پاکستانی فوج کو دی جانے والی امریکی امداد بڑی غلطی تھی حسین حقانی

امریکی امدادسے صرف پاک فوج کوفائدہ پہنچااورعام پاکستانی اس کے فوائدسے محروم رہے، حسین حقانی

امریکی امدادسے صرف پاک فوج کوفائدہ پہنچااورعام پاکستانی اس کے فوائدسے محروم رہے، حسین حقانی فوٹو: فائل

لاہور:
امریکامیں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہاہے کہ ماضی میں امریکاکی پاکستانی فوج کو عشروں سے دی جانیوالی امدادبڑی غلطی تھی،پاکستان کو دفاع سے توجہ کم کرنیکی ضرورت ہے۔


امریکی امدادسے صرف پاک فوج کوفائدہ پہنچااورعام پاکستانی اس کے فوائدسے محروم رہے،دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کوسمجھنے میں ہمیشہ ناکام رہے،پاک فوج نے نئی دہلی کے ساتھ مقابلے کی فضاقائم رکھنے کیلیے امریکا کے ساتھ تعلقات کوہمیشہ اہمیت دی،یہ تصورکہ پاکستان کی امدادکریں گے توپاکستانی فوج اپنے مقاصد سے بازآ جائیگی امریکاکی خوش فہمی ہے۔

افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاکے بعدواشنگٹن اوراسلام آبادکے تعلقات ایک نیارخ اختیارکریں گے۔ہڈسن انسٹیٹیوٹ میں اپنی کتاب کی تقریب تعارف کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ 1947 میں برصغیرکی تقسیم اورپاکستان کے قیام کے بعدپاک فوج غیرمعمولی حدتک اپنی قوت بڑھانے میں مصروف رہی اسی وجہ سے پاکستان اندرونی طور پرناکام ہوااورپاکستانی کبھی یہ سوچنے پرتیارنہیں ہوپائے کہ انھیں کس طرح بغیرکسی بیرونی سہارے کے اپنے پیروں پرکھڑا ہوناہے۔انھوں نے کہاکہ ایک قوم جس کے پاس جوہری ہتھیارہوں، اسے کسی نوجوان بچے کے طرح کارویہ اختیارنہیں کرنا چاہیے،جو زیادہ سے زیادہ ہتھیارخریدتاچلاجائے اوروجہ یہ بتائے کہ اسے اپنے خاندان کی حفاظت کرنی ہے اورپھر ساری رات جاگتارہے کہ کہیں کوئی میرے ہتھیارنہ چرا لے جائے اوربالآخر یہ رت جگے اسے دل کے دورے اوربلند فشار خون کی بیماریوں میں مبتلاکردیں۔حسین حقانی نے کہاکہ پاکستان کوچاہیے کہ وہ غربت، جہالت اورافلاس کیخلاف کام کرے اور ساری توجہ اورتوانائی ملکی دفاع پررکھنے سے اجتناب برتے۔

Recommended Stories

Load Next Story