مہنگائی پر وزیراعظم کا نوٹس

پاکستان خوراک میں خودکفیل ہونا چاہتاہے تو اسے زرعی شعبے پر توجہ دینی ہوگی اورچھوٹے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کرناہوگی۔

پاکستان خوراک میں خودکفیل ہونا چاہتاہے تو اسے زرعی شعبے پر توجہ دینی ہوگی اورچھوٹے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کرناہوگی۔ فوٹو:فائل

RAWALPINDI:
وزیراعظم عمران خان نے اتوارکو اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ حکومتی ادارے آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کے اسباب کی جامع تحقیقات کا آغاز کرچکے ہیں، قوم اطمینان رکھے، آٹے اور چینی کے بحران کے ذمے داروں کا بھرپور محاسبہ کیا جائے گا اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے گی' انھیں تنخواہ دارطبقہ سمیت عوام کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس کا ادراک ہے' انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے حکومت عوام کے لیے بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی کی خاطر مختلف اقدامات کا اعلان کرے گی۔

ملک میں مہنگائی کا گراف جس تیزی سے اوپر گیا وہ اس امر کا متقاضی ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فی الفور اور بھرپور اقدامات کرے اور اس سلسلے میں تشکیل دی گئی اپنی پالیسیوں اور فیصلوں پر اس کے معنی و مفہوم کے لحاظ سے عملدرآمد کو یقینی بنائے' اس معاملے میں جتنی تاخیر ہوتی چلی جائے گی معاملات اتنے ہی بگڑتے چلے جائیں گے جس سے نہ صرف ملک کے معاشی مسائل میں اضافہ ہو گا بلکہ حکومت پر عوامی دباؤ بھی بڑھتا چلا جائے گا اور عوام کی بدحالی میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

مہنگائی کے باعث گھریلو بجٹ پر پڑنے والے بوجھ کے سبب عوام میں اضطرابی اور ہیجانی کیفیت کا جنم لینا تو قدرتی امر ہے ہی اس پر مستزاد حکومتی اداروں کا مہنگائی پر قابو پانے میں ناکامی کا معاملہ جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔ اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہی نظر آ رہا ہے جس پر قابو پانے کے لیے حکومت اجلاس پر اجلاس طلب کر رہی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ان اجلاسوں کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں' مہنگائی میں کمی بھی آتی ہے یا نہیں یا وقتی ٹھہراؤ کے بعد پھر ایک نہ رکنے والا سلسلہ بتدریج آگے بڑھتا چلا جائے اور حکومت صرف دعوے اور نعرے ہی لگاتی رہ جائے گی۔ کابینہ کے اجلاس میں ملکی معاشی ترقی اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حکمت عملی تشکیل دینے کا بہت شور برپا ہے، دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور عوام کی قسمت کے کیا فیصلے ہوتے ہیں' یہ نہ ہو کہ

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا


حکمران قیادت کو بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی سے عوام کے مسائل میں ہونے والے اضافے کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے اور اسے احساس ہو گیا کہ یہ معاملہ اس کی عوامی مقبولیت میں کمی کا سبب بن رہا لہٰذا حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہی ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ مہنگائی کی لہر میں تیزی ہی آئی ہے، اس کی شدت میں کمی نہیں آئی۔

ادھر آئی ایم ایف ٹیکس وصولیوں میں کمی پر ایف بی آر کی کارکردگی سے مطمئن دکھائی نہیں دے رہا اور بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جب کہ حکومت کو احساس ہے کہ اگر بجلی اور گیس کی قیمتوں میں فوری مزید اضافہ کیا گیا تو اس سے مہنگائی اور بڑھ جائے گی اور حکومتی نمایندوں کے لیے عوامی اضطراب کا مقابلہ کرنا محال ہو جائے گا۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ نان ٹیکس ریونیو کے لیے نقصان زدہ اداروں کی نجکاری کی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں جس سے ملکی خزانے کو خطیر رقم حاصل ہو گی۔

حکومتی معاشی ماہرین جب بھی محدود ملکی آمدن اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے تقابل میں کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو ان کی تان بجلی' گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ سرکاری اداروں کی نجکاری ہی پر آ کر ٹوٹتی ہے۔ حکومتی اخراجات پورا کرنے کے لیے انھیں یہ سب سے زیادہ آسان حل نظر آتا ہے۔ انھیں اس حقیقت سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل سے بیروزگاری میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ بجلی، گیس اور توانائی کے دیگر ذرایع جتنے مہنگے ہوں گے، زرعی اور صنعتی شعبے بری طرح متاثر ہوں گے اور ان کے پیداواری اخراجات میں اضافہ ہو گا اور وہ اپنی مصنوعات مہنگی کرنے پر مجبور ہوں گے ۔

حکومت کو توانائی کے ذرایع سستے کرنا ہوں گے تاکہ پیداواری اور کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں، اگر ایف بی آر ٹیکس محصولات کا ہدف پورا کرنے میں ناکام ہوا ہے تو اسے ان امور کا جائزہ لینا چاہیے جو بہتری کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ایک جانب زرعی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو رہا تو دوسری جانب ٹڈی دل کا حملہ فصلوں کے لیے عذاب بن کر نازل ہوا ہے۔ اس کی اثرات بھی جلد ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گے ۔ہمارے پالیسی سازوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان کو ہر سال بڑے پیمانے پر دالیں اور سبزیاں درآمد کرنا پڑتی ہیں جو ملکی خزانے پر بوجھ ثابت ہوتا ہے۔

حکومت ملکی خوشحالی کے لیے زرعی اور صنعتی شعبے کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ معدنیات کی تلاش کے لیے عملی اقدامات اٹھائے تو ممکن ہے کہ ملک معاشی انقلاب کی جانب بڑھنے لگے مگر ابھی تک حکومتی معاشی بزرجمہروں نے معاشی خوشحالی کی ایسی کوئی پالیسی تشکیل نہیں دی۔

پاکستان خوراک میں خود کفیل ہونا چاہتا ہے تو اسے زرعی شعبے پر توجہ دینی ہوگی اور چھوٹے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی کیونکہ جاگیردار اور بڑے زمیندار اپنے اثرورسوخ کے باعث اپنی فصلوں کا ریٹ بھی اچھا وصول کرلیتے ہیں اور انھوں نے دیگر کاروباروں میں سرمایہ کاری کررکھی ہے ۔
Load Next Story