بچوں سے زیادتی اور قتل کے سانحات
جنسی تشدد کا نشانہ بنانے اور وحشیانہ طریقے سے قتل کرنے کی جتنی سخت سزا دی جا سکتی ہے وہ ضرور دینی چاہیے۔
جنسی تشدد کا نشانہ بنانے اور وحشیانہ طریقے سے قتل کرنے کی جتنی سخت سزا دی جا سکتی ہے وہ ضرور دینی چاہیے۔ فوٹو:فائل
قومی اسمبلی نے نوشہرہ کی آٹھ سالہ بچی عوض نور کے وحشیانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے ایسے شرمناک اور سفاکی سے قتل کے واقعات کو روکنے کے لیے زیادتی کے بعد قتل کرنے والوں کو نہ صرف سزائے موت دی جائے بلکہ سرعام پھانسی دی جا ئے۔ قرار داد وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے پیش کی جسے ایوان نے کثرت رائے سے قرار داد کی منظوری دی جب کہ پیپلزپارٹی نے اس کی مخالفت کی۔
قرارداد پر رکن اسمبلی عمران خٹک ، اعجاز شاہ اور مولانا عبدالاکبر چترالی سمیت چھ ممبران کے دستخط ہیں۔علی محمد خان نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے والوں کو پھانسی کی سزا دی جائے، انہون نے کہا کہ یہ معاملہ انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں بھی زیر بحث آیا تھا لیکن پیپلز پارٹی نے سزائے موت کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔
جرم وسزا کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو بچے معصومیت کی تصویر ہوتے ہیں، انھیں جنسی تشدد کا نشانہ بنانے اور وحشیانہ طریقے سے قتل کرنے کی جتنی سخت سزا دی جا سکتی ہے وہ ضرور دینی چاہیے، کوئی ایسا بے رحم قاتل رحم کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ لیکن جرم و سزا کا سماجی اور ملکی سیاق و سباق انتہائی درد انگیزہے، ایک طرف وحشیانہ عمل کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بہیمانہ جرائم نے معاشرے کو جہنم زار بنا دیا ہے، ایک طرف متشددانہ رویوں ، عدم رواداری، جنسی کجروی اور مجموعی اخلاقی بحران نے معاشرے کی صورت بگاڑ دی ہے، دوسری جانب معاشی ناہمواری، انصاف کی فراہمی کے جاں گسل پروسیس، مجرموں تک پہنچنے کی پولیس کی صلاحیتوں ، شفاف تحقیقات، فالٹ فری تفتیش و پراسیکیوشن کے موثر میکنزم کے فقدان نے فراہمی انصاف کو ایک سوالیہ نشان بنا دیا ہے، اس لیے معصوم عوض نور کے شرمناک اور سفاکی سے قتل کے سانحہ پر قانون کو رستہ ملنا چاہیے۔
بچوں اور خواتین پر ظلم و تشدد اور ان کی بے حرمتی، قتل اور توہین کے واقعات پر ہمارے سر جھک جاتے ہیں ، اس سانحہ سے قبل قصور کی معصوم بچی زینب کے ساتھ ہونے والا واقعہ کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
ارباب اختیار اور ماہرین قانون وآئین کو سوچنا ہو گا کہ من حیث القوم ہمیں اس وقت کیا کرنا چاہیے، قوم کی دل گرفتگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے فہمیدہ حلقے، اور وفاقی و صوبائی حکومتیں جرم وسزا کے حساس موضوع پر بھی ایک پیچ پر آئیں، اور پوری ہم آہنگی، اتفاق رائے سے سماجی انارکی، اخلاقی زوال اور تشدد کی ہر شکل کی مذمت کریں ۔ اور تسلیم کریں کہ جمہوری اسپرٹ کے ساتھ معاشرتی خرابیوں، اور جرائم کے سدباب کے لیے پورے نظام کی تطہیر کے لیے فکری وحدت اور جرائم سے پاک معاشرے کے لیے زمینی حقائق کا ادراک ناگزیر ہے۔
اس میں دو رائے نہیں کہ معاشرتی تقسیم نے ہمہ جہتی مسائل پیدا کیے ہیں، جرائم کی دنیا سمٹنے کے بجائے پھیلی جا رہی ہے، اسٹریٹ کرائم کو کنٹرول کرنا مشکل ہو رہاہے، اور یہ تو دردناک ناکی کا سانحہ ہے جب کہ جرائم سے پاک معاشرہ اور انصاف سماج کے اجتماعی ضمیر سے عبارت ہے، اہل سیاست کو جرم وسزا کے مروجہ تناظر کو قانون کی روشنی مین جذبات سے بالا تر رہتے ہوئے اس بات کو یقینی بنان چاہیے کہ معصوم عوض نور کو بلا تاخیر انصاف ملے۔ لیکن قانونی تقاضوں اور انسانی جذبات کے درمیان ہمیں دور اندیشانہ اقدامات کی تائید کرنی چاہیے۔
قومی اسمبی کی قرارداد پر رد عمل کے حوالہ سے پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جن عالمی چارٹرز پر پاکستان نے دستخط کر رکھے ہیں وہ سرعام پھانسی کی اجازت نہیں دیتے ' معصوم بچیوں سے زیادتی کے ملزم کو عمرقید کی سزا دیں اور ضمانت نہ ہونے دیں تا کہ وہ ساری عمر جیل میں رہے 'سرعام پھانسی کی تجویز پر غور و فکر کر لیں ' اس سزا سے کئی ممالک ناراض ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سزائیں زیادہ کرنے سے جرائم ختم نہیں ہوتے' جن جرائم کی سزا موت ہے کیا وہ رک گئے ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے دو وفاقی وزراء نے بھی سرعام پھانسی کی سزا کی مخالفت کر دی ہے۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے اپنے بیان میں سرعام پھانسی سے متعلق قرارداد کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں سرعام پھانسی سے متعلق پاس ہونے والی قرارداد پارٹی کی حدود سے باہر تھی' اس قرارداد کو حکومتی سرپرستی حاصل نہیں تھی بلکہ یہ ایک انفرادی عمل تھا، ہم میں سے بہت سے افراد نے اس کی مخالفت کی ہے تاہم میں میٹنگ میں ہونے کی وجہ سے قومی اسمبلی نہیں جا سکی۔
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کے قوانین تشدد پسند معاشروں میں بنتے ہیں' بربریت سے آپ جرائم کے خلاف نہیں لڑ سکتے ، یہ انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں یہ سب ہو چکا ہے، اس طرح کی سزائیں قبائلی معاشروں میں ہوتی ہیں جہاں انسان اور جانور ایک برابر ہیں' مہذب معاشرے مجرموں کو سزا سے پہلے جرم روکنے کی تدبیر کرتے ہیں' ایسی سزاؤں سے معاشرے بے حس ہو جاتے ہیں اور سزا اپنا اثر کھو دیتی ہے۔
بلاشبہ ضرورت ایک انفرادی سانحہ سے متعلق نہیں، یہ کولیٹرل ڈیمیج کا مسئلہ ہے، معاشری انحطاط اور اخلاقی زبوں حالی کے المیہ سے نمٹنے کا ہے، حکومت اور اہل سیاست پوری سنجیدگی سے سسٹم کے قانونی سقوم کو دور کرنے کی تدبیر کریں، پولیس کی شفاف تحقیقات، تفتیش اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دلانے کے لیے بنیادی اقدامات پر توجہ دیں، جرائم کی تفتیش میں آج بھی ہماری پولیس تھڑد ڈگری ''تشدد'' کے طریقے استعمال کرتی ہے جب کہ دنیا مجرموں کے جیل ریمانڈ سے لے کر نفسیاتی سوال جواب، ڈی این اے ، فرانزک اور لیب کی صدہا سہولتوں سے تفتیش کے مراحل طے کرتے ہیں، مجرم قانون اور عدالتی ''ڈیو پروسیس'' کو دھوکا نہیں دے سکتا، ڈی این اے اور فرانزک سمیت دیگر تفتیشی طریقے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں متعارف نہیں، سندھ آج تک کاروکاری اور عزت کے نام پر قتل و غارت نہیں روک سکا۔
سب جانتے ہیں کہ کمزور سوشل سسٹم نے ایک منافقانہ کلچر جنم دیا ہے، جو کیسز بے حرمتی، زیادتی اور بہیمانہ قتل سے متعلق ہوتے ہیں، ان کے متاثرین زندہ در گور ہو جاتے ہیں، خواتین اپنے خلاف مجرمانہ وارداتوں اور شرمناک واقعات کی پولیس کو رپورٹ لکھواتے ہوئے جن مراحل سے گزرتی ہیں وہ ناقابل بیان ہیں، جرائم کی دنیا بے خوف مجرموں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے، وزارت داخلہ کی جانب سے سال 2019میں ملک بھر میںجرائم کی تفصیل قومی اسمبلی میں پیش کی گئی جس کے مطابق سال 2019میں 7 لاکھ77 ہزار2 سو51 جرائم ہوئے۔
اب ضرورت ہے کہ ارباب اختیار ، پولیس، عدلیہ اور سیاستدان معاشرے میں جرائم اور غیر انسانی واقعات کی روک تھام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور سماجی محرومیوں معاشی اور جنسی ناآسودگیوں کے خاتمے کے لیے حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے کا پیدا ہونا لازمی ہے، یہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجنی چاہیے۔
قرارداد پر رکن اسمبلی عمران خٹک ، اعجاز شاہ اور مولانا عبدالاکبر چترالی سمیت چھ ممبران کے دستخط ہیں۔علی محمد خان نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے والوں کو پھانسی کی سزا دی جائے، انہون نے کہا کہ یہ معاملہ انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں بھی زیر بحث آیا تھا لیکن پیپلز پارٹی نے سزائے موت کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔
جرم وسزا کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو بچے معصومیت کی تصویر ہوتے ہیں، انھیں جنسی تشدد کا نشانہ بنانے اور وحشیانہ طریقے سے قتل کرنے کی جتنی سخت سزا دی جا سکتی ہے وہ ضرور دینی چاہیے، کوئی ایسا بے رحم قاتل رحم کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ لیکن جرم و سزا کا سماجی اور ملکی سیاق و سباق انتہائی درد انگیزہے، ایک طرف وحشیانہ عمل کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بہیمانہ جرائم نے معاشرے کو جہنم زار بنا دیا ہے، ایک طرف متشددانہ رویوں ، عدم رواداری، جنسی کجروی اور مجموعی اخلاقی بحران نے معاشرے کی صورت بگاڑ دی ہے، دوسری جانب معاشی ناہمواری، انصاف کی فراہمی کے جاں گسل پروسیس، مجرموں تک پہنچنے کی پولیس کی صلاحیتوں ، شفاف تحقیقات، فالٹ فری تفتیش و پراسیکیوشن کے موثر میکنزم کے فقدان نے فراہمی انصاف کو ایک سوالیہ نشان بنا دیا ہے، اس لیے معصوم عوض نور کے شرمناک اور سفاکی سے قتل کے سانحہ پر قانون کو رستہ ملنا چاہیے۔
بچوں اور خواتین پر ظلم و تشدد اور ان کی بے حرمتی، قتل اور توہین کے واقعات پر ہمارے سر جھک جاتے ہیں ، اس سانحہ سے قبل قصور کی معصوم بچی زینب کے ساتھ ہونے والا واقعہ کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
ارباب اختیار اور ماہرین قانون وآئین کو سوچنا ہو گا کہ من حیث القوم ہمیں اس وقت کیا کرنا چاہیے، قوم کی دل گرفتگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے فہمیدہ حلقے، اور وفاقی و صوبائی حکومتیں جرم وسزا کے حساس موضوع پر بھی ایک پیچ پر آئیں، اور پوری ہم آہنگی، اتفاق رائے سے سماجی انارکی، اخلاقی زوال اور تشدد کی ہر شکل کی مذمت کریں ۔ اور تسلیم کریں کہ جمہوری اسپرٹ کے ساتھ معاشرتی خرابیوں، اور جرائم کے سدباب کے لیے پورے نظام کی تطہیر کے لیے فکری وحدت اور جرائم سے پاک معاشرے کے لیے زمینی حقائق کا ادراک ناگزیر ہے۔
اس میں دو رائے نہیں کہ معاشرتی تقسیم نے ہمہ جہتی مسائل پیدا کیے ہیں، جرائم کی دنیا سمٹنے کے بجائے پھیلی جا رہی ہے، اسٹریٹ کرائم کو کنٹرول کرنا مشکل ہو رہاہے، اور یہ تو دردناک ناکی کا سانحہ ہے جب کہ جرائم سے پاک معاشرہ اور انصاف سماج کے اجتماعی ضمیر سے عبارت ہے، اہل سیاست کو جرم وسزا کے مروجہ تناظر کو قانون کی روشنی مین جذبات سے بالا تر رہتے ہوئے اس بات کو یقینی بنان چاہیے کہ معصوم عوض نور کو بلا تاخیر انصاف ملے۔ لیکن قانونی تقاضوں اور انسانی جذبات کے درمیان ہمیں دور اندیشانہ اقدامات کی تائید کرنی چاہیے۔
قومی اسمبی کی قرارداد پر رد عمل کے حوالہ سے پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جن عالمی چارٹرز پر پاکستان نے دستخط کر رکھے ہیں وہ سرعام پھانسی کی اجازت نہیں دیتے ' معصوم بچیوں سے زیادتی کے ملزم کو عمرقید کی سزا دیں اور ضمانت نہ ہونے دیں تا کہ وہ ساری عمر جیل میں رہے 'سرعام پھانسی کی تجویز پر غور و فکر کر لیں ' اس سزا سے کئی ممالک ناراض ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سزائیں زیادہ کرنے سے جرائم ختم نہیں ہوتے' جن جرائم کی سزا موت ہے کیا وہ رک گئے ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے دو وفاقی وزراء نے بھی سرعام پھانسی کی سزا کی مخالفت کر دی ہے۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے اپنے بیان میں سرعام پھانسی سے متعلق قرارداد کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں سرعام پھانسی سے متعلق پاس ہونے والی قرارداد پارٹی کی حدود سے باہر تھی' اس قرارداد کو حکومتی سرپرستی حاصل نہیں تھی بلکہ یہ ایک انفرادی عمل تھا، ہم میں سے بہت سے افراد نے اس کی مخالفت کی ہے تاہم میں میٹنگ میں ہونے کی وجہ سے قومی اسمبلی نہیں جا سکی۔
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کے قوانین تشدد پسند معاشروں میں بنتے ہیں' بربریت سے آپ جرائم کے خلاف نہیں لڑ سکتے ، یہ انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں یہ سب ہو چکا ہے، اس طرح کی سزائیں قبائلی معاشروں میں ہوتی ہیں جہاں انسان اور جانور ایک برابر ہیں' مہذب معاشرے مجرموں کو سزا سے پہلے جرم روکنے کی تدبیر کرتے ہیں' ایسی سزاؤں سے معاشرے بے حس ہو جاتے ہیں اور سزا اپنا اثر کھو دیتی ہے۔
بلاشبہ ضرورت ایک انفرادی سانحہ سے متعلق نہیں، یہ کولیٹرل ڈیمیج کا مسئلہ ہے، معاشری انحطاط اور اخلاقی زبوں حالی کے المیہ سے نمٹنے کا ہے، حکومت اور اہل سیاست پوری سنجیدگی سے سسٹم کے قانونی سقوم کو دور کرنے کی تدبیر کریں، پولیس کی شفاف تحقیقات، تفتیش اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دلانے کے لیے بنیادی اقدامات پر توجہ دیں، جرائم کی تفتیش میں آج بھی ہماری پولیس تھڑد ڈگری ''تشدد'' کے طریقے استعمال کرتی ہے جب کہ دنیا مجرموں کے جیل ریمانڈ سے لے کر نفسیاتی سوال جواب، ڈی این اے ، فرانزک اور لیب کی صدہا سہولتوں سے تفتیش کے مراحل طے کرتے ہیں، مجرم قانون اور عدالتی ''ڈیو پروسیس'' کو دھوکا نہیں دے سکتا، ڈی این اے اور فرانزک سمیت دیگر تفتیشی طریقے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں متعارف نہیں، سندھ آج تک کاروکاری اور عزت کے نام پر قتل و غارت نہیں روک سکا۔
سب جانتے ہیں کہ کمزور سوشل سسٹم نے ایک منافقانہ کلچر جنم دیا ہے، جو کیسز بے حرمتی، زیادتی اور بہیمانہ قتل سے متعلق ہوتے ہیں، ان کے متاثرین زندہ در گور ہو جاتے ہیں، خواتین اپنے خلاف مجرمانہ وارداتوں اور شرمناک واقعات کی پولیس کو رپورٹ لکھواتے ہوئے جن مراحل سے گزرتی ہیں وہ ناقابل بیان ہیں، جرائم کی دنیا بے خوف مجرموں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے، وزارت داخلہ کی جانب سے سال 2019میں ملک بھر میںجرائم کی تفصیل قومی اسمبلی میں پیش کی گئی جس کے مطابق سال 2019میں 7 لاکھ77 ہزار2 سو51 جرائم ہوئے۔
اب ضرورت ہے کہ ارباب اختیار ، پولیس، عدلیہ اور سیاستدان معاشرے میں جرائم اور غیر انسانی واقعات کی روک تھام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور سماجی محرومیوں معاشی اور جنسی ناآسودگیوں کے خاتمے کے لیے حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے کا پیدا ہونا لازمی ہے، یہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجنی چاہیے۔