ایک کلو وزن گھٹانے سے ذیابیطس کا امکان16فیصد کم ہو جاتا ہے
پاکستان سمیت دنیا بھر میں371ملین افراد ذیابیطس کا شکار ہیں، پروفیسر زمان شیخ،پروفیسر جعفر نقوی،صمد شیرا اور دیگر
عالمی یوم ذیا بیطس پر ڈایابٹیس ایسوسی ایشن کے منعقدہ سیمینار سے پروفیسر صمد شیرا خطاب کررہے ہیں ۔فوٹو : ایکسپریس
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذیابیطس کا مرض ہولناک صورت اختیار کررہا ہے۔
اس مرض کی شدت میں اضافے کی بنیادی وجہ عدم توجہی بھی ہے، ذیابیطس خاموش قاتل مرض ہے، موٹاپا انسولین کو بھی غیر موثر کردیتا ہے، ایک کلو گرام وزن کم کرنے سے اس مرض کے لاحق ہونے میں 16فیصد کمی واقع ہوجاتی ہے، ان خیالات کا اظہار مختلف ماہرین نے ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان اورعالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ان ماہرین طب میں پروفیسر صمد شیرا، پروفیسر زمان شیخ، پروفیسر جعفر نقوی اور پروفیسر صالح میمن سمیت دیگر شامل تھے۔
ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر صمد شیرا نے کہاکہ ذیابیطس اکیسویں صدی کا سب سے بڑاچیلنج ہے، انھوں نے کہاکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں 371ملین افراد اس مرض کا شکار ہیں، اگر اس مرض پر قابو نہ پایاگیا تو2013میں تعداد نصف بلین ہوجائیگی۔
انھوں نے کہاکہ پاکستان میں66ملین افراد اس مرض کا شکار ہیں، موٹاپا اس مرض کی بنیادی وجہ ہے اور موٹے افراد پاکستان سمیت ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ہیں، ان کا کہنا تھا کہ بچوں میں موٹاپے کی وجہ سے ذیابیطس قسم دوم لاحق ہونے کا واضح امکان ہوتا ہے۔
جسمانی ورزش اورمتوازن غذا استعمال کرکے اس مرض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے ، سرسید اسپتال اور سابق ڈائریکٹر نیشنل ڈائیبٹک پروفیسر زمان شیخ نے کہاکہ پاکستان میں موٹاپا اور ذیابیطس کا مرض دونوں کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، پروفیسر زمان شیخ کا کہنا تھا کہ ایک کلو گرام وزن کم کرنے سے اس مرض کے لاحق ہونے میں16فیصد کمی واقع ہوجاتی ہے، معروف امراض چشم پروفیسر صالح میمن نے کہا کہ اس مرض کی وجہ سے آنکھوں کے پردے شدید متاثر ہوجاتے ہیں اور پاکستان میں اس مرض کی وجہ سے 2 لاکھ 40 ہزار مریضوں کے آنکھوں کے پردے خراب ہیں، ذیابیطس کے مریض آنکھوں کا ضرور معائنہ کرائیں، کڈنی فاؤنڈیشن کے پروفیسر جعفر نقوی نے کہاکہ ذیابیطس کی وجہ سے گردے بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔
اس مرض کی شدت میں اضافے کی بنیادی وجہ عدم توجہی بھی ہے، ذیابیطس خاموش قاتل مرض ہے، موٹاپا انسولین کو بھی غیر موثر کردیتا ہے، ایک کلو گرام وزن کم کرنے سے اس مرض کے لاحق ہونے میں 16فیصد کمی واقع ہوجاتی ہے، ان خیالات کا اظہار مختلف ماہرین نے ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان اورعالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ان ماہرین طب میں پروفیسر صمد شیرا، پروفیسر زمان شیخ، پروفیسر جعفر نقوی اور پروفیسر صالح میمن سمیت دیگر شامل تھے۔
ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر صمد شیرا نے کہاکہ ذیابیطس اکیسویں صدی کا سب سے بڑاچیلنج ہے، انھوں نے کہاکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں 371ملین افراد اس مرض کا شکار ہیں، اگر اس مرض پر قابو نہ پایاگیا تو2013میں تعداد نصف بلین ہوجائیگی۔
انھوں نے کہاکہ پاکستان میں66ملین افراد اس مرض کا شکار ہیں، موٹاپا اس مرض کی بنیادی وجہ ہے اور موٹے افراد پاکستان سمیت ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ہیں، ان کا کہنا تھا کہ بچوں میں موٹاپے کی وجہ سے ذیابیطس قسم دوم لاحق ہونے کا واضح امکان ہوتا ہے۔
جسمانی ورزش اورمتوازن غذا استعمال کرکے اس مرض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے ، سرسید اسپتال اور سابق ڈائریکٹر نیشنل ڈائیبٹک پروفیسر زمان شیخ نے کہاکہ پاکستان میں موٹاپا اور ذیابیطس کا مرض دونوں کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، پروفیسر زمان شیخ کا کہنا تھا کہ ایک کلو گرام وزن کم کرنے سے اس مرض کے لاحق ہونے میں16فیصد کمی واقع ہوجاتی ہے، معروف امراض چشم پروفیسر صالح میمن نے کہا کہ اس مرض کی وجہ سے آنکھوں کے پردے شدید متاثر ہوجاتے ہیں اور پاکستان میں اس مرض کی وجہ سے 2 لاکھ 40 ہزار مریضوں کے آنکھوں کے پردے خراب ہیں، ذیابیطس کے مریض آنکھوں کا ضرور معائنہ کرائیں، کڈنی فاؤنڈیشن کے پروفیسر جعفر نقوی نے کہاکہ ذیابیطس کی وجہ سے گردے بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔