بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے

وزیراعظم نے بنیادی اشیاء ضروریہ کی قیمتیں ہر صورت کم کرنے کی ہدایت کی

وزیراعظم نے بنیادی اشیاء ضروریہ کی قیمتیں ہر صورت کم کرنے کی ہدایت کی

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہفتے کو بنی گالہ میں معاشی ٹیم کا اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، غریب کی بہتری کے لیے حکومت میں آئے ہیں، عوام کے ریلیف کے لیے جو ہوسکا کروں گا، اس کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، اگر غریب کا احساس نہیں تو ہمیں حکومت میں رہنے کا بھی حق نہیں ہے۔ اجلاس میں عوامی ریلیف کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔

وزیراعظم نے بنیادی اشیاء ضروریہ کی قیمتیں ہر صورت کم کرنے کی ہدایت کی' اجلاس میں آٹا، گھی، چینی ، چاول اور دالوں کی قیمتیں کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے ثانیہ نشتر کو ہدایت دی کہ احساس پروگرام کے تحت انتہائی غریب افراد کو راشن دیں۔ انھوںنے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے کہا کہ دوسرے منصوبوں سے رقم کی کٹوتی کرکے غریبوں کو سہولت دیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی سابقہ حکومت کی لوٹ مارکا نتیجہ ہے، ذخیرہ اندوزوں نے بھی معاملات خراب کیے ہیں۔

ملک میں جس تیزی سے مہنگائی کا گراف اوپر گیا اس نے معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کیا، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ عام آدمی کے گھریلو بجٹ میں 5سے 10ہزار کا بلاجواز اضافہ ہو گیا ہے جب کہ اس کی آمدن کے ذرایع میں اضافے کی امید کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ وزیراعظم حسب سابق الزام لگا رہے ہیں کہ مہنگائی کی ذمے دار سابقہ حکومت کی پالیسیاں اور لوٹ مار ہے۔

عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ مہنگائی کی ذمے دار سابقہ حکومت ہے وہ تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ مہنگائی کا عذاب موجودہ حکومت میں نازل ہوا اور حکمران اسے کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوئے۔ اگر مہنگائی سابقہ حکومت کی لوٹ مار کا ماحصل ہے تو اسے کنٹرول کرنا اور تبدیلی لانا تو موجودہ حکومت کی ذمے داری ہے، اپنی ناکام کارکردگی دوسروں کے کھاتے میں ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینا قطعی طور پر صائب رویہ نہیں۔ موجودہ حکومت کو برسراقتدار آئے اب تقریباً ڈیڑھ سال ہو چلا ہے ، ملک کی تمام پالیسیاں اور معاشی نظام وہی چلا رہی ہے' اب تک ہونے والی تبدیلیاں اور تمام فیصلے بھی اس نے ہی کیے ہیں' مہنگائی کا نیا عذاب حالیہ چند ہفتے ہی میں نزول ہوا ہے جو موجودہ حکومت ہی کی پالیسیوں اور فیصلوں کا شاخسانہ ہے۔

گزشتہ دنوں وفاقی ادارہ شماریات کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 14.6 فیصد ہو گئی جو 9 سال کی بلند ترین سطح ہے جس کا بڑا سبب کھانے پینے کی اشیا اور بجلی گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہے اور اس نے سخت مانیٹری پالیسی کو بھی غیرموثر بنا دیا ۔ دسمبر 2019 میں مہنگائی کی شرح 15.5فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق جنوری 2020 میں مہنگائی میں2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ ایک سال میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں 78فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔


جنوری کا مہینہ ریکارڈ توڑ مہنگا ثابت ہوا اور اس ماہ مہنگائی کی سالانہ شرح 2 فیصد اضافے کے ساتھ 14.6فیصد تک کی بلند سطح پر پہنچ گئی۔ اب وزیراعظم نے مہنگائی ہونے اور عوام کی پریشانیوں میں اضافے کے بعد اس کا اعلیٰ سطح اجلاس میں نوٹس لیا اور اسے بہرصورت کم کرنے کی ہدایت کی ہے تو اس کے بارے میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں

کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

حکمران ایک عرصے سے ملک میں اقتصادی ترقی اور رواں سال معاشی استحکام اور خوشحالی کا مژدہ جاں فزا سنا اور مہنگائی کم کرنے کی لوریاں دے رہے لیکن معاشی صورت حال اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ان کے فیصلوں کا منہ چڑا رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وفاقی ادارہ شماریات کی ملکی معاشی صورت حال اور ایک عام شہری پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی پریشان کن رپورٹس جو منظرنامہ پیش کر رہی ہیں، اس کے مطابق مہنگائی کا گزشتہ دس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے' صرف گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ وفاقی ادارہ شماریات کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ایک ماہ میں دال مونگ 20 فیصد، چکن17.53فیصد، انڈے 14.28فیصد، گندم 12.63فیصد جب کہ گندم کا آٹا ساڑھے سات فیصد تک مہنگا ہوا۔ جنوری میں بیسن کے نرخ12فیصد، سبزیوں کے11فیصد اور دال ماش کے10.29فیصد بڑھ گئے۔

گڑ 9.50 فیصد، لوبیا 8 فیصد، دال مسور7.33فیصد، مصالحہ جات 7فیصد، دال چنا 6.68 فیصد، چینی 5فیصد، پھل4 فیصد تک مہنگے ہوئے۔ ایک ماہ میں شادی ہال کے چارجز بھی5.58 فیصد بڑھ گئے۔ جنوری2019 کے مقابلے میں جنوری2020 میں ٹماٹر 157فیصد اور پیاز 125فیصد مہنگا ہوا، ایک سال میں سبزیاں94 فیصد مہنگی ہوئیں۔ ملک میں گندم اور چینی کی کمی نہ ہونے کے باوجود ان کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ موجودہ حکومت ہی کی پالیسیوں کا ثمر ہے۔ موجودہ حکمران ہر بحران کی ذمے داری سابقہ حکومتوں پر عائد کرنے کے بجائے اپنی معاشی پالیسیاں بہتر بنائیں تو یہ ملک اور عوام کے حق میں صائب قدم ہو گا' اس وقت موجودہ معاشی منظرنامہ ملک کو کم پیداوار' کم شرح ترقی اور مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کی طرف لے جا رہا ہے' حکومت بار بار مہنگائی کا نوٹس لے رہی اور اعلیٰ سطح کے اجلاس بلا رہی مگر وہ معاملات قابو کرنے میں بالکل بے بس نظر آ رہی ہے۔

اپوزیشن الزام لگا رہی ہے کہ مہنگائی کے پس منظر میں سرگرم مافیا اقتدار کی غلام گردشوں ہی میں موجود ہے، لڑکا بغل میں اور ڈھنڈورا شہر میں کے مصداق موجودہ حکمران اپنی ناقص کارکردگی کا ذمے دار سابقہ حکومت کو ٹھہرا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ بہرصورت وزیراعظم نے مہنگائی ہونے کے بعد اعلیٰ سطح کا اجلاس بلا کر اس کا نوٹس لیا اور اسے ہر صورت کم کرنے کی ہدایت کی ہے جس پر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے۔ خدا کرے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہونے کے بعد مہنگائی رک جائے اور اگر یہ پھر بھی نہ رکی تو پھر اس کی ذمے داری مودی پر ڈال دی جائے۔
Load Next Story