حکومت عوام کاپیسہ واپس لانے میں مخلص نہیں سپریم کورٹ

بینک قرضہ کیس میں کمیشن کی رپورٹ پرسیکرٹری خزانہ سے جواب طلب

بینک قرضہ کیس میں کمیشن کی رپورٹ پرسیکرٹری خزانہ سے جواب طلب فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے 1961 سے2009 تک بنکوں سے اربوں روپے کے قرضے معاف کرانے کے مقدمے میں کہا ہے کہ ملک کا ہر ادارہ کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے۔

ماتحت عدلیہ سمیت کوئی مقدس گائے نہیں، کسی کو بھی ملکی دولت لوٹنے کی اجازت نہیں دیں گے، چیف جسٹس نے کہا مک مکا کا کلچر پروان چڑھ چکا ہے، بڑے بڑے ادارے بھی کرپشن سے محفوظ نہیں، کمیشن کی سفارشات کے باوجود اب تک کوئی قابل ذکرکارروائی عمل میں نہیں آئی اور نیب نے ابھی تک ملزمان کیخلاف کارروائی نہیں کی، ڈنگ ٹپاؤ پالیسی نہیں چلے گی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا حکومت عوام کا پیسہ واپس لانے میں مخلص نہیں اور نہ دلچسپی لے رہی ہے۔




9ماہ میں بچہ پیدا ہوجاتا ہے مگر قرضوں کی واپسی کا کچھ بھی نہیں کیا گیا۔عدالت نے قرضوں کی معافی کے حوالے سے کمیشن کی رپورٹ پر سیکریٹری خزانہ سے تفصیلی جواب طلب کرلیا اور اٹارنی جنرل کومعاون کاکہا ہے۔ خواجہ حارث نے کمیشن کی رپورٹ پرکہا کل281ارب روپے معاف کرائے گئے،225 کیسزکی مزید تحقیقات کیلیے کمیشن نے حکم جاری کر رکھا ہے ۔
Load Next Story