نیم دلانہ اقدامات نہیں کریک ڈاؤن
ملک کے مختلف شہروں میں ریاستی رٹ اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی مہم میں مصروف سیکیورٹی فورسز کے...
خود منی پاکستان امریکی اخبار ’’لاس اینجلس ٹائمز ‘‘ کی نگاہ میں ملک کی سب سے بڑی جرائم کی آماجگاہ ہے۔ فوٹو :ایکسپریس ۔فائل
ملک کے مختلف شہروں میں ریاستی رٹ اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی مہم میں مصروف سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشتگرد تنظیموں ، انتہا پسند عناصر اوربے لگام گینگسٹرز کی خونریزجھڑپوں ، ہنگامہ آرائیوں اور پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے، صوابی میں پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 2 اہلکار شہید جب کہ شمالی وزیرستان میں بم حملہ میں دو اہلکار زخمی ہوگئے،ایک گھر پر دستی بم حملہ میں خاتون جاں بحق 4 افراد زخمی ہوئے، ملزمان نے چوکی جلادی،گوادر میں پاک ایران سرحد پر نامعلوم مسلح افراد نے کسٹم کے 6 اہلکاروں کو اغوا کرلیا، اغوا کار کسٹم کی 3 گاڑیاں اور اسلحہ بھی چھین کر لے گئے، خاران میں نامعلوم مسلح افراد کے عرب شیوخ کے شکار کیمپ پر حملہ کرنے اور نائب رسالداراور 5 لیویز اہلکاروں کو اسلحہ اور 2 گاڑیوں سمیت اغوا کرنیکی اطلاع ہے ، ایک اور خبر کے مطابق جڑواں شہروں اسلام آباد راولپنڈی میں بھی ایک گروہ نے طالبان کے نام پربھتہ خوری کا بازارسرگرم کررکھا ہے ، جب کہ منی پاکستان کے مخدوش ٹاؤن لیاری میں کئی دنوں سے جاری آپریشن کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا۔
ایک پراسرار اورprolongedآنکھ مچولی جاری ہے، غالباً پراکسی وار لڑی جارہی ہے،بعض مبصرین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ بلوچستان کی جنگ لیاری میں منتقل ہونے والی ہے کیونکہ لیاری پر بالادستی قائم کرنے کے لیے گینگ وارکے دو متحارب گروپوں کے درمیان جمعے کی شب شدید لڑائی شروع ہوئی جوہفتے کی شب تک جاری رہی ، پولیس و رینجرز بے بسی کی تصویر بنے رہے، ان کی بے سمت اور کمزور اسٹریٹجی کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی، علاقے میں ایک پولیس اہلکارسمیت4 افراد کی ہلاکت کے بعد پولیس، رینجرز اورقانون نافذکرنیوالے ادارے حرکت میں آگئے،مگر اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیںتاہم بڑے گینگ وارملزمان کھلے عام جدیداورخود کار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کرنے اور لاشیں گرانے میں مصروف ہیں۔علاقہ میدان جنگ بن کر قانون نافذ کرنے والوں کے لیے ایک مضحکہ خیزسوالیہ نشان بن چکا ہے۔
خود منی پاکستان امریکی اخبار ''لاس اینجلس ٹائمز '' کی نگاہ میں ملک کی سب سے بڑی جرائم کی آماجگاہ ہے،اس کی رپورٹ کے مطابق شہر کے چند خاندان ہوں گے جو جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ ہوں، مقامی سیاسی قائدین اور ان سے منسلک جرائم پیشہ گروہوں پر سخت ہاتھ ڈالا جائے تو بہتری کی امید ممکن ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 10 ہزار پولیس افسران اس وقت ڈیوٹیوں پر حاضر ہیں جن میں سے نصف وی آئی پیز کی حفاظت پر مامور ہیں۔ کراچی میں تقریباً تمام افراد ہی لوٹ مار کا شکار ہوئے۔ درمیانہ طبقہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے، زیادہ تر لوگ گھروں میں ٹھہرنے کو ترجیح دیتے ہیں، شہری پبلک مقامات پر اپنے موبائل فون اور جیولری چھپا کر چلتے ہیں، سیکیورٹی گارڈ بھی اپنے رسک پر رکھے جاتے ہیں، کئی رپورٹس کے مطابق وہ اغوا کاروں کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔ کراچی میں بڑھتا یہ سماجی تناؤ معاشی تقسیم میں اضافہ کر رہا ہے، امریکی میگزین فارن پالیسی نے حال ہی میں اسے دنیا کا خطرنا ک شہر قرار دیا ۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر، اقتصادی انجن اور مالیاتی مرکز ہے جہاں کی پورٹ پر روزانہ ہزاروں کنٹینر جاتے اور آتے ہیں، جہاں نو منزلہ اسٹیل مل اور دنیا کی بہترین اسٹاک ایکسچینج ہے، جہاں تاجر لاکھوں ڈالر کا کاروبار کرتے ہیں تاہم یہ شہر ملک کی سب سے بڑی جرائم کی آماجگاہ ہے ۔ مارچ میں پولیس افسر نیاز کھوسو نے کہا تھا کہ شہر کا نصف حصہ پولیس کے لیے نو گو ایریا ہے۔ ڈرون سے متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے بھی کراچی کا رخ کرلیا ہے۔اس امر میں اب کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک نے ریاست کے اندر ریاست اورا سٹیبلشمنٹ کے علی الرغم اپنی سرکشی اور متوازی قوت کو منوانے میں قتل وغارت کا بازار گرم کررکھا ہے۔ملکی سلامتی پر مامور اداروں کے لیے اس صورتحال کی تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہے۔ارباب اختیار کی طرف سے کریک ڈاؤن کے لیے وقت مسلسل للکار رہا ہے، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے راست اقدام ناگزیر ہے ورنہ نیم دلانہ اقدامات کے نتیجے میں سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔
ایک پراسرار اورprolongedآنکھ مچولی جاری ہے، غالباً پراکسی وار لڑی جارہی ہے،بعض مبصرین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ بلوچستان کی جنگ لیاری میں منتقل ہونے والی ہے کیونکہ لیاری پر بالادستی قائم کرنے کے لیے گینگ وارکے دو متحارب گروپوں کے درمیان جمعے کی شب شدید لڑائی شروع ہوئی جوہفتے کی شب تک جاری رہی ، پولیس و رینجرز بے بسی کی تصویر بنے رہے، ان کی بے سمت اور کمزور اسٹریٹجی کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی، علاقے میں ایک پولیس اہلکارسمیت4 افراد کی ہلاکت کے بعد پولیس، رینجرز اورقانون نافذکرنیوالے ادارے حرکت میں آگئے،مگر اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیںتاہم بڑے گینگ وارملزمان کھلے عام جدیداورخود کار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کرنے اور لاشیں گرانے میں مصروف ہیں۔علاقہ میدان جنگ بن کر قانون نافذ کرنے والوں کے لیے ایک مضحکہ خیزسوالیہ نشان بن چکا ہے۔
خود منی پاکستان امریکی اخبار ''لاس اینجلس ٹائمز '' کی نگاہ میں ملک کی سب سے بڑی جرائم کی آماجگاہ ہے،اس کی رپورٹ کے مطابق شہر کے چند خاندان ہوں گے جو جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ ہوں، مقامی سیاسی قائدین اور ان سے منسلک جرائم پیشہ گروہوں پر سخت ہاتھ ڈالا جائے تو بہتری کی امید ممکن ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 10 ہزار پولیس افسران اس وقت ڈیوٹیوں پر حاضر ہیں جن میں سے نصف وی آئی پیز کی حفاظت پر مامور ہیں۔ کراچی میں تقریباً تمام افراد ہی لوٹ مار کا شکار ہوئے۔ درمیانہ طبقہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے، زیادہ تر لوگ گھروں میں ٹھہرنے کو ترجیح دیتے ہیں، شہری پبلک مقامات پر اپنے موبائل فون اور جیولری چھپا کر چلتے ہیں، سیکیورٹی گارڈ بھی اپنے رسک پر رکھے جاتے ہیں، کئی رپورٹس کے مطابق وہ اغوا کاروں کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔ کراچی میں بڑھتا یہ سماجی تناؤ معاشی تقسیم میں اضافہ کر رہا ہے، امریکی میگزین فارن پالیسی نے حال ہی میں اسے دنیا کا خطرنا ک شہر قرار دیا ۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر، اقتصادی انجن اور مالیاتی مرکز ہے جہاں کی پورٹ پر روزانہ ہزاروں کنٹینر جاتے اور آتے ہیں، جہاں نو منزلہ اسٹیل مل اور دنیا کی بہترین اسٹاک ایکسچینج ہے، جہاں تاجر لاکھوں ڈالر کا کاروبار کرتے ہیں تاہم یہ شہر ملک کی سب سے بڑی جرائم کی آماجگاہ ہے ۔ مارچ میں پولیس افسر نیاز کھوسو نے کہا تھا کہ شہر کا نصف حصہ پولیس کے لیے نو گو ایریا ہے۔ ڈرون سے متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے بھی کراچی کا رخ کرلیا ہے۔اس امر میں اب کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک نے ریاست کے اندر ریاست اورا سٹیبلشمنٹ کے علی الرغم اپنی سرکشی اور متوازی قوت کو منوانے میں قتل وغارت کا بازار گرم کررکھا ہے۔ملکی سلامتی پر مامور اداروں کے لیے اس صورتحال کی تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہے۔ارباب اختیار کی طرف سے کریک ڈاؤن کے لیے وقت مسلسل للکار رہا ہے، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے راست اقدام ناگزیر ہے ورنہ نیم دلانہ اقدامات کے نتیجے میں سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔