راولپنڈی حالات معمول پر آنا شروع ضلعی پولیس قیادت تبدیل
فوارہ چوک سے لاش ملی،تعلیمی ادارے، دفاتر کھل گئے، متاثرہ تاجروں کا مظاہرہ، کشیدگی برقرار، اختر لالیکا سی پی او تعینات
سابق آرپی او زعیم اقبال سانحے کے وقت روالپنڈی میں نہیں تھے، سی پی او بلال صدیق مری میں موجود پائے گئے، جس سے کمان متاثر ہوئی فوٹو ایکسپریس/فائل
راولپنڈی میں کشیدگی کی فضا 5 ویں روز بھی برقرار رہی تاہم معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں، فرائض سے غفلت پر ضلعی پولیس قیادت تبدیل کر دی گئی جبکہ کوہاٹ میں فریقین کا جرگہ کامیاب ہونے کے بعد آج کرفیو اٹھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز راولپنڈی بھر کے تمام تعلیمی ادارے اور دفاترکھل گئے، متاثرہ علاقوں کی دکانیں حفظ ماتقدم کے طور پر بند رہیں۔ حساس علاقوں میں فوج بدستور تعینات رہی۔ حکام کے مطابق منگل کو فوارہ چوک کے قریب سے ایک لاش ملی ہے جس سے مرنے والے افراد کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ مغل آباد میں فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا ہے، تاہم اس میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ متاثرہ تاجروں اور دکانداروں نے گزشتہ روز مطالبات کی منظوری کے لیے فوارہ چوک میں احتجاجی دھرنا دیا۔ کمشنر راولپنڈی خالد مسعود چوہدری نے بتایا کہ سانحہ راولپنڈی میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے پولیس کوششیں کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اب تک تقریباً 40 افراد کو زیرِ حراست لیا گیا ہے۔
راولپنڈی پولیس کنٹرول روم کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کا انتظامی کنٹرول پولیس کے پاس ہے اور شہر میں فوج اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب حکومت نے راجہ بازار میں دو گروپوں میں تصادم کے دوران مبینہ طور پر سنگین نوعیت کی غفلت و بے پروائی برتنے پر راولپنڈی کے ریجنل پولیس آفیسر زعیم اقبال شیخ، سی پی او بلال صدیق کمیانہ، ایس ایس پی وی آئی پی سیکیورٹی دار علی خٹک اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ راولپنڈی کے سربراہ ایس ایس پی ڈاکٹر محمد اعظم کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ آر پی او ڈیرہ غازی خان ڈی آئی جی اختر عمر حیات لالیکا کو سی پی او راولپنڈی اور ایس پی رائے ضمیر کو ایس ایس پی وی آئی پی سکیورٹی راولپنڈی تعینات کر دیا گیا ہے۔ عمرحیات لالیکا کے پاس آر پی او راولپنڈی کا اضافی چارج بھی ہوگا۔
ذرائع کے مطابق سابق آر پی او زعیم اقبال شیخ سانحہ کے وقت راولپنڈی میں موجود نہیں تھے اور کمشنر راولپنڈی کے ساتھ ہیلی کاپٹر پر جہلم اور دیگر علاقوں کا دورہ کر رہے تھے، اسی طرح سی پی او بلال صدیق کمیانہ مری میں موجود پائے گئے جس کے باعث جائے وقوعہ پر فورس کی کمانڈ متاثر ہوئی، ایس ایس پی وی آئی پی سیکیورٹی کمانڈ کا درست رول ادا نہ کرسکے۔ زعیم اقبال شیخ کو او ایس ڈی قرار دیکر محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسڑیشن میں رپورٹ کرنے کے لیے کہا گیا جبکہ بلال صدیق کمیانہ اور دار علی خٹک کو سینڑل پولیس آفس رپورٹ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ ڈاکٹر اعظم کو ہیڈکوارٹرز بجھوا دیا گیا ہے جبکہ انکی جگہ گوجرانوالہ سے ایس پی کو اضافی ذمے داری سونپی گئی ہے۔
سینٹرل پولیس آفس کے ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں ایس ایس پی آپر یشن سکندر حیات' ایس پی ٹریفک حسیب شاہ اور غفلت کے مر تکب دیگر پولیس افسروں کے تبادلے کا امکان ہے۔ اسلام آباد میں پولیس اور سپیشل برانچ نے 63 عبادت گاہوں اور 33 علماء کی نگرانی شروع کر دی ہے۔ ادھر کوہاٹ میں دوسرے روزکرفیو کے باعث کاروبار زندگی مکمل طور پر معطل رہا جبکہ بازار اور تمام تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔ انتظامیہ کی جانب سے شہر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔ کوہاٹ میں تصادم کے بعد دونوں گروپوں کے مشران کے درمیان ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں کامیاب مذاکراتی جرگہ ہوا جس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک روز قبل ہونیوالا افسوسناک واقعہ کسی گروپ کی کارروائی نہیں تھی بلکہ یہ نامعلوم شرپسند تھے جنہوں نے تمام کارروائیاں کی ہیں۔ کمشنر کوہاٹ جمال الدین نے امن جرگہ کی کامیابی پر دونوں فریقین کی کاوشوں کو سراہا اور کہا آج بدھ کو صبح 7 بجے کرفیو اٹھا لیا جائیگا۔
گزشتہ روز راولپنڈی بھر کے تمام تعلیمی ادارے اور دفاترکھل گئے، متاثرہ علاقوں کی دکانیں حفظ ماتقدم کے طور پر بند رہیں۔ حساس علاقوں میں فوج بدستور تعینات رہی۔ حکام کے مطابق منگل کو فوارہ چوک کے قریب سے ایک لاش ملی ہے جس سے مرنے والے افراد کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ مغل آباد میں فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا ہے، تاہم اس میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ متاثرہ تاجروں اور دکانداروں نے گزشتہ روز مطالبات کی منظوری کے لیے فوارہ چوک میں احتجاجی دھرنا دیا۔ کمشنر راولپنڈی خالد مسعود چوہدری نے بتایا کہ سانحہ راولپنڈی میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے پولیس کوششیں کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اب تک تقریباً 40 افراد کو زیرِ حراست لیا گیا ہے۔
راولپنڈی پولیس کنٹرول روم کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کا انتظامی کنٹرول پولیس کے پاس ہے اور شہر میں فوج اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب حکومت نے راجہ بازار میں دو گروپوں میں تصادم کے دوران مبینہ طور پر سنگین نوعیت کی غفلت و بے پروائی برتنے پر راولپنڈی کے ریجنل پولیس آفیسر زعیم اقبال شیخ، سی پی او بلال صدیق کمیانہ، ایس ایس پی وی آئی پی سیکیورٹی دار علی خٹک اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ راولپنڈی کے سربراہ ایس ایس پی ڈاکٹر محمد اعظم کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ آر پی او ڈیرہ غازی خان ڈی آئی جی اختر عمر حیات لالیکا کو سی پی او راولپنڈی اور ایس پی رائے ضمیر کو ایس ایس پی وی آئی پی سکیورٹی راولپنڈی تعینات کر دیا گیا ہے۔ عمرحیات لالیکا کے پاس آر پی او راولپنڈی کا اضافی چارج بھی ہوگا۔
ذرائع کے مطابق سابق آر پی او زعیم اقبال شیخ سانحہ کے وقت راولپنڈی میں موجود نہیں تھے اور کمشنر راولپنڈی کے ساتھ ہیلی کاپٹر پر جہلم اور دیگر علاقوں کا دورہ کر رہے تھے، اسی طرح سی پی او بلال صدیق کمیانہ مری میں موجود پائے گئے جس کے باعث جائے وقوعہ پر فورس کی کمانڈ متاثر ہوئی، ایس ایس پی وی آئی پی سیکیورٹی کمانڈ کا درست رول ادا نہ کرسکے۔ زعیم اقبال شیخ کو او ایس ڈی قرار دیکر محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسڑیشن میں رپورٹ کرنے کے لیے کہا گیا جبکہ بلال صدیق کمیانہ اور دار علی خٹک کو سینڑل پولیس آفس رپورٹ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ ڈاکٹر اعظم کو ہیڈکوارٹرز بجھوا دیا گیا ہے جبکہ انکی جگہ گوجرانوالہ سے ایس پی کو اضافی ذمے داری سونپی گئی ہے۔
سینٹرل پولیس آفس کے ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں ایس ایس پی آپر یشن سکندر حیات' ایس پی ٹریفک حسیب شاہ اور غفلت کے مر تکب دیگر پولیس افسروں کے تبادلے کا امکان ہے۔ اسلام آباد میں پولیس اور سپیشل برانچ نے 63 عبادت گاہوں اور 33 علماء کی نگرانی شروع کر دی ہے۔ ادھر کوہاٹ میں دوسرے روزکرفیو کے باعث کاروبار زندگی مکمل طور پر معطل رہا جبکہ بازار اور تمام تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔ انتظامیہ کی جانب سے شہر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔ کوہاٹ میں تصادم کے بعد دونوں گروپوں کے مشران کے درمیان ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں کامیاب مذاکراتی جرگہ ہوا جس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک روز قبل ہونیوالا افسوسناک واقعہ کسی گروپ کی کارروائی نہیں تھی بلکہ یہ نامعلوم شرپسند تھے جنہوں نے تمام کارروائیاں کی ہیں۔ کمشنر کوہاٹ جمال الدین نے امن جرگہ کی کامیابی پر دونوں فریقین کی کاوشوں کو سراہا اور کہا آج بدھ کو صبح 7 بجے کرفیو اٹھا لیا جائیگا۔