صوبائی حکومتوں کی متضاد حکمت عملی

صبح شام جمہوریت کی مالا جپنے والی وفاقی اور چاروں صوبوں کی حکومتوں نے سپریم کورٹ کے حکم کو کوئی اہمیت نہیں دی

قومی اسمبلی نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے دوبارہ متفقہ طور پر قرارداد منظور کی اور سندھ اسمبلی نے بھی قومی اسمبلی کی قرارداد کی حمایت میں اپنی قرارداد کی منظوری دی تا کہ سپریم کورٹ صوبائی حکومتوں کی اپنی ہی دی گئی تاریخوں میں توسیع کا کوئی حکم جاری کر دے مگر سپریم کورٹ نے قومی اور سندھ اسمبلی کی قراردادوں پر کوئی فیصلہ نہیں دیا اور معاملہ الیکشن کمیشن کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے جس کے قائم مقام الیکشن کمشنر سپریم کورٹ کے سینئر جج ہیں۔ سال رواں میں چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری نے سب سے پہلے بلوچستان بد امنی کیس کی سماعت کے موقعے پر حکومت کی توجہ بلدیاتی انتخابات نہ کرائے جانے پر مبذول کرائی تھی اور صوبائی حکومتوں سے کہا تھا کہ ملک میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد آئینی معاملہ ہے اس لیے صوبائی حکومتیں آئین کی خلاف ورزی نہ کریں اور اپنے اپنے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کریں۔ تاہم اب عدالت عظمیٰ نے انتخابات کرانے کے لیے سندھ اور پنجاب میں جنوری تک مہلت دیدی ہے۔

سپریم کورٹ نے کئی ماہ تک صوبائی حکومتوں کی اس سلسلے میں عدم دلچسپی دیکھی اور پھر صوبوں سے بلدیاتی انتخابات کے لیے ستمبر میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخیں طلب کیں۔ سپریم کورٹ نے کنٹونمنٹس کے وفاقی علاقوں میں تیرہ سالوں سے بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کا نوٹس لیا اور سیکریٹری دفاع سے بھی جواب طلب کیا اور کنٹونمنٹس کے علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دیا تا کہ آئین پر عمل ہو سکے۔

صبح شام جمہوریت کی مالا جپنے والی وفاقی اور چاروں صوبوں کی حکومتوں نے سپریم کورٹ کے حکم کو کوئی اہمیت نہیں دی اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر کوئی بھی توجہ نہیں دی۔ سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے متعدد بار اس سلسلے میں واضح کیا کہ ججوں نے بلدیاتی انتخاب نہیں لڑنا بلکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد آئینی ضرورت ہے اس لیے ملک میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر توجہ دی جائے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مسلسل خاموشی کے باعث سپریم کورٹ نے سیکریٹری دفاع اور صوبائی حکومتوں کو اس سلسلے میں کافی ڈھیل دی اور اس سلسلے میں مقدمات کی سماعت کی۔ وفاق اور صوبوں کی طرف سے سپریم کورٹ کو بھی آسرے دیے جاتے رہے اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کی برہمی پر سندھ حکومت نے سپریم کورٹ کو 27 نومبر کو سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی تحریری یقین دہانی کرائی جس کو سپریم کورٹ کی طرف سے سراہا گیا۔ بلوچستان حکومت نے بھی 27 نومبر کی اور پنجاب حکومت نے 7 دسمبر کی تاریخ دے کر سپریم کورٹ کو تحریری یقین دہانی کرائی کہ مقررہ تاریخوں پر بلدیاتی انتخابات کرا دیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں پس ماندہ صوبے بلوچستان کی حکومت نے حلقہ بندی، بلدیاتی نظام کی منظوری جیسے اہم کام مکمل کر لیے اور مشکلات کے باوجود الیکشن کمیشن نے بلوچستان میں انتخابی عمل بھی شروع کر دیا۔

سپریم کورٹ نے کے پی کے حکومت سے بھی بلدیاتی انتخابات کی تاریخ طلب کی جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے جس کے سربراہ عمران خان نے عام انتخابات کے موقعے پر 90 روز میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا فخریہ اعلان کیا تھا مگر کے پی کے میں حکومت بنانے کے بعد عمران خان نے بھی دیگر سیاستدانوں کا رویہ اختیار کیا اور نوے روز کے اعلان پر عمل نہیں کیا اور ثابت کر دیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ بھی زبان اور اعلان کے پابند نہیں رہے اس لیے ان کی حکومت نے سپریم کورٹ کو بلدیاتی انتخابات کی تاریخ دینے سے انکار کر دیا۔


نومبر کے قریب تین صوبائی حکومتوں نے واضح کیا کہ ہماری تیاری مکمل ہے اب الیکشن کمیشن اپنا کام شروع کرے۔ الیکشن کمیشن نے کام شروع کیا تو انکشاف ہوا کہ سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے تو حلقہ بندیاں تک نہیں کیں تو الیکشن کیسے ہو سکیں گے۔ سپریم کورٹ نے خود بلدیاتی انتخابات کی تاریخ مقرر نہیں کی تھی اور الیکشن کمیشن کو کہا تھا کہ وہ صوبائی حکومتوں کی اپنی دی ہوئی تاریخوں پر بلدیاتی انتخابات کی تیاری کرے۔ الیکشن کمیشن جب متحرک ہوا تو درجنوں مسائل سامنے آ گئے اور صوبائی حکومتوں کے جھوٹے تحریری وعدوں کا بھی پول کھل گیا۔ ملک میں بلدیاتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کی وصولی کی تاریخوں کا اعلان ہوا تو سندھ اور پنجاب کی حکومتیں گھبرا گئیں۔ قومی اسمبلی کے ارکان اور سیاسی جماعتیں بے چین ہو گئیں اور بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار کرنے کے لیے قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کر دیا۔

سپریم کورٹ یہ مسئلہ الیکشن کمیشن کے سپرد کر چکی تھی مگر قومی اور سندھ اسمبلی نے سپریم کورٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی اور پی پی کے ناواقف نوجوان چیئر پرسن تو زیادہ ہی جذباتی ہو گئے اور انھوں نے ٹوئیٹر پر پیغام میں سپریم کورٹ پر الزام لگا دیا کہ سپریم کورٹ قومی اسمبلی کی قراردادوں کو حقارت سے نظر انداز کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کی تیاری کے بغیر بلدیاتی انتخابات ڈھونگ ہوں گے اور موجودہ حالات میں شفاف انتخابات ممکن نہیں۔ سندھ کے وزیر اطلاعات کیوں پیچھے رہتے انھوں نے بھی کہہ دیا کہ قومی اور سندھ اسمبلی کی قراردادوں کو ردی کا ٹوکرا نہ سمجھا جائے۔ پنجاب کے وزیر قانون بھی کیوں چپ رہتے انھوں نے بھی بیان داغ دیا کہ 7 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کا انعقاد مشکل ہے مزید دو تین ہفتے کا وقت دیا جائے۔ سندھ اسمبلی کے اسپیکر، وزیر قانون اور وزیر تعلیم نے بھی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کر دیا۔

سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے خود 27 نومبر اور 7 دسمبر کی تاریخیں دے کر چال چلی تھی وگرنہ یہ دونوں بھی کے پی کے حکومت کی طرح سپریم کورٹ کو تاریخ دینے سے انکار کر سکتی تھیں مگر انھوں نے سیاسی مفاد کے لیے تاریخیں دے دیں اور اب بہانے تراشے جا رہے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر کی عجیب منطق کہ تین چار ماہ بعد بھی بلدیاتی الیکشن کا کریڈٹ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ہی جائے گا گویا بلدیاتی انتخابات کرانے میں فاضل چیف جسٹس کو ہی کوئی فائدہ ہے جب کہ یہ آئینی ضرورت ہے جسے سیاست کی نذر کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو گئی ہیں اور توسیع کی حمایت کر رہی ہیں۔

سندھ اور پنجاب حکومتوں کی چال بازیوں نے عوام کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے اور سپریم کورٹ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سپریم کورٹ کے احکامات ہی کی نہیں بلکہ خود اپنی ہی دی گئی تاریخوں سے بھی انحراف کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ فوجی نہیں جمہوری حکومتیں ہیں۔
Load Next Story