ہڑتال سے پورٹس چوک برآمدی کنسائمنٹس کیلیے جگہ نہیں

ٹرمینلزآپریٹرز نے درآمدی کنٹینرز کی نکاسی کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا

برآمدی مال کے ٹرک روڈپرکھڑے ہیں،ہڑتال سے نقصان حکومتی غفلت کا نتیجہ ہے،ارشدجمال فوٹو : آن لائن

حکومت کی غفلت اور لاپروائی کی وجہ سے قومی خزانہ کو اربوں روپے مالیت کا نقصان ہواہے جبکہ کراچی اورپورٹ قاسم کی بندرگاہیں چوک ہوگئی ہیں۔

جس کے باعث درآمدوبرآمدکنندگان کو شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ یہ بات پاکستان اکانومی فورم کے چیئرمین ارشدجمال نے پیر کو صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹر کی جانب سے جس وقت ہڑتال کا عندیہ دیاگیاتھا حکومت کو اسی وقت ٹرانسپورٹرز سے مذاکرات کرکے ان کے مسائل حل کرناچاہیے تھے تاہم حکومت کی غفلت اورلاپروائی کے باعث اربوں روپے کانقصان ہواجس کے معیشت پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے بتایاکہ اس وقت کراچی اورپورٹ قاسم پر ہزاروں کی تعدادمیں درآمدی کنسائنمنٹس کے کنٹینرز موجود ہیں ۔




جس کی وجہ سے تینوں ٹرمینلزمکمل طورپرچوک ہوچکے ہیں جبکہ برآمدکیے جانے والے کنسائنمنٹس کے ٹرک روڈ پر بے یارومدگارپڑے ہیں کیونکہ جب تک درآمدی کنسائنمنٹس کے کنٹینرزکا بیک لاگ پورٹ سے ختم نہیں ہوگا برآمدی کنسائمنٹس کے کنٹینرزپورٹ کے اندرداخل نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی غفلت کے باعث نہ صرف بیرون ملک پاکستان کی بدنامی ہوئی بلکہ کروڑوں ڈالر کی برآمدات بھی متاثرہوئیں ۔

جبکہ ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے ہڑتال سے پیداہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی لائحہ عمل تیارنہیں کیااورنہ ہی ہڑتال کے دورانیہ کا ڈیمرج ختم کرنے کا کوئی اعلان کیا۔ ارشدجمال نے کہاکہ حکومت کو اپنی غفلت اورلاپروائی کا ازلہ کرتے ہوئے ہڑتال کے ایام اوراس کے بعد کم از کم مزید 7یوم کا ڈیمرج معاف کرنے کے احکام جاری کرے تاکہ ٹیکس گزاروں کی بزنس کاسٹ میں اضافہ ختم ہوسکے، اسی طرح وزارت پورٹ اینڈشپنگ مذکورہ عرصے کے بھاری کنٹینرز ڈیٹینشن چارجزکو بھی ختم کرنے کا اعلان کرے۔
Load Next Story