کورونا وائرس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ماہرین صحت
احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، وائرس سے ہلاکتوں کی شرح 2 فیصد ہے اس سے زیادہ اموات ڈائریا سے ہوتی ہیں، سعید قریشی
پوری دنیا میں وائرس سے نمٹنے کیلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جی کوفمین، ورکشاپ سے پروفیسر شہلا، پروفیسر سعید خان کا خطاب فوٹو: فائل
ملکی و غیر ملکی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ چین سے پھیلنے والے نوول کرونا وائرس سے گھبرانے کی قطعاَ ضرورت نہیں ہے، احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس وبائی مرض سے بچاجاسکتا ہے۔
دنیا بھر میں 20613 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور اموات427 ہوئیں جبکہ صحتیاب افراد کی تعداد 663 ہے، وائرس سے ہلاکتوں کی شرح 2 فیصد ہے اس سے زیادہ اموات کی شرح ڈائریاکی ہوتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوںنے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور امریکن سوسائٹی فارمائیکرو بیالوجی کے اشتراک سے منعقدہ آگہی ورکشاپ سے خطاب میںکیا، ورکشاپ میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی، امریکی ماہر سین جی کوفمین، پروفیسر وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر کرتارڈوانی، پروفیسر محمد سعید خان، پروفیسر شہلا باقی اور پروفیسر شاہین شرافت نے بھی خطاب کیا۔
پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ نوول کرونا وائرس کی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کراچی میں ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں اور اوجھا انسٹی ٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیز میں آئسولیشن وارڈ قائم کردیے گئے ہیں۔
فی الحال 10مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کاانتظام موجود ہے جبکہ وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانے والے پرائمر کوریا سے منگوالیے گئے ہیں، انھوں نے احتیاطی تدابیر بتاتے ہوئے کہا کہ ہاتھ بار بار دھوئیں، ہینڈ سینیٹائزر لگائیں، 8سے 10گلاس پانی پئیں، 8 گھنٹے کی نیند لازمی لیں، متوازن غذا کھاکر اس مرض اور دیگر متعدی امراض سے بچا جاسکتا ہے، پاکستان میں تاحال نوول کرونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
امریکی ادارے سیفر بی ہوئیر کے سربراہ سین جی کوفمین نے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگرکسی کے بچے یا عزیز رشتے دار چین میں ہیں، تو زیادہ جذباتی نہ ہوں بلکہ جذبات پر قابورکھیں، پوری دنیا بڑے پیمانے پر پھیلنے والے وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، آپ کے پیارے بھی ان اقدامات کے نتیجے میں خیریت سے آپ تک پہنچیں گے، خوف کی حالت میں اختیار کیا گیا نامناسب رویہ خطرات کو بڑھا دے گا۔
پروفیسر محمد سعید خان نے کہا کہ کرونا وائرس سے متاثرہ شخض کو فلو، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری، بخار بھی مستقل طور پر رہتا ہے، متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد کو 14دن آئسولیشن میں رکھنے کی شرط اسی لیے ہے کہ اس کے اثرات ختم ہونے یا ظاہر ہونے میں اتنا عرصہ درکار ہوتا ہے۔
دنیا بھر میں 20613 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور اموات427 ہوئیں جبکہ صحتیاب افراد کی تعداد 663 ہے، وائرس سے ہلاکتوں کی شرح 2 فیصد ہے اس سے زیادہ اموات کی شرح ڈائریاکی ہوتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوںنے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور امریکن سوسائٹی فارمائیکرو بیالوجی کے اشتراک سے منعقدہ آگہی ورکشاپ سے خطاب میںکیا، ورکشاپ میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی، امریکی ماہر سین جی کوفمین، پروفیسر وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر کرتارڈوانی، پروفیسر محمد سعید خان، پروفیسر شہلا باقی اور پروفیسر شاہین شرافت نے بھی خطاب کیا۔
پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ نوول کرونا وائرس کی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کراچی میں ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں اور اوجھا انسٹی ٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیز میں آئسولیشن وارڈ قائم کردیے گئے ہیں۔
فی الحال 10مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کاانتظام موجود ہے جبکہ وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانے والے پرائمر کوریا سے منگوالیے گئے ہیں، انھوں نے احتیاطی تدابیر بتاتے ہوئے کہا کہ ہاتھ بار بار دھوئیں، ہینڈ سینیٹائزر لگائیں، 8سے 10گلاس پانی پئیں، 8 گھنٹے کی نیند لازمی لیں، متوازن غذا کھاکر اس مرض اور دیگر متعدی امراض سے بچا جاسکتا ہے، پاکستان میں تاحال نوول کرونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
امریکی ادارے سیفر بی ہوئیر کے سربراہ سین جی کوفمین نے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگرکسی کے بچے یا عزیز رشتے دار چین میں ہیں، تو زیادہ جذباتی نہ ہوں بلکہ جذبات پر قابورکھیں، پوری دنیا بڑے پیمانے پر پھیلنے والے وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، آپ کے پیارے بھی ان اقدامات کے نتیجے میں خیریت سے آپ تک پہنچیں گے، خوف کی حالت میں اختیار کیا گیا نامناسب رویہ خطرات کو بڑھا دے گا۔
پروفیسر محمد سعید خان نے کہا کہ کرونا وائرس سے متاثرہ شخض کو فلو، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری، بخار بھی مستقل طور پر رہتا ہے، متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد کو 14دن آئسولیشن میں رکھنے کی شرط اسی لیے ہے کہ اس کے اثرات ختم ہونے یا ظاہر ہونے میں اتنا عرصہ درکار ہوتا ہے۔