معاشی ریلیف اصل ایجنڈا

یہ وقت ہے کہ سیاسی ترجیحات اور سیاسی پنڈولم کا رخ عوام کے ریلیف کی طرف موڑا جائے۔

یہ وقت ہے کہ سیاسی ترجیحات اور سیاسی پنڈولم کا رخ عوام کے ریلیف کی طرف موڑا جائے۔فوٹو: فائل

وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں مہنگائی اور ملاوٹ مافیاز کے خلاف ایمرجنسی اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اشیائے ضروریہ جن میں گندم ، چینی اور دیگر شامل ہیں کی طلب ورسد کے تخمینوں اور فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ خصوصی سیل کے قیام کا عمل تیزکیا جائے اور آیندہ ایک ہفتے کے اندر ملاوٹ مافیازکے خلاف ایمرجنسی کا نفاذ کرکے نیشنل ایکشن پلان اور ٹائم لائنز پر مبنی روڈ میپ ترتیب دیا جائے۔

جمعرات کو وزیر اعظم کی زیر صدارت ملک بھر میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں کے جائزہ ، پرائس کنٹرول، ذخیرہ اندوزی ، ناجائزمنافع خوری اور ملاوٹ کی روک تھام کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں اسد عمر ، مخدوم خسرو بختیار ، عبدالرزاق داؤد ، فردوس عاشق اعوان جب کہ متعلقہ محکموں اور وزارتوں کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم نے مہنگائی اورملاوٹ کے حوالہ سے ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت پر زور دے کر افسر شاہی کومتحرک کرنے کی کوشش کی ہے، ویسے تو لفظ ایمرجنسی کو ہٹا دیں تو ایسے سیکڑوں اعلانات اور ہدایات وفاق اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے حکام کو وقتاً فوقتاً جاری ہوتے رہے ہیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا، قوم نے مہنگائی اور ملاوٹ کے خاتمے کے لیے ایک فیصلہ کن جنگ یا موثرترین ملک گیر مہم کبھی نہیں دیکھی، بلکہ معاشی مبصرین اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے پہلے دن سے اپوزیشن کی تنقیدکو ہمیشہ تنقید برائے تنقید سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔

بعض وزراء تو ٹی وی ٹاکس میں ببانگ دہل تکرارکرتے رہتے تھے کہ اپوزیشن کے پاس اپنے گناہوں کو چھپانے کے لیے مہنگائی کی قوالی ہی رہ گئی ہے اور وہ اس کے ذریعے حکومت کو بڑے اقتصادی فیصلے کرنے سے روکنے اور قومی معاشی پالیسیوں پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے میڈیا کو استعمال کررہی ہے۔ اس بیانیے نے درحقیقت حکومت اور اپوزیشن کے مابین بدگمانی ،کشیدگی، تناؤ اور الزام تراشی کے منظر نامہ کی بنیاد رکھی جو آج تک جاری ہے جب کہ ان ابتدائی ڈیڑھ برسوں میں حکومت کے خلاف اپوزیشن نے جو سب سے بڑا مزاحمتی کارڈ استعمال کیا ہے وہ مہنگائی کارڈ ہے جس کی زمینی حقیقت واشگاف ہے اور حکومت اس پچ پر کوئی لمبی اننگز نہیں کھیل سکی، اسے بیک فٹ پر رہنا پڑا ہے اور موجودہ صورتحال حکومتی وزراء ، مشیروں اور معاونین خصوصی کے لیے ایک اعصابی جنگ کے مترادف ہے، بقول شخصے

کون ہوتا ہے حریف مئے مرد افگن عشق

ہے مکرر لب ساقی پہ سدا میرے بعد


موجودہ مہنگائی کا حوالہ بلاشبہ عوام کو درپیش روز مرہ کی ضرورتوں سے ہے، جب پی ٹی آئی کی حکومت برسر اقتدار آئی توقعات کے زبردست شیش محل تعمیر ہوچکے تھے، عمران خان نے ایک ایسا غیرمرئی اور غیر تحریر شدہ ابتدائی منشور عوام کو دیا جس میں تبدیلی کانعرہ ایک سیاسی ، معاشی اور سماجی سونامی کی حقیقت بن کر نازل ہونے والا تھا۔2013 میں عمران کے دست وبازو اور سیاسی طاقت اس کے نوجوان تھے جو ملک میں ایک نئے معاشی اور سیاسی نظام کے خواب دیکھ رہے تھے۔ اس وقت کے حالات بتا رہے تھے کہ نواز حکومت دفاعی پوزیشن اختیارکرنے پر مجبور تھی، کنٹینر سیاست نے ماحول کو گرما دیا تھا اور عمران نے پورے سسٹم اور سیاسی بساط کو الٹ کر نئے پاکستان کا ایک ہوشربا بیانیہ دیا۔

بعد میں جب 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی جیت گئی تو تبدیلی کے اسی بیانیے سے عمران خان کے ووٹرز نے دل اور دماغ میں ہواؤں کے رخ بدلنے کی امیدیں باندھ لیں، اور ہزاروں خواہشیں جو ایک نئی حکومت کے دل میںکروٹیں لیتی ہیں پی ٹی آئی کی نوجوان قیادت کا سرمایہ سیاست بن گئیں، عمران کا مائنڈ سیٹ ایک ناقابل تسخیر پاکستان کے سیاسی مستقبل کے ساتھ مشروط ہوگیا۔ لیکن کہتے ہیں سیاست امکانات کا کھیل ہے اور سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔

ان تجربوں کی صداقت آج کھل کر سامنے آئی ہے، صورتحال کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی، معیشت اور سیاست کے تضادات ببول کے کانٹے بن کر عوام کے خون جگر کا حساب لے رہے ہیں، مہنگائی، بیروزگاری، جرائم اور بے یقینی نے پوری قوم کو محاصرے میں لے لیا ہے، جمہوری عمل کو جس شاندار طریقے سے نئے طرز حکمرانی میں بدلنا چاہیے تھا وہ خواب ادھورا نظر آتا ہے اور سیاسی اور معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی کو یقین نہیں آتا کہ عمران خان سے کہاں بھول ہوگئی، اورکیوں حزب اقتدار اور حزب اختلاف بنیادی جمہوری اسپرٹ اور پارلیمانی روایات اور جمہوری آداب سے دامن بچاکر ایک دوسرے کے مقابل آگئے۔

یہ المیہ ہے کہ 72 برس کے بعد بھی ملکی سیاسی صورتحال اور اقتصادی نظام کے قیام کی کوششیں ایک مستحکم معیشت اور جمہوری طور پر استوار سسٹم کا پتہ نہیں دیتیں، وفاقی کابینہ کے سامنے مہنگائی کی روک تھام کا ایجنڈا ہے، ملک میں آٹے اور چینی کے بحران نے عوام کی نیندیں حرام کردی ہیں، ہر شے کی قیمت بڑھ گئی ہے، حکمران تاحال پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی کثیر جہتی تباہ کاریوں کا حقیقی ادراک نہیں کرسکے، کسی مشیر خزانہ کو یہ تو خبر ہونی چاہیے کہ پٹرول کی قیمت بڑھنے کا اعلامیہ اس بات کا نقارہ ہے کہ مہنگائی بے قابو ہوجائے گی، مگر عام آدمی کا المیہ یہ ہے کہ اسے معاملات سیاست میں شریک نہیں کیا جاتا ، ووٹرز اپنے نمایندوں کو پارلیمنٹ میں پہنچانے کے بعد دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر باہر پھینک دیے جاتے ہیں، لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ تبدیلی کیسی ہے، جس نے کراچی کوکچرے کے ڈھیر میں بدل دیا۔

ایک سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے آدھے کراچی کو غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات سے نجات دلانے کے لیے وزیر ریلوے سپریم کورٹ سے ہدایات لے رہے ہیں، سسٹم کی خرابی کا عالم یہ ہے کہ ٹرانسپورٹ مافیا اربوں روپے سڑکوں پر بسیں اور ٹرک دوڑا کر بٹور رہی ہے، شہریوں کو باوقار ٹرانسپورٹ نصیب نہیں۔ گھی، چینی، آٹے، سبزیوں، دالوں، پھلوں ، دودھ ، دہی اور مصالحوں کے دام آسمان سے باتیں کررہے ہیں، بکری کا گوشت من وسلوی کے مقابل آچکا ، تاجرانہ معیار اخلاق اور بے ہنگم صارف کلچر نے غربت کے اندر عیش وعشرت کے ہزار جزیرے بنا لیے ہیں۔

تاہم یہ کوشش صائب ہے کہ پنجاب، خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ، چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور دیگر سینئر حکام ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے،صوبائی چیف سیکریٹری صاحبان نے وزیراعظم کو اپنے متعقلہ صوبوں میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا، مناسب بریفنگ دی گئی کہ پنجاب ، خیبر پختونخوا اور وفاقی دارالحکومت میں مجموعی طور پر آٹے،چاول، چینی کی قیمتوں میں استحکام آرہاہے۔ سندھ میں قیمتوںمیں اضافہ دیکھا گیا ہے، وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ بلوچستان میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کو فعال بنانے کے لیے وفاقی حکومت سے ہر ممکنہ معاونت کو یقینی بنایا جائے۔

یہ وقت ہے کہ سیاسی ترجیحات اور سیاسی پنڈولم کا رخ عوام کے ریلیف کی طرف موڑا جائے کیونکہ جن سیاسی مدبرین کی طرف سے کہا گیا کہ معاشی سمت درست نہ ہوئی تو خارجہ پالیسی بھی کامیاب نہیں ہوگی۔ اس صائب صدا پر حکمران کان دھریں۔ یہ وقت کی درست ٹک ٹک ہے۔
Load Next Story