سانحہ پنڈی کی تحقیق پر قائم کمیشن مسترد کرتے ہیں شیعہ قائدین
چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا جائے،عباس کمیلی،ناظرعباس و دیگر
چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا جائے،عباس کمیلی،ناظرعباس و دیگر. فوٹو : پی پی آئی
شیعہ تنظیموں کے قائدین نے سانحہ راولپنڈی کی تحقیقات کیلیے تشکیل دیے جانے والے کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی اور3 ججز کی نگرانی میں کمیشن قائم کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ سانحہ راولپنڈی میں حکومت خود ملوث ہے، جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن اور جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمٰن کیخلاف حکومتی مدعیت میں مقدمات قائم کیے جائیں، جمعہ22 نومبر کو ملک بھر میں یوم عظمت نواسہ رسولؐ منایا جائے گا اور شہر بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، ان خیالات کا اظہار علامہ عباس کمیلی، علامہ حسن ظفرنقوی، علامہ ناظرعباس تقوی، مولانا دیدار علی جلبانی و دیگر نے پاک محرم ہال میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا، انھوں نے کہا کہ سانحہ راولپنڈی کے حوالے سے پنجاب حکومت کی جانب سے قائم کمیشن کو مسترد کرتے ہیں۔
سانحہ پنڈی سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں مساجد اور امام بارگاہوں کو نذر آتش کیے جانے کے واقعات کا نوٹس لیا جائے، سپریم کورٹ کی سربراہی میں کام کرنے والے اعلیٰ سطحی کمیشن کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کیا جائے اور ان تمام واقعات کی تحقیقات منظر عام پر لائی جائیں، رہنماؤں نے کہا کہ اگر ملت جعفریہ کے خلاف سازشوں کا سلسلہ نہ روکا گیا تو سنگین حالات کی ذمے داری وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت پر عائد ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ سانحہ راولپنڈی میں حکومت خود ملوث ہے، جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن اور جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمٰن کیخلاف حکومتی مدعیت میں مقدمات قائم کیے جائیں، جمعہ22 نومبر کو ملک بھر میں یوم عظمت نواسہ رسولؐ منایا جائے گا اور شہر بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، ان خیالات کا اظہار علامہ عباس کمیلی، علامہ حسن ظفرنقوی، علامہ ناظرعباس تقوی، مولانا دیدار علی جلبانی و دیگر نے پاک محرم ہال میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا، انھوں نے کہا کہ سانحہ راولپنڈی کے حوالے سے پنجاب حکومت کی جانب سے قائم کمیشن کو مسترد کرتے ہیں۔
سانحہ پنڈی سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں مساجد اور امام بارگاہوں کو نذر آتش کیے جانے کے واقعات کا نوٹس لیا جائے، سپریم کورٹ کی سربراہی میں کام کرنے والے اعلیٰ سطحی کمیشن کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کیا جائے اور ان تمام واقعات کی تحقیقات منظر عام پر لائی جائیں، رہنماؤں نے کہا کہ اگر ملت جعفریہ کے خلاف سازشوں کا سلسلہ نہ روکا گیا تو سنگین حالات کی ذمے داری وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت پر عائد ہوگی۔