لویہ جرگہ کی منظوری کے بعد 15 ہزار امریکی فوجی افغانستان میں قیام کر سکیں گےحامد کرزئی
افغانستان کو پرامن اور شفاف انتخابات کے لئے 10 سے 15 ہزارغیر ملکی فوجیوں کی ضرورت ہو گی، افغان صدر
نہ تو میں امریکا پر بھروسہ کرتا ہوں اور نہ ہی امریکا مجھ پر بھروسہ کرتا ہے, حامد کرزئی۔ فوٹو: فائل
افغان صدرحامد کرزئی کا کہنا ہے امریکا کے ساتھ قومی سلامتی کے حوالے سے ہونے والے لویہ جرگے کی منظوری کے بعد 15ہزارغیر ملکی فوجی افغانستان میں رہ سکیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق افغانستان کے صدارتی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے مطابق امریکی فوجی آپریشن کی غرض سے کسی بھی افغان شہری کے گھر میں داخل نہیں ہو سکیں گے سوائے مخصوص حالات کہ جب انہیں جان کا خطرہ ہو، حامد کرزئی نے لویہ جرگے میں شامل شرکا پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے بہتر مستقبل کے حوالے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کیونکہ یہ معاہدہ ملک میں 30 سال سے جاری جنگ سے نکلنے کا نادر موقع ہے، اس معاہدے کے ذریعے سے ہمیں ملک میں استحکام قائم کرنے لئے مزید 10 سال کا عرصہ درکارہوگا۔
حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کا تحریری معاہدہ 2014 کے انتخابات کے بعد ہی ہو گا، افغانستان کو پرامن اور شفاف انتخابات کے لئے 10 سے 15 ہزارغیر ملکی فوجیوں کی ضرورت ہو گی جس میں امریکا کے علاوہ دوسرے نیٹو ممالک اور کچھ مسلم ممالک کے فوجیوں کی مدد درکارہوگی۔ حامد کرزئی نے کہا کہ نہ تو میں امریکا پر بھروسہ کرتا ہوں اور نہ ہی امریکا مجھ پر بھروسہ کرتا ہے، میری ان کے ساتھ کشمکش رہی تو امریکا نے میرے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا۔
واضح رہے کہ افغانستان کے قبائلی عمائدین اورسیاستدانوں کے مابین امریکا اورافغانستان کے درمیان قومی سلامتی کے معاملات طے کرنے کے حوالے سے 4 روزہ لویہ جرگہ شروع ہو چکا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق افغانستان کے صدارتی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے مطابق امریکی فوجی آپریشن کی غرض سے کسی بھی افغان شہری کے گھر میں داخل نہیں ہو سکیں گے سوائے مخصوص حالات کہ جب انہیں جان کا خطرہ ہو، حامد کرزئی نے لویہ جرگے میں شامل شرکا پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے بہتر مستقبل کے حوالے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کیونکہ یہ معاہدہ ملک میں 30 سال سے جاری جنگ سے نکلنے کا نادر موقع ہے، اس معاہدے کے ذریعے سے ہمیں ملک میں استحکام قائم کرنے لئے مزید 10 سال کا عرصہ درکارہوگا۔
حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کا تحریری معاہدہ 2014 کے انتخابات کے بعد ہی ہو گا، افغانستان کو پرامن اور شفاف انتخابات کے لئے 10 سے 15 ہزارغیر ملکی فوجیوں کی ضرورت ہو گی جس میں امریکا کے علاوہ دوسرے نیٹو ممالک اور کچھ مسلم ممالک کے فوجیوں کی مدد درکارہوگی۔ حامد کرزئی نے کہا کہ نہ تو میں امریکا پر بھروسہ کرتا ہوں اور نہ ہی امریکا مجھ پر بھروسہ کرتا ہے، میری ان کے ساتھ کشمکش رہی تو امریکا نے میرے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا۔
واضح رہے کہ افغانستان کے قبائلی عمائدین اورسیاستدانوں کے مابین امریکا اورافغانستان کے درمیان قومی سلامتی کے معاملات طے کرنے کے حوالے سے 4 روزہ لویہ جرگہ شروع ہو چکا ہے۔