بلدیہ عظمیٰڈائریکٹر ٹیکنیکل سروسز نے قوانین کی دھجیاں اڑادیں

نیاز سومرونے تحلیل شدہ محکموں کوقانون کے بر خلاف مزید 11 کروڑ روپے بھی دیدیے

نیاز سومرونے تحلیل شدہ محکموں کوقانون کے بر خلاف مزید 11 کروڑ روپے بھی دیدیے. فوٹو فائل

KABUL:
بلدیہ عظمیٰ کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل سروسز نیاز سومرو نے ''کمال جرأت'' کا مظاہرہ کرتے ہوئے کالعدم تحلیل شدہ محکموں کو قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مزید 11 کروڑ روپے دیدیے ہیں۔

اس صورتحال پر بلدیہ عظمیٰ محکمہ ٹیکنیکل سروسز ڈپارٹمنٹ کے انجینئرز نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ محکمے کے سربراہ اپنے محکمے کے ساتھ بدترین ظلم کے مرتکب ہورہے ہیں تاہم کوئی ایسی اتھارٹی نہیں ہے جوان کو اس غیرقانونی کام سے روکے ان انجینئرز نے صوبائی وزیر بلدیات شرجیل میمن سے صورتحال میں مداخلت کی اپیل کی ہے جبکہ محکمہ اینٹی کرپشن سے درخواست کی ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات کرے اور ذمے دار آفیسر کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے ۔

تاکہ کراچی کے کے اربوں روپے جس بے دردی سے ٹھکانے لگائے جارہے ہیں نہ صرف اس کا سدباب ہوسکے بلکہ آئندہ کوئی آفیسر ایسی ہمت نہ کرسکے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کے سابق ایڈمنسٹریٹر ہاشم زیدی اور موجودہ ایڈمنسٹریٹر ثاقب سومرو نے باضابطہ حکمنامے جاری کرکے تحلیل شدہ محکموں کے انجینئرز سے ڈرائنگ ڈسپرسنگ آفیسرز کی حیثیت اختیارات سلب کرکے بلدیہ عظمیٰ کے پانچ افسران کو اس سلسلے میں اختیارات تفویض کردیئے تھے اور اس سلسلے میں اے جی آفس کے اعلیٰ افسران کو بھی آگاہ کردیا تھا ۔




تاہم اس کے باوجود بلدیہ عظمیٰ کے محکمہ ٹیکنیکل سروسز کے ڈائریکٹر جنرل نیاز سومرو نے دو ارب روپے مالیت کی اسکیموں کی ادائیگیوں ، نگرانی اور عملدرآمد کا اختیارات تحلیل شدہ محکموں کے انجینئر کو دیدئے ہیں جس کا ان کو اختیار ہی نہیں تھا ،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مد میں نیاز سومرو کم وبیش 50کروڑ روپے کی رقم ابھی تک ان تحیل شدہ محکموں کے افسران کے حوالے کرچکے ہیں ، بلدیہ عظمیٰ کا کہنا ہے کہ نیاز سومرو ایسا کرکے کھلم کھلا قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کو تحقیقات کرنی چاہیے محکمے کے انجینئرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیاز سومرو کیونکہ ایک جونیئر آفیسر ہیں اور انجینئرنگ کے معاملات پر بھی ان کی گرفت نہیں ہے جس کے باعث وہ محکمے کے انجینئرز سے خوف زدہ رہتے ہیں ۔

جس کے باعث ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بلدیہ عظمیٰ کے انجینئرز کو کم سے کم معاملات میں ملوث کریں ،ذرائع یہ بھی بتایا کہ ایڈمنسٹریٹر ثاقب سومرو کی تبدیلی اور رؤف اختر فاروقی کی بطور ایڈمنسٹریٹر تعنیاتی کی خبروں سے نیاز سومرو آج کل بہت خوف زدہ ہیں کیونکہ ان کو خدشہ ہے کہ اگر نئے ایڈمنسٹریٹر نے ان کی پشت پنائی کرنے کے بجائے اگر انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ ہونے والی بے قاعدگیوں سے پردہ اٹھالیا تو ان کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں، ذرائع نے بتایا کہ اس صورتحال پر محکمے کے انجینئرز بھرپور لطف اٹھارہے ہیں اور افسران بار بار جاکر ان سے استفسار کرتے ہیں کہ سر آپ کے خیال میں رؤف فاروقی ایڈمنسٹریٹر ہوجائیں گے جس پر نیاز سومرو بے ساختہ کہتے ہیں کہ نہیں وہ نہیں ہوسکتے جس پر افسران اپنے اپنے کمروں میں جاکر دوسرے افسران کو وہاں کی منظر کشی کرکے خوب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجاتے ہیں۔
Load Next Story