختیار کی وہ ابہام کا شکار رہی۔
اس پالیسی کی کوئی سمت نہیں تھی۔ بین الاقوامی تعلقات میں بھارت اتنا بے اثر اور کمزور کبھی نہیں نظر آیا جتنا گزشتہ 10 برس میں منموہن سنگھ کے دور اقتدار میں رہا۔ نیپال بھارت کا سب سے قریبی ملک رہا ہے۔ آج وہاں عوامی اور سیاسی دونوں سطح پر بھارت کی ساکھ بری طرح مجروح ہو چکی ہے۔ سابق واجپائی حکومت نے پاکستان سے بہتر تعلقات کی بنیاد قائم کی تھی۔
امید تھی کہ منموہن سنگھ کی حکومت اسے اور آگے لے جائے گی۔ لیکن ان تعلقات کو دہشت گردی کے حملوں اور کنٹرول لائن پر کشیدگی سے زک پہنہچی۔ پاکستان کی جانب سے مثبت اشاروں کے باوجود حالات بہتر کرنے کے لیے منموہن سنگھ کی حکومت کبھی سیاسی عزم نہ مجتمع کر سکی۔ بھارت اور پاکستان کے تعلقات پچھلے 5 برس سے انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں۔ چین سے بھارت کے تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ چینی فوجیں اکثر بھارتی خطے میں آتی ہیں اور کئی مقامات پر وہ ایسے علاقوں میں بیٹھی ہوئی ہیں جنہیں بھارت اپنا حصہ مانتا ہے۔
بی بی سی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ 10 برس میں بھارت کی حکومت نے جو خارجہ پالیسی اختیار کی وہ ابہام کا شکار رہی۔
اس پالیسی کی کوئی سمت نہیں تھی۔ بین الاقوامی تعلقات میں بھارت اتنا بے اثر اور کمزور کبھی نہیں نظر آیا جتنا گزشتہ 10 برس میں منموہن سنگھ کے دور اقتدار میں رہا۔ نیپال بھارت کا سب سے قریبی ملک رہا ہے۔ آج وہاں عوامی اور سیاسی دونوں سطح پر بھارت کی ساکھ بری طرح مجروح ہو چکی ہے۔ سابق واجپائی حکومت نے پاکستان سے بہتر تعلقات کی بنیاد قائم کی تھی۔
امید تھی کہ منموہن سنگھ کی حکومت اسے اور آگے لے جائے گی۔ لیکن ان تعلقات کو دہشت گردی کے حملوں اور کنٹرول لائن پر کشیدگی سے زک پہنہچی۔ پاکستان کی جانب سے مثبت اشاروں کے باوجود حالات بہتر کرنے کے لیے منموہن سنگھ کی حکومت کبھی سیاسی عزم نہ مجتمع کر سکی۔ بھارت اور پاکستان کے تعلقات پچھلے 5 برس سے انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں۔ چین سے بھارت کے تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ چینی فوجیں اکثر بھارتی خطے میں آتی ہیں اور کئی مقامات پر وہ ایسے علاقوں میں بیٹھی ہوئی ہیں جنہیں بھارت اپنا حصہ مانتا ہے۔