نیتن یاہو کی سوڈان کے فوجی سربراہ کے ساتھ ملاقات
سوڈان نے اسرائیل فلسطین تنازعہ میں امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبہ امن کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیلی عہدیدار ایک طرف تو کہیں خفیہ کہیں اعلانیہ طور پر خلیج عرب کے ممالک کے ساتھ اپنے روابط استوار کر کے ان ممالک کے دورے کر رہے ہیں
لاہور:
اسرائیلی عہدیدار ایک طرف تو کہیں خفیہ کہیں اعلانیہ طور پر خلیج عرب کے ممالک کے ساتھ اپنے روابط استوار کر کے ان ممالک کے دورے کر رہے ہیں، دوسری طرف اس نے براعظم افریقہ کے ایک بڑے مسلم ملک سوڈان کے ساتھ بھی سلسلہ جنبانی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کا اعلان سوڈانی فوج کی طرف سے کیا گیا ہے ۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق سوڈان کی حکمران مطلق العنان کونسل کے چیئرمین جنرل عبدالفتح البرہان کی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بغیر پیشی اعلان کے ملاقات ہوئی ہے۔
میڈیا کے مطابق گزشتہ روز جنرل عبدالفتح البرہان نے مطلق العنان کونسل اور اپنے کلیدی وزراء کو اس ملاقات کے بارے میں بریفنگ دی اور کہا کہ انھوں نے سوڈان کی قومی سلامتی کے فروغ کی خاطر نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ البرہان کے لیے فوج کی طرف سے حمایت کا اعلان خرطوم کے آرمی ہیڈ کوارٹرز میں چوٹی کے افسران کی ملاقات کے بعد منظر عام پر آیا۔
فوج کے ترجمان بریگیڈئیر عامر محمد الحسن نے بتایا کہ متذکرہ ملاقات کے سوڈان کی قومی سلامتی پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملک کی فوج برہان نیتن یاہو ملاقات کی حامی ہے۔ عبدالفتح البرہان نے سوڈان کے میڈیا ایڈیٹروں کے ساتھ ملاقات میں بھی اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ اپنی ملاقات کی تفصیل پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ملاقات کی بنیادی وجہ سوڈان کے لیے چند کلیدی مفادات کا حصول تھا تاہم انھوں نے ان مفادات پر روشنی نہیں ڈالی۔ نیتن یاہو کی سوڈانی لیڈر کے ساتھ ملاقات پر اسرائیلی وزارت عظمیٰ کے دفتر سے بتایا گیا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو دیکھنا چاہتے تھے کہ سابق حکمران عمر البشیر کے بعد سوڈان کی صورتحال میں کیا بہتری آئی ہے۔
فلسطینی تنظیم آزادی پی ایل او نے نیتن یاہو اور البرہان کی ملاقات کو فلسطینی عوام کی پیٹھ پر خنجر کھونپنے کے مترادف قرار دیا۔ واضح رہے سوڈان عرب لیگ کا رکن بھی ہے جس نے قاہرہ میں ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں اسرائیل فلسطین تنازعہ میں امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبہ امن کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیلی عہدیدار ایک طرف تو کہیں خفیہ کہیں اعلانیہ طور پر خلیج عرب کے ممالک کے ساتھ اپنے روابط استوار کر کے ان ممالک کے دورے کر رہے ہیں، دوسری طرف اس نے براعظم افریقہ کے ایک بڑے مسلم ملک سوڈان کے ساتھ بھی سلسلہ جنبانی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کا اعلان سوڈانی فوج کی طرف سے کیا گیا ہے ۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق سوڈان کی حکمران مطلق العنان کونسل کے چیئرمین جنرل عبدالفتح البرہان کی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بغیر پیشی اعلان کے ملاقات ہوئی ہے۔
میڈیا کے مطابق گزشتہ روز جنرل عبدالفتح البرہان نے مطلق العنان کونسل اور اپنے کلیدی وزراء کو اس ملاقات کے بارے میں بریفنگ دی اور کہا کہ انھوں نے سوڈان کی قومی سلامتی کے فروغ کی خاطر نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ البرہان کے لیے فوج کی طرف سے حمایت کا اعلان خرطوم کے آرمی ہیڈ کوارٹرز میں چوٹی کے افسران کی ملاقات کے بعد منظر عام پر آیا۔
فوج کے ترجمان بریگیڈئیر عامر محمد الحسن نے بتایا کہ متذکرہ ملاقات کے سوڈان کی قومی سلامتی پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملک کی فوج برہان نیتن یاہو ملاقات کی حامی ہے۔ عبدالفتح البرہان نے سوڈان کے میڈیا ایڈیٹروں کے ساتھ ملاقات میں بھی اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ اپنی ملاقات کی تفصیل پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ملاقات کی بنیادی وجہ سوڈان کے لیے چند کلیدی مفادات کا حصول تھا تاہم انھوں نے ان مفادات پر روشنی نہیں ڈالی۔ نیتن یاہو کی سوڈانی لیڈر کے ساتھ ملاقات پر اسرائیلی وزارت عظمیٰ کے دفتر سے بتایا گیا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو دیکھنا چاہتے تھے کہ سابق حکمران عمر البشیر کے بعد سوڈان کی صورتحال میں کیا بہتری آئی ہے۔
فلسطینی تنظیم آزادی پی ایل او نے نیتن یاہو اور البرہان کی ملاقات کو فلسطینی عوام کی پیٹھ پر خنجر کھونپنے کے مترادف قرار دیا۔ واضح رہے سوڈان عرب لیگ کا رکن بھی ہے جس نے قاہرہ میں ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں اسرائیل فلسطین تنازعہ میں امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبہ امن کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔