ملک بھر میں مصنوعی ذہانت کے مراکز کھولنے کا فیصلہ
سرکاری دفاتر میں ملکی سطح پر تیار سافٹ ویئراستعمال کرینگے،پروفیسرعطا الرحمن کاجامعہ کراچی کی کانفرنس سے خطاب
حکومت مصنوعی ذہانت، بِگ ڈیٹا، سائبرسیکیورٹی اور دیگر ٹیکنالوجیز پر50 بلین خرچ کرے گی، پروفیسرخالد محمودودیگر۔ فوٹو: فائل
وزیراعظم کی نیشنل ٹاسک فورس برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا کہ حکومت پاکستان مصنوعی ذہانت، بِگ ڈیٹا، سائبرسیکیورٹی اور اس سے منسلک دیگر ٹیکنالوجیز پر50 بلین خرچ کرے گا۔
جامعہ کراچی کے شعبہ کمپیوٹرسائنس کے زیر اہتمام انٹرنیشنل سینٹر فارکیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی آڈیٹوریم میں منعقدہ دوسری دوروزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ''انفارمیشن سائنس اینڈ کمیونیکشن ٹیکنالوجی'' کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی دفاتر میں ملکی سطح پر تیار ہونے والے سافٹ ویئرز کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا، ملک میں آئی ٹی کی صنعت کو مستحکم کرنے میں مدد مل سکے، صدر اور وزیر اعظم اس شعبہ میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں، حکومتی سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مراکز کو ملک کے کونے کونے میں پھیلایا جائے، بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اس دہائی کی ایجادات سے 100 کھرب ڈالرز حاصل ہوں گے،ان تمام میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ایڈوانسڈ میٹریلز، انڈسٹریل بائیوٹیکنالوجی، انٹرنیٹ آف تھینگز، انرجی اسٹوریج سسٹم اور دیگر شامل ہیں، پاکستانی جامعات اور سافٹ ویئر ہاوسزاور انڈسٹریز کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کام کریں۔
ڈاکٹر عطاالرحمٰن نے سنگاپور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کی معیشت ہیومن ریسورسز اور ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ / ایکسپورٹ پر مبنی ہے،پانچ ملین کی آبادی والا ملک جس کا کل رقبہ 1865 اسکوائرکلومیٹر ہے اور اس کی ایکسپورٹ 330 بلین ڈالرز ہیں، ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر سیدہ شاہدہ رحمانی نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے دنیا کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیاہے،ہم کیا اور کیسے سوچتے ہیں،ہم اپنے روزمرہ کے کاموں کو کیسے سرانجام دیتے ہیں ان سب معاملات میں آئی ٹی اور اس سے جڑی چیزوں کا کافی اثر ہوتاہے،یہی وہ ہے کہ وہ ٹولز جن کی بدولت معلومات اور پیغام رسائی ممکن ہوتی ہے اس کا گہرائی سے مطالعہ کرنا،سمجھنا اور جلد سے جلد اَپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے تاکہ اس سے بھر پور فائدہ اْٹھایا جاسکے،پاکستان کو جدید دنیا سے ہم آہنگ اور ہم قدم ہونے کے لیے آئی ٹی کی جدید ٹیکنالوجی پر مہارت حاصل کرنا ناگزیر ہے اور اس کے لیے جامعات بہت اہم اور کلیدی کردار اداکرسکتی ہیں،ایسی کانفرنسز جہاں بین الاقوامی اسکالرز موجود ہوتے ہیں جس سے نہ صرف بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے بلکہ سائنس وٹیکنالوجی کا بھی تبادلہ ہوتاہے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی صنعت میں جدت اور ترقی آنے کے ساتھ ہمارے نوجوانوں میں کمپیوٹر سائنس کے شعبے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے، جامعہ کراچی کا شعبہ کمپیوٹر سائنس مذکورہ شعبے کی ٹیکنیکل کانفرنس کیلئے ایک بہترین جگہ ہے، اس کانفرنس میں انتہائی اہم موضوعات زیر بحث آئیں گے،کمپیوٹرسائنس ہر شعبہ ہائے زندگی میں بالواسطہ یا بلاواسطہ طورپر منسلک ہے،لہذا ہمارے طلبہ کو چاہیے کہ وہ نہ صرف موجودہ ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں بلکہ نئی ٹیکنالوجی تیارکرنے میں بھی اپنا کردار اداکریں جس سے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا،عالمگیریت کے جدید تقاضوں کی تکمیل کے تناظر میں سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی نے دنیا کو گلوبل ویلج بنادیا۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہمارا تدریسی وتحقیقی معیار بین الاقوامی تعلیمی معیار سے مطابقت رکھتا ہے،ہم اپنی آنے والی نسلوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کیلیے کوشاں ہے،جامعہ کراچی کا شعبہ کمپیوٹر سائنس اپنا کلیدی کردار ادا کررہا ہے جس پر میں شعبے کے چیئرمین، فیکلٹی اور عملے کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
برطانیہ کی ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جوناتھن اینڈریوویئر نے کہا کہ دنیا بھر میں تعمیری شعبے سے وابستہ مزدوروں اور ورکرز کی صحت اور حفاظت ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر ابھرا ہے،صرف برطانیہ میں سالانہ 39 ورکرز کام کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہوتے ہیں،ان مسائل پر قابوپانے کے لیے بہت سے ممالک نے مختلف حل نکالنے کی کوششیں کی ہیں جن میں سے کچھ اس قابل تھیں جن کی بدولت مستقبل میں پیش آنے والے مسائل کی بروقت تشخیص ممکن ہوئی جس کی وجہ سے ان ممالک کو کم سے کم نقصانات کا سامنا کرنا پڑا،برطانیہ میں رسک اسسمنٹ میتھڈ اسٹیٹمنٹ کے ذریعے تعمیراتی کام سرانجام دیے جاتے ہیں اور اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے بارے میں ماتحت اراکین کو بروقت آگاہ کیا جائے۔
آئرلینڈ کی لیمرک یونیورسٹی کے ڈاکٹرجم بکلی نے کہا کہ آج بھی پرانے انفارمیشن سسٹمز کا استعمال ہورہاہے اور ہم بہت سارے ایسے مقامات پر ان کا استعمال کرتے ہیں جہاں ہمارا ان کے بغیر گزارانہیں ہے،اس کی وجہ سے سپورٹ کے بہت مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ڈیولپرز کو نت نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
چیئرمین شعبہ کمپیوٹر سائنس جامعہ کراچی ڈاکٹر صادق علی خان نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد ان عوامل کی نشاندہی کرنا ہے جس سے پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے میں مدد مل سکے،ملکی ماہرین اور طلبہ اس کانفرنس میں شریک غیر ملکی ماہرین سے بہت کچھ سیکھ اور سمجھ سکتے ہیں،مذکورہ کانفرنس نہ صرف ملکی اور غیر ملکی ماہرین کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ طلبہ کو بھی اس سے مستفید ہونے کے مواقع میسر آئیں گے۔
جامعہ کراچی کے شعبہ کمپیوٹرسائنس کے زیر اہتمام انٹرنیشنل سینٹر فارکیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی آڈیٹوریم میں منعقدہ دوسری دوروزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ''انفارمیشن سائنس اینڈ کمیونیکشن ٹیکنالوجی'' کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی دفاتر میں ملکی سطح پر تیار ہونے والے سافٹ ویئرز کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا، ملک میں آئی ٹی کی صنعت کو مستحکم کرنے میں مدد مل سکے، صدر اور وزیر اعظم اس شعبہ میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں، حکومتی سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مراکز کو ملک کے کونے کونے میں پھیلایا جائے، بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اس دہائی کی ایجادات سے 100 کھرب ڈالرز حاصل ہوں گے،ان تمام میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ایڈوانسڈ میٹریلز، انڈسٹریل بائیوٹیکنالوجی، انٹرنیٹ آف تھینگز، انرجی اسٹوریج سسٹم اور دیگر شامل ہیں، پاکستانی جامعات اور سافٹ ویئر ہاوسزاور انڈسٹریز کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کام کریں۔
ڈاکٹر عطاالرحمٰن نے سنگاپور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کی معیشت ہیومن ریسورسز اور ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ / ایکسپورٹ پر مبنی ہے،پانچ ملین کی آبادی والا ملک جس کا کل رقبہ 1865 اسکوائرکلومیٹر ہے اور اس کی ایکسپورٹ 330 بلین ڈالرز ہیں، ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر سیدہ شاہدہ رحمانی نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے دنیا کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیاہے،ہم کیا اور کیسے سوچتے ہیں،ہم اپنے روزمرہ کے کاموں کو کیسے سرانجام دیتے ہیں ان سب معاملات میں آئی ٹی اور اس سے جڑی چیزوں کا کافی اثر ہوتاہے،یہی وہ ہے کہ وہ ٹولز جن کی بدولت معلومات اور پیغام رسائی ممکن ہوتی ہے اس کا گہرائی سے مطالعہ کرنا،سمجھنا اور جلد سے جلد اَپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے تاکہ اس سے بھر پور فائدہ اْٹھایا جاسکے،پاکستان کو جدید دنیا سے ہم آہنگ اور ہم قدم ہونے کے لیے آئی ٹی کی جدید ٹیکنالوجی پر مہارت حاصل کرنا ناگزیر ہے اور اس کے لیے جامعات بہت اہم اور کلیدی کردار اداکرسکتی ہیں،ایسی کانفرنسز جہاں بین الاقوامی اسکالرز موجود ہوتے ہیں جس سے نہ صرف بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے بلکہ سائنس وٹیکنالوجی کا بھی تبادلہ ہوتاہے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی صنعت میں جدت اور ترقی آنے کے ساتھ ہمارے نوجوانوں میں کمپیوٹر سائنس کے شعبے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے، جامعہ کراچی کا شعبہ کمپیوٹر سائنس مذکورہ شعبے کی ٹیکنیکل کانفرنس کیلئے ایک بہترین جگہ ہے، اس کانفرنس میں انتہائی اہم موضوعات زیر بحث آئیں گے،کمپیوٹرسائنس ہر شعبہ ہائے زندگی میں بالواسطہ یا بلاواسطہ طورپر منسلک ہے،لہذا ہمارے طلبہ کو چاہیے کہ وہ نہ صرف موجودہ ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں بلکہ نئی ٹیکنالوجی تیارکرنے میں بھی اپنا کردار اداکریں جس سے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا،عالمگیریت کے جدید تقاضوں کی تکمیل کے تناظر میں سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی نے دنیا کو گلوبل ویلج بنادیا۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہمارا تدریسی وتحقیقی معیار بین الاقوامی تعلیمی معیار سے مطابقت رکھتا ہے،ہم اپنی آنے والی نسلوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کیلیے کوشاں ہے،جامعہ کراچی کا شعبہ کمپیوٹر سائنس اپنا کلیدی کردار ادا کررہا ہے جس پر میں شعبے کے چیئرمین، فیکلٹی اور عملے کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
برطانیہ کی ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جوناتھن اینڈریوویئر نے کہا کہ دنیا بھر میں تعمیری شعبے سے وابستہ مزدوروں اور ورکرز کی صحت اور حفاظت ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر ابھرا ہے،صرف برطانیہ میں سالانہ 39 ورکرز کام کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہوتے ہیں،ان مسائل پر قابوپانے کے لیے بہت سے ممالک نے مختلف حل نکالنے کی کوششیں کی ہیں جن میں سے کچھ اس قابل تھیں جن کی بدولت مستقبل میں پیش آنے والے مسائل کی بروقت تشخیص ممکن ہوئی جس کی وجہ سے ان ممالک کو کم سے کم نقصانات کا سامنا کرنا پڑا،برطانیہ میں رسک اسسمنٹ میتھڈ اسٹیٹمنٹ کے ذریعے تعمیراتی کام سرانجام دیے جاتے ہیں اور اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے بارے میں ماتحت اراکین کو بروقت آگاہ کیا جائے۔
آئرلینڈ کی لیمرک یونیورسٹی کے ڈاکٹرجم بکلی نے کہا کہ آج بھی پرانے انفارمیشن سسٹمز کا استعمال ہورہاہے اور ہم بہت سارے ایسے مقامات پر ان کا استعمال کرتے ہیں جہاں ہمارا ان کے بغیر گزارانہیں ہے،اس کی وجہ سے سپورٹ کے بہت مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ڈیولپرز کو نت نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
چیئرمین شعبہ کمپیوٹر سائنس جامعہ کراچی ڈاکٹر صادق علی خان نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد ان عوامل کی نشاندہی کرنا ہے جس سے پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے میں مدد مل سکے،ملکی ماہرین اور طلبہ اس کانفرنس میں شریک غیر ملکی ماہرین سے بہت کچھ سیکھ اور سمجھ سکتے ہیں،مذکورہ کانفرنس نہ صرف ملکی اور غیر ملکی ماہرین کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ طلبہ کو بھی اس سے مستفید ہونے کے مواقع میسر آئیں گے۔