گراں خواب معیشت کے سنبھلنے کی ضرورت

عوام مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں، بچے اسکولوں سے نکالے جا رہے ہیں، علاج معالجے کی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں۔

عوام مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں، بچے اسکولوں سے نکالے جا رہے ہیں، علاج معالجے کی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں۔ (فوٹو: فائل)

حکومت کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں مہنگائی اور عوام کی بڑھتی ہوئی مایوسی آج کا سب سے اہم سوال ہے۔ اس کی شدت اور اعصاب شکنی اتنی تکلیف دہ اور دل گرفتہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم کی پیش کردہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

ذرایع نے بتایا کہ وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی برائے ریونیو ہارون اختر خان نے وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کو موجودہ معاشی صورتحال پر بریفنگ دی۔ انھوں نے کاروباری اور معاشی ماہر کی حیثیت سے بریفنگ دی، یہ بریفنگ ایف بی آر کی کارکردگی، ملکی معاشی صورتحال، کاروباری بحالی، برآمدات اور بینکنگ سیکٹر سے متعلق تھی۔ بریفنگ میں برآمدات، ٹیکس وصولی، افراط زر اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق بتائے گئے اعداد و شمار وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ معاشی بہتری کے تاثر کی فی الوقت کوئی علامت دیکھنے میں نہیں آئی۔

گزشتہ 15 ماہ کے دوران صنعتوں کا حجم مزید سکڑا ہے اور تین ماہ کے دوران برآمدات میں انتہائی کمی دیکھی گئی۔ ادھر قومی اسمبلی نے مہنگائی پر بحث کی۔ وفاقی کابینہ نے منگل کو اجلاس میں نیٹو سپلائی معاہدے سمیت 14 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا۔ مگر اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی، سرمایہ کاروں کے ایک کھرب 42 ارب ڈوب گئے، انڈیکس کی 40 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی گر گئی، ماہرین کے مطابق بیشتر شعبے شرح سود گھٹنے کے بجائے بڑھنے کے خدشات کے پیش نظر سرمائے کے انخلا کو ترجیح دے رہے ہیں۔ گمبھیر سی صورتحال ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جو ہاتھ پھیلاتا ہے دنیا اس پر توجہ نہیں دیتی، انھوں نے خبردار کیا کہ جب تک معیشت کی رفتار تیز نہیں ہوگی، اس وقت تک ملکی خارجہ پالیسی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

درحقیقت معاشی صورتحال نے تیزی سے ابتری کی طرف سفر شروع کیا، اس سے ارباب اختیار اور وزیر اعظم کا تشویش میں مبتلا ہونا فطری ہے کیونکہ حکومت کے معاشی مسیحا بڑی مشکل سے خواب غفلت سے جاگے ہیں اور انھیں معیشت کے استحکام اور بحالی کی حقیقت کا رفتہ رفتہ ادراک اب جا کے ہونے لگا ہے اور زمینی اقتصادی حقائق ان کے فہم و ادراک میں داخلی اور خارجی ذرایع سے مسلسل چلے آرہے ہیں، حکمرانوں کو اندازہ ہو گیا ہے کہ معیشت اور مہنگائی یا بیروزگاری اور بد انتظامی کا شوشہ محض میڈیا کا پھیلایا ہوا نہیں بلکہ حالات واقعی ابتری کا شکار ہیں۔ بقول شاعر

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ

اداسی بال کھولے سو رہی ہے

غربت سر اٹھا رہی ہے، لوگ دو وقت کے کھانے سے محروم ہو گئے ہیں، اشیائے خور و نوش عام آدمی کی بساط سے باہر ہو چکے، بے بسی اور لاچاری کے باعث لوگ خود کشی پر مجبور ہو رہے ہیں، فرسٹریشن بڑھ رہی ہے۔ اس لیے حکمرانوں کا آنکھیں کھولنا صائب فیصلہ ہے، حکومت کو احساس ہو گیا ہے کہ معاشی معاملات کی اصلاح ناگزیر ہے، مبادا اقتصادی منظر نامہ ہولناکی کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔


ادھر میڈیا نے لمحے لمحے کی خبر دے کر ارباب اختیار کو قائل کر ہی لیا کہ معیشت بحال نہیں، ڈوب رہی ہے چنانچہ حکومت نے اس تپش اور اپنی کمزور ی کو اب محسوس بھی کر لیا ہے کہ قصور معاشی پالیسیوں کے فقدان کا ہے جب کہ بر وقت فیصلہ سازی سے گریز اور حقیقت پسندانہ معاشی پالیسیوں پر عملدرآمد کے بجائے حکومت مخالف طاقتوں کو بلڈوز کرنے پر طاقت اور وقت کے ضیاع سے نوبت یہاں تک پہنچی۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا کہ صدر مملکت بھی یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ 22 لاکھ لوگوں کا بیروزگار ہونا تشویش ناک ہے۔

مہنگائی سے نمٹنے کے لیے وزیر اعظم نے15 ارب کے ریلیف پیکیج کا فیصلہ کیا ہے، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی کی برآمد اور پر پابندی اور درآمد کی تجویز رد کر دی ہے، اطلاع یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ پالیسی مذاکرات کے پہلے مرحلے کے دوران آئی ایم ایف ٹیکس وصولیوں میں کمی پر کی کارکردگی پر ناخوش ہے، نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کی تجویز پیش نظر ہے۔FATF کا پانچ روزہ اجلاس 16 فروری کو پیرس میں شروع ہو گا جس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے یا نکالنے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا، ذرایع کے مطابق دنیاکے39 ممالک پیرس میں سر جوڑ کر بیٹھیں گے جب کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے مزید چار ممالک کی حمایت کی ضرورت ہے۔

بلاشبہ مذکورہ بریفنگ وزیر اعظم کے ان حالیہ رابطوں کا حصہ ہے جو وہ معاشی حقائق جاننے کے لیے ماہرین معاشیات سے کر رہے ہیں، ان میں اقتصادی مشاورتی کونسل کے سابق رکن میاں عاطف، اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر اور سابق وزیر خزانہ شامل ہیں، چند روز قبل میاں عاطف ویڈیو لنک کے ذریعے وزیر اعظم کو بریفنگ دے چکے ہیں، ذرایع کے مطابق گزشتہ روز ہونے والا اجلاس بڑھتی ہوئی عوامی مایوسی، وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے مثبت رپورٹوں اور خفیہ رپورٹوں کی روشنی میں منعقد کیا گیا، خفیہ رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ ملکی معاشی صورتحال سرکاری بریفنگز میں دکھائی جانے والی صورتحال سے یکسر مختلف ہے۔

اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین اور معاشی ٹیم کے بنیادی ارکان گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، وفاقی وزیر خوراک خسرو بختیار، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر زرعی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین اور وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر بھی موجود تھے۔ تاہم معیشت کے حکومتی مکتب خیال سے غیر متفق ماہرین معاشیات تقریباً ایک سال سے انتباہ دے رہے تھے کہ بے نتیجہ معاشی سرگرمیوں سے عوام کو کچھ حاصل نہیں ہو گا، حالانکہ میڈیا نے فکر انگیز تجزیے مہیا کیے، تاجروں، صنعتکاروں اور ماہرین اقتصادی نے غیر جانبدارانہ اقتصادی جائزے پیش کرتے ہوئے معیشت کو در پیش خطرات اور اندیشوں سے ارباب اختیار کی رہنمائی کی ہر ممکن کوشش کی مگر کوئی سننے والا نہ تھا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز سے ریلیف ملنے کا عمل پائیدار نہیں ہو گا، توانائی کی کوئی جامع پالیسی نہیں، گیس، بجلی، سی این جی اور ایل پی جی سمیت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی کسی کو فکر نہیں، پی ٹی آئی کی اقتصادی پالیسی آئی ایم ایف کے معاہدات کا پرتو ہے، بس آٹو پائلٹ طرز پرکام ہو رہا ہے، مبصرین کے مطابق معاشی جھٹکا حکومت کی آئی ایم ایف سے فوری رجوع کرنے میں مجرمانہ غفلت سے لگا، حکومت کو مئی 2019ء کے بجائے اگست2018ء میں پروگرام لے لینا چاہیے تھا۔ ایک اقتصادی مفکر کا کہنا تھاکہ حکومت کا انداز نظر یہ تھا کہdo what the IMF say and sit back ۔ لہذا اقتصادی اور معاشی پالیسیوں کے تسلسل کی نتیجہ خیز مانیٹرنگ سے اجتناب بھی مسائل کا سبب بنا، اس وقت افراط زر 14.5 فیصد ہے، گزشتہ ایک عشرے میں یہ سب سے زیادہ ہے، غذائی افراط زر25 فیصد ہے۔

عوام مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں، بچے اسکولوں سے نکالے جا رہے ہیں، علاج معالجے کی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں، کتوں کے کاٹے سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں، زرعی پیداوار گھٹ گئی، ٹیکسٹائل برآمدات سکڑتی جا رہی ہیں، آٹو موبیل انڈسٹری انحطاط پذیر ہے، جی ڈی پی 2.2 رہ جائے گی۔

حکومت کرنٹ خسارے میں کمی کا ٹارگٹ حاصل کر چکی مگر عوام کو ہمہ جہتی ریلیف کے تناظر میں بریک تھرو جیسا ٹریکل ڈاؤن نہیں ملا۔300 روپے ٹماٹرسے بات چلی تو آٹے، گندم اور چینی کے بحران تک معاملہ پہنچا۔اب جب کہ وزیر اعظم نے مہنگائی پر قابوب پانے کا عندیہ ''وار فوٹنگ'' پر دیا ہے تو قوم منتظر ہے کہ حکومتی اعلانات کا عملی سطح پر امید افزا نتیجہ نکلنا چاہیے۔ بعض مبصرین کے مطابق حکومت اور عوام اگر معاشی سیاق وسباق میں ہمیشہ ایک ہی پیج پر ہوتے تو حکومت کو موجودہ اقتصادی دھچکا ہر گز نہ لگتا۔ لیکن حکمران اسی فکری مغالطے میں غلطاں رہے کہ:

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
Load Next Story