افغان مہاجرین کی فوری واپسی ناگزیر

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ دوست محمد خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں مقیم افغان مہاجرین پاکستان دشمنوں کے۔۔۔

چیف جسٹس کے مطابق 90 فیصد افغانی اس صوبے کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ دوست محمد خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں مقیم افغان مہاجرین پاکستان دشمنوں کے ہاتھوںمیںکھیل رہے ہیں اور ہماری سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، دیگر صوبے اور وفاق مساوی طور پر ان کا بوجھ برداشت کریں ۔


حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی جنگ اور سماجی و معاشی صورتحال کے باعث پاکستان کو افغان مہاجرین کی ایک کثیر تعداد کو خوش آمدید کہنے کی جو سزا مل رہی ہے اسے ایک المیہ ہی کہنا مناسب ہوگا، جنرل ضیاء الحق نے سویت یونین کے خلاف امریکی حمایت سے جس دلدلی جنگ میں ملک کو پھنسادیا، اس کا خمیازہ قوم گزشتہ کئی برس سے افغان مہاجرین کی دیدہ دلیریوں اور مجرمانہ سرگرمیوں کی صورت میں آج بھگت رہی ہے ، یہ لوگ خیبر پختونخوا،کوئٹہ،لاہور،پنڈی اور کراچی سمیت ملک کے گوشے گوشے میں پھیل گئے،انھوں نے ہزاروں کی تعداد میں نادرا سے شناختی کارڈ بنوالیے، مکانات اور ہوٹلز خرید لیے، ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری کی اور اب برادر پناہ گزینوں سے اخوت کا یہ عجیب صلہ قوم کو مل رہا ہے ۔

چیف جسٹس کے مطابق 90 فیصد افغانی اس صوبے کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں، افغان کمشنریٹ کے آفیسرسید جاوید شاہ کی رٹ کی سماعت کے دوران ریمارکس میں ان کا کہنا تھا کہ بعض رپورٹس میں یہ واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ یہ افغان بیرونی ایجنسیوں کا آلہ کار بن کر ہمارے ملک کے خلاف سازش کر رہے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے پناہ گزین اسٹیٹس پر فوری نظر ثانی کی جائے، ان کو واپس بھیجا جائے، ان کے شناختی کارڈ واپس لیے جائیں اور جن لوگوں نے ان کے فارموں پر بطور ضمانتی دستخط کیے ہیں ان کے خلاف بھی سخت کارروائی ہونی چاہیے ۔
Load Next Story