فرقہ واریت کے ذمے داروں کیخلاف بھی ایکشن لیں

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بدھ کو امن و امان اور سلامتی کی صورتحال پر غور کے لیے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی...

ہ ذمے دار افسروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے صرف تبادلے کافی نہیں، وزیر اعظم نوازشریف۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بدھ کو امن و امان اور سلامتی کی صورتحال پر غور کے لیے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سانحہ راولپنڈی کا ذمے دار انتظامیہ اور پولیس کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذمے دار افسروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے صرف تبادلے کافی نہیں۔ انھوں نے ملک بھر میں مذہبی اور گروہی منافرت پھیلانے والی وال چاکنگ اور لاؤڈ اسپیکر کا غلط استعمال بند کرنے کا حکم دیا۔

یوم عاشور کو رونما ہونے والے سانحے کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے مگر حکومت کی جانب سے اس معاملے میں ہونے والی تحقیقاتی پیشرفت نہایت سست رفتاری سے جاری ہے۔ جتنا بڑا سانحہ ہوا اس کا تقاضا تھا کہ حکومت نہایت سرعت سے تحقیقاتی عمل کو آگے بڑھاتی تاکہ ذمے داروں کو جلد از جلد قانون کی گرفت میں لایا جاتا۔ اب یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ یہ واقعہ پولیس کی مجرمانہ غفلت اور نا اہلی کے باعث پیش آیا۔ اگر پولیس اہلکار اپنے فرائض میں کوتاہی نہ برتتے اور شرپسندوں کے خلاف بروقت کارروائی کرتے تو اس واقعے کو رونما ہونے سے روکا جا سکتا تھا۔

آئی جی پنجاب نے وزیراعظم کو بریفنگ میں راولپنڈی کے واقعے میں پولیس کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طور پر 11 افراد جاں بحق اور 56 زخمی ہوئے' پنجاب پولیس نے میڈیا اداروں سے حاصل کی گئی ویڈیو فوٹیج کی مدد سے واقعے کا موجب بننے والے 9 افراد کو شناخت کے بعد گرفتار کر لیا ہے۔ محرم الحرام میں کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے حکومت کی جانب سے سیکیورٹی کے بھرپور انتظامات کیے گئے تھے مگر راولپنڈی میں سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود اتنا بڑا سانحہ رونما ہونے سے تمام حکومتی کوششوں پر پانی پھر گیا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس اہلکاروں کی اہلیت بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔

پولیس اہلکاروں نے اس موقع پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا اور شر پسندوں کو روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جس سے شرپسندوں کو کھل کھیلنے کا موقع مل گیا۔ حکومت نے پولیس کو اس واقعے کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے اس کی ضلعی قیادت تو تبدیل کر دی مگر اس کے ذمے داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔ وزیراعظم نواز شریف کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ سانحہ راولپنڈی میں غفلت برتنے والے انتظامیہ اور پولیس کے افسروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے صرف تبادلے کافی نہیں۔ لگتا یوں ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف تبادلوں میں تلاش کر کے حکومت مطمئن ہو گئی کہ اس نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایک نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ سانحہ راولپنڈی میں لاؤڈ اسپیکر استعمال کیا گیا' پولیس نے فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا؟ انتظامیہ مجرمانہ حد تک امن و امان بحال رکھنے میں ناکام رہی۔


فرقہ واریت کے عنصر نے ملک میں عوام کے باہمی اتحاد کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس کے ایک طبقے کو واضح طور پر مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ بعض گروہوں میں یہ تقسیم اس قدر گہری ہے کہ ایک گروہ دوسرے کو ذرا سی بات پر مشتعل ہو کر مرنے مارنے پر تل جاتا ہے۔ عوام کی بڑی اکثریت امن و امان کی خواہاں ہے اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کا ساتھ دینے کو قطعی تیار نہیں۔ صرف مخصوص گروہ ہیں جو اپنی مذموم کارروائیوں کی بدولت ملک میں افراتفری اور انتشار کا باعث بنتے ہیں۔

ان گروہوں کی بقا ہی اسی میں ہے کہ ملک میں امن و امان کے حالات مخدوش رہیں۔ جب تک ان گروہوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کر کے انھیں سزا نہیں دی جاتی' فرقہ واریت کا عنصر پھیلتا چلا جائے گا۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ گروہوں کو حکومتی آشیر باد حاصل رہی ہے اور اب یہ اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ حکومت کو انھیں گرفت میں لانے میں دشواری کا سامنا ہے۔ مذہبی اور گروہی منافرت پھیلانے میں وال چاکنگ کو بھی استعمال کیا جاتا ہے مگر انتظامیہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ وزیراعظم نے پولیس کو نفرت انگیز مواد'منافرت پر مبنی لاؤڈ اسپیکر کا استعمال اور وال چاکنگ روکنے کا حکم تو دے دیا ہے مگر پولیس کی کارکردگی کے تناظر میں وزیراعظم کے صرف حکم دے دینے سے کیا یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اس کے لیے ناگزیر ہے کہ حکومت فرقہ واریت کی روک تھام کے لیے باقاعدہ قانون سازی کرے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تو ممکن ہے کہ مذہبی اور گروہی منافرت پر قابو پایا جا سکے۔

کسی بھی سانحے کے بعد اس کی تشہیر اور اسے غلط رنگ دینے میں سوشل میڈیا نے بھی منفی کردار ادا کیا ہے۔ بعض مخصوص ذہنیت کے حامل افراد معاشرے میں افراتفری پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔ لہٰذا وزیراعظم نے سوشل میڈیا کے منفی کردار کی روک تھام کے لیے چند یوم کے اندر اندر سائبر قانون لانے کے لیے مسودہ تیار کر کے انھیں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ فرقہ وارانہ منافرت نے ایک دن میں جنم نہیں لیا اس کے پیچھے عشروں کی حکومتی غفلت اور چشم پوشی کا ہاتھ ہے۔ حکومتوں نے فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کبھی سنجیدگی سے کارروائی نہیں کی بلکہ اس کے برعکس ایسے عناصر کو باقاعدہ طور پر حکومتی عمل دخل میں شریک کیا گیا جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی اور انھیں انتظامی چھتری تلے اپنے نظریات کی اشاعت کا بھرپور موقع ملا۔

اب یہ مسئلہ جتنا سنگین ہو چکا ہے اسے جڑ سے اکھاڑنے کے لیے حکومت کو اپنی بھرپور قوت کا استعمال کرنا ہو گا جس میں ایک عرصہ تو لگ سکتا ہے۔ اگر ابھی سے اس عمل کا آغاز نہ کیا گیا اور روایتی بیان بازیوں اور چشم پوشی سے کام لیا گیا تو مستقبل میں فرقہ واریت کا بڑھتا ہوا ناسور ملکی سالمیت اور اتحاد کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سانحہ راولپنڈی کے ذمے دار انتظامیہ اور پولیس افسروں کے ساتھ ساتھ فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے۔
Load Next Story