پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کیلئے ’’پنچنگ بیگ‘‘ بن گئی

رواں سال تیسری سیریزمیں پلیئرز حریف کے رحم و کرم پر ہوں گے، عمدہ کارکردگی سے ناقص کھیل کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں، کپتان

پروٹیز نے سیریز سے مالی فوائد حاصل کرنے کے ساتھ مزید فتوحات سمیٹنے کی بھی تیاری کر لی، ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کے لیے فاتح اسکواڈ برقرار رکھنے کا فیصلہ فوٹو: گیٹی امیجز/فائل

پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کیلیے ''پنچنگ بیگ'' بن گئی، رواں سال تیسری سیریز کا انعقاد ہوگا۔

اس دوران بیشتر مقابلوں میں ہار ہی گرین شرٹس کا مقدر بنی، یو اے ای میں بدترین ناکامیوں کے بعد اب پلیئرز کا اعتماد بالکل ختم ہو چکا، ایسے میں حالیہ سیریز سخت امتحان ثابت ہو گی، گذشتہ روز ٹیم نے پریکٹس کا سلسلہ شروع کر دیا، اس موقع پر محمد حفیظ نے روایتی انداز میں بہتر کھیل کا عزم ظاہر کیا، دوسری جانب پروٹیز نے سیریز سے مالی فوائد حاصل کرنے کے ساتھ مزید فتوحات سمیٹنے کی بھی تیاری کر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق یو اے ای میں سیریز ختم ہونے کے5روز بعد دونوں ٹیمیں جوہانسبرگ میں ڈیرے ڈال چکیں،پہلا ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل بدھ کو جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا۔

جمعے کو مختصر طرز کا دوسرا میچ ہونا ہے، اس کے بعد3ون ڈے میچز کی سیریز کھیلی جائے گی، بھارت کی جانب سے دورہ مختصر کیے جانے پر عجلت میں اس سیریز کا انعقاد کیا گیا، رواں سال پاک پروٹیز سائیڈز تیسری بار سیریز میں آمنے سامنے ہوں گی، جنوری سے مارچ کے درمیان 3 ٹیسٹ،5 ون ڈے اور2ٹوئنٹی مقابلے ہوئے، جمعے کو ختم ہونے والی جوابی سیریز میں دونوں ٹیمیں 2 ٹیسٹ، 5ون ڈے اور2ٹی ٹوئنٹی میں آمنے سامنے آئیں، حالیہ میچز کا تمام تر فائدہ پروٹیز کو ہی ہو گا، اسے بھارت سے سیریز کے 10ملین ڈالر خسارے کو کم کرنے کے ساتھ رینکنگ بھی بہتر بنانے کا موقع مل رہا ہے، یاد رہے کہ بھارت نے ابتدائی شیڈول سے4ون ڈے اور 2 ٹوئنٹی20کم کیے ہیں۔ ٹیسٹ کی نمبر ون جنوبی افریقی ٹیم ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں اوسط ریکارڈ کی مالک ہے۔

البتہ یو اے ای میں اس نے پاکستان کیخلاف دونوں طرز میں بالترتیب 4-1اور2-0سے فتح کو گلے لگایا، دوسری جانب ہار ہار کر گرین شرٹس کا اعتماد بالکل ختم ہو گیا، ایسے میں بورڈ نے ایک بار پھر مشکل کنڈیشنز میں پروٹیز سے مقابلے کے لیے بھیج دیا، پلیئرز اس پر سخت ناخوش ہیں۔




البتہ حالیہ ناقص کارکردگی کے سبب کوئی اس پوزیشن میں نہیں کہ آواز اٹھا سکے، گذشتہ روز گرین شرٹس نے نیٹ پریکٹس کا آغاز کر دیا، اس دوران ڈیو واٹمور نے بے دلی سے پلیئرز کو بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ پریکٹس کرائی، حفیظ نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ہم عمدہ کارکردگی سے سابقہ ناقص کھیل کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں، رواں سال ہی یہاں اچھا کھیل پیش کر چکے اور دوبارہ ایسا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، یاد رہے کہ مذکورہ سیریز کا پہلا ٹی ٹوئنٹی بارش کی نذر ہونے کے بعد دوسرا پاکستان نے جیت لیا تھا۔

محمد حفیظ نے اس میں آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے86رنز بنانے کے بعد3وکٹیں حاصل کر کے مین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کیا تھا، اس مقابلے میں 6رنز دے کر5 وکٹیں لینے والے پیسر عمر گل فٹنس مسائل کے سبب ان دنوں ٹیم سے باہر ہیں، ون ڈے سیریز بھی پاکستان نے فائٹ کرتے ہوئے2-3 سے گنوائی تھی۔ دوسری جانب کوچ ڈیوواٹمور اب معاہدہ ختم ہونے کا دن گن گن کر انتظار کر رہے ہیں، وہ گذشتہ سیریز میں صہیب مقصود کے کھیل سے بیحد متاثر نظر آتے ہیں، واٹمور کو حفیظ، احمد شہزاد اور عمر اکمل سے بھی عمدہ کارکردگی کی توقع ہے، گرین شرٹس کو فاسٹ بولر محمد عرفان کا ساتھ حاصل نہ ہو گا، وہ یو اے ای میں دوسرے ٹی ٹوئنٹی کے دوران ہپ انجری کا شکار ہوئے، کوچ نے اسے مایوس کن قرار دیتے ہوئے توقع ظاہر کی پیس اٹیک میں شامل دیگر کھلاڑی عرفان کی کمی محسوس نہیں ہونے دیں گے۔

دوسری جانب جنوبی افریقہ نے سیریز کے لیے فاتح اسکواڈ کو برقرار رکھا، البتہ ون ڈے میچز میں تجربہ کار آل راؤنڈر جیک کیلس کی واپسی متوقع ہے، انھوں نے فروری2012سے اس طرز کے کسی میچ میں حصہ نہیں لیا۔ پاک پروٹیز ٹیمیں اب تک 9میچز میں مدمقابل آ چکیں، ان میں سے 5 میزبان اور 4مہمان سائیڈ نے جیتے، سعید اجمل 8 مقابلوں میں 11وکٹوں کے ساتھ ٹاپ پر ہیں، حریف ٹیم کے ڈیل اسٹین نے 10پلیئرز کو ٹھکانے لگانے کیلیے صرف5میچز میں ہی حصہ لیا، بیٹنگ میں عمر اکمل 184اور شاہد آفریدی 159 رنز کے ساتھ نمایاں پاکستانی پلیئرز ہیں، پال ڈومنی نے جنوبی افریقہ کی جانب سے سب سے زیادہ156رنز اسکور کیے۔
Load Next Story