کرائم برانچII افسران میں سرد جنگ براھ راست ڈی آئی جی سے رابطے

ایس پی اور ڈی ایس پی ایک دوسرے کے منظور نظر افراد کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا کر معطل کردیتے ہیں

ایس پی اور ڈی ایس پی ایک دوسرے کے منظور نظر افراد کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا کر معطل کردیتے ہیں فوٹو: فائل

کرائم برانچ II میں افسران کے درمیان جاری سرد جنگ شدت اختیار کرگئی۔

ڈی ایس پی کی جانب سے محکمانہ کارروائیوں میں ایس پی کو نظر انداز کر کے براہ راست ڈی آئی جی کو آگاہ کرنے کے عمل سے کرائم برانچ II میں تعینات پولیس افسران و اہلکارمایوس ہوگئے ، ایس پی اور ڈی ایس پی ایک دوسرے کے منظور نظراہلکاروں کو انتقام کا نشانہ بنا کر معطل کررہے ہیں جبکہ کرائم برانچ IIمیںتعینات تمام عملہ تبادلہ کرانے میں مصروف ہے ،پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کرائم برانچ کے ڈی آئی جی ڈاکٹر کامران فضل کے منظورنظرڈی ایس پی محمود خان اور ایس پی طاہر نورانی کے درمیان جاری سرد جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔

دونوں افسران ایک دوسرے کے منظور نظر پولیس افسران و اہلکاروں کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا کر معطل کررہے ہیں، کئی اہم دفتری معاملات میں ڈی ایس پی محمود خان ایس پی طاہر نورانی کو کسی خاطر میں لائے بغیر براہ راست ڈی آئی جی کو رپورٹ کر دیتے ہیں اور اس حوالے سے دونوں پولیس افسران میں جاری سرد جنگ نے شدت اختیار کرلی ہے ،ڈی ایس پی محمود خان ڈی آئی جی کرائم برانچ ڈاکٹر کامران فضل کے انتہائی قریبی اور بااعتماد ساتھی ہیں جو ان کے ہمراہ اس وقت بھی ساتھ تھے جب ڈاکٹر کامران فضل ڈی آئی جی سی آئی ڈی تھے اور جب وہ ڈی آئی جی کرائم برانچ تعینات ہوئے تو ڈی ایس پی محمود خان نے بھی اپنا تبادلہ کرائم برانچ کرالیا ، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی نے اپنی پولیس پارٹی ہے۔




جو شہر بھر میں اپنی پسند کے مطابق کارروائیاں کر رہی ہے اور زیادہ تر پان چھالیہ فروخت کرنے والوں کو براہ راست نشانہ بنا کر انھیں حراست میں لیا جاتا ہے اوران پرگٹکے کی فروخت اورغیرملکی سگریٹ کی فروخت سمیت دیگر سنگین الزامات لگا کر بھاری رشوت طلب کی جاتی ہے اورنہ دینے پر ان پر منشیات کا مقدمہ درج کر دیا جاتا ہے ، کرائم برانچII نے کریم آباد سے پکڑے جانے والے پان چھالیہ کی دکان کے مالک کے بیٹے کو حراست میں لینے کے بعد اس کی رہائی کے عوض مبینہ طور بھاری رشوت طلب کی اور نہ دینے پر اس کے خلاف منشیات کا مقدمہ درج کر کے اس کی گرفتاری کیماڑی مزار والی گلی سے ظاہر کی اور اس کے بھائی کو مفرور قرار دے دیا۔

کرائم برانچ پولیس کے 2 افسران میں جاری سرد جنگ کے نتیجے میں اب تک متعدد افسران کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا کر معطل کیا جا چکا ہے جبکہ وہاں پر تعینات دیگر پولیس افسران و اہلکاروں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے اور وہ اعلیٰ افسران کے درمیان جاری جنگ سے اپنی جان چھڑانے کے لیے پولیس کے دیگر یونٹس میں تبادلہ کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ، ڈی ایس پی نے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جعفری نامی ہیڈ کانسٹیبل کو بھی اسپیشل پارٹی کا انچارج بنا دیا ہے جس پر کرائم برانچIIمیں تعینات افسران اور اہلکاروں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور ان کی جانب سے اعلیٰ افسران سے احتجاج بھی کیا گیا۔
Load Next Story