2006 ونٹر اولمپکس کے سیمپلز کی دوبارہ جانچ ہوگی

طویل عرصے بعد نئے طریقوں سے تجزیے کا فیصلہ،8 سالہ قانونی حدود کا آئندہ برس خاتمہ

طویل عرصے بعد نئے طریقوں سے تجزیے کا فیصلہ،8 سالہ قانونی حدود کا آئندہ برس خاتمہ فوٹو؛فائل

لاہور:
آئی او سی 2006 ونٹر اولمپکس کے سیمپلز کی دوبارہ جانچ کرے گی،8 سالہ قانونی حدود کا آئندہ برس خاتمہ ہو جائے گا، اولمپک گیمز کے طویل عرصے بعد ان نمونوں کا نئے طریقوں سے تجزیہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو ماضی میں موجود نہیں تھے۔

تفصیلات کے مطابق آئندہ برس قانونی حدود ختم ہونے کی وجہ سے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی2006 ٹورینو ونٹر اولمپکس کیلیے جمع کیے گئے سیمپلز کی دوبارہ جانچ کررہی ہے،ایک آفیشل کے مطابق ہم طویل عرصے بعد ایونٹ میں کسی بے ایمانی کا پتہ لگانا چاہتے ہیں، اس کیلیے ایسے نئے طریقے استعمال کریں گے جو اس وقت موجود نہیں تھے، انھوں نے کہا کہ دوبارہ ٹیسٹ کا تعلق جرمنی کے سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ سے نہیں ہے ، اس نے اطلاع دی تھی کہ 2 ٹیسٹنگ لیبارٹریز نے نئے طریقہ کار استعمال کرکے سیکڑوں مثبت ٹیسٹ کا پتہ لگایا ہے۔ آئی او سی آفیشل نے کہاکہ ہم منصوبے کے مطابق ٹورینو گیمز کے سیمپلز کی دوبارہ ٹیسٹنگ کررہے ہیں،آئی او سی گیمز ختم ہونے کے 8برس بعد تک ایتھلیٹس کے نمونوں کو دوبارہ ٹیسٹ کرسکتی اور ان پر پابندی لگا سکتی ہے۔




اس نے 2004 ایتھنز اولمپکس کے پانچ نمونوں کا ٹیسٹ کیا جو مثبت آئے تھے۔ جرمن ٹی وی کے مطابق کولون اور ماسکو کی لیبارٹریز نے نئے طریقے استعمال کرتے ہوئے یورین کے سیکڑوں نمونوں میں انابولک اسٹیروئڈز موجود پائے۔ آئی او سی میڈیکل کمیشن کے سربراہ نے ٹی وی چینل کو بتایا کہ یہ اولمپک ڈوپنگ سیمپلز کی کارکردگی کا دوبارہ ٹیسٹ لینے کی ضرورت کی اچھی مثال ہے، ہمارے پاس اس کا منشور موجود ہے۔ اورل ٹیورینابول اور اسٹینوزولول ایسے اسٹیروئڈ ہیں جو بین جانسن نے سیؤل میں ہونے والے 1988 اولمپکس میں استعمال کیے تھے۔ لیب آفیشل کا کہنا ہے کہ ایک برس قبل نمونوں کا پتہ نہیں چلاکیونکہ اس وقت ایسے طریقے موجود نہیں تھے جن سے ان کا سراغ لگایا جا سکتا۔ ماسکو کنٹرول لیبارٹری کے سربراہ گریگوری روڈچینکو نے بتایا کہ پتہ لگانے والے اس طریقے سے 100 یورین ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا جو ماضی میں منفی آئے تھے۔
Load Next Story