جامعہ کراچی میں چینی زبان سکھانے کا منصوبہ ناکام
طلبہ وطالبات اور پیشہ ورکاروباری افرادکی داخلوں میں عدم دلچسپی،ڈپلومہ کورس کے محض 29 فارم فروخت ہوسکے
انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسرمنصور احمدچینی زبان سے ناواقف ہیں،چینی ماہرین کوداخلوں کے عمل سے علیحدہ رکھاگیا فوٹو: فائل
جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی کے سبب'' کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ آف چائینز لینگویج '' کے تحت چینی زبان سکھانے کا منصوبہ ابتدا ہی میں ناکامی سے دوچارہوگیا ،غیر پیشہ ورانہ ڈائریکٹرکی تقرری اور داخلوں کے سلسلے میں نامناسب حکمت عملی اپنائے جانے کے باعث داخلوں کاعمل انتہائی سست روی کا شکار ہے ۔
طلبہ وطالبات اور پیشہ ورکاروباری افراد داخلوں میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں،گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے میں چائینزلینگویج ڈپلومہ کورس کے محض 29 فارم فروخت ہوسکے ہیں ، داخلوں کا اعلان ''مارننگ اور ایوننگ'' دونوں پروگرامز کیلیے کیاگیا ہے، واضح رہے کہ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ آف چائینز لینگویج جامعہ کراچی میں چینی حکومت کے تعاون سے قائم کیاگیا ہے،بعض بااثر ریٹائر افسران کے دباؤ پر انتظامیہ نے اس انسٹی ٹیوٹ کاڈائریکٹریونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسرمنصور احمدکو مقررکردیا جونا صرف خود ریٹائر ہیں بلکہ چینی زبان سے ناواقف اور شعبہ فارمیسی کے پروفیسر ہیں، ہربل ادویات کی تیاری کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں، چینی زبان یا تہذیب ان کا مضمون ہی نہیں ہے، حال ہی میں ان کی جانب سے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ آف چائینز لینگویج کے تحت چینی زبان میں 6ماہ کاسرٹیفکیٹ کورس متعارف کرایا گیا۔
حیرت انگیزطور پرجامعہ کراچی کی جانب سے کی گئی اس اہم ترین کاوش کا تذکرہ یونیورسٹی کی اپنی ویب سائٹ پربھی نہیں ہے، ہزاروں لوگ روزانہ کی بنیادوں پرجامعہ کراچی کی ویب سائٹ کا دورہ کرتے ہیں ، جامعہ کراچی کی ویب سائٹ پرچینی زبان سکھانے کیلیے قائم کیے گئے اس انسٹی ٹیوٹ کاکہیں لنک موجود ہے اورنہ ہی داخلوں کا تذکرہ کیا گیا حد تو یہ ہے کہ جامعہ کراچی نے حال ہی میں ''اسکول آف لا''قائم کرکے اس میں بھی داخلوں کا اعلان کیا ۔
یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر اسکول آف لا کے قیام یا اس کے داخلوں کا تذکرہ بھی موجود نہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں پروگرامز کے ذمے دارہی خود ان پروگرامزکوناکام کرناچاہتے ہیں، قابل تذکرہ امریہ ہے کہ جامعہ کراچی میں چینی زبان سے واقفیت رکھنے والے ایک سے زائد اساتذہ موجود ہیں جو اپنا پی ایچ ڈی چین سے مکمل کرکے آئے ہیں، چینی زبان میں لکھی گئی کتاب کا اردوترجمہ بھی کرچکے ہیں، انھیں اس پروگرام سے دوررکھاگیا ہے ،بحیثیت کورآرڈینیٹرجب چینی ماہرین یونیورسٹی آتے ہیں تو انھیں زبان جاننے کی بنیاد پرمحض ترجمے کے لیے مدعو کرلیا جاتا ہے جبکہ انسٹی ٹیوٹ کے انتظامی ڈھانچے اور داخلوں کے عمل سے علیحدہ رکھاگیا ہے۔
طلبہ وطالبات اور پیشہ ورکاروباری افراد داخلوں میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں،گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے میں چائینزلینگویج ڈپلومہ کورس کے محض 29 فارم فروخت ہوسکے ہیں ، داخلوں کا اعلان ''مارننگ اور ایوننگ'' دونوں پروگرامز کیلیے کیاگیا ہے، واضح رہے کہ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ آف چائینز لینگویج جامعہ کراچی میں چینی حکومت کے تعاون سے قائم کیاگیا ہے،بعض بااثر ریٹائر افسران کے دباؤ پر انتظامیہ نے اس انسٹی ٹیوٹ کاڈائریکٹریونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسرمنصور احمدکو مقررکردیا جونا صرف خود ریٹائر ہیں بلکہ چینی زبان سے ناواقف اور شعبہ فارمیسی کے پروفیسر ہیں، ہربل ادویات کی تیاری کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں، چینی زبان یا تہذیب ان کا مضمون ہی نہیں ہے، حال ہی میں ان کی جانب سے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ آف چائینز لینگویج کے تحت چینی زبان میں 6ماہ کاسرٹیفکیٹ کورس متعارف کرایا گیا۔
حیرت انگیزطور پرجامعہ کراچی کی جانب سے کی گئی اس اہم ترین کاوش کا تذکرہ یونیورسٹی کی اپنی ویب سائٹ پربھی نہیں ہے، ہزاروں لوگ روزانہ کی بنیادوں پرجامعہ کراچی کی ویب سائٹ کا دورہ کرتے ہیں ، جامعہ کراچی کی ویب سائٹ پرچینی زبان سکھانے کیلیے قائم کیے گئے اس انسٹی ٹیوٹ کاکہیں لنک موجود ہے اورنہ ہی داخلوں کا تذکرہ کیا گیا حد تو یہ ہے کہ جامعہ کراچی نے حال ہی میں ''اسکول آف لا''قائم کرکے اس میں بھی داخلوں کا اعلان کیا ۔
یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر اسکول آف لا کے قیام یا اس کے داخلوں کا تذکرہ بھی موجود نہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں پروگرامز کے ذمے دارہی خود ان پروگرامزکوناکام کرناچاہتے ہیں، قابل تذکرہ امریہ ہے کہ جامعہ کراچی میں چینی زبان سے واقفیت رکھنے والے ایک سے زائد اساتذہ موجود ہیں جو اپنا پی ایچ ڈی چین سے مکمل کرکے آئے ہیں، چینی زبان میں لکھی گئی کتاب کا اردوترجمہ بھی کرچکے ہیں، انھیں اس پروگرام سے دوررکھاگیا ہے ،بحیثیت کورآرڈینیٹرجب چینی ماہرین یونیورسٹی آتے ہیں تو انھیں زبان جاننے کی بنیاد پرمحض ترجمے کے لیے مدعو کرلیا جاتا ہے جبکہ انسٹی ٹیوٹ کے انتظامی ڈھانچے اور داخلوں کے عمل سے علیحدہ رکھاگیا ہے۔