حصص مارکیٹ میں مندی برقرارمزید17پوائنٹس گرگئے
انڈیکس23784پربند،159کمپنیوں کی قیمتیں نیچے،سرمایہ کاروں کو9ارب کا نقصان ہوا۔
ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے3 لاکھ23 ہزار327، این بی ایف سیز کی جانب سے2 لاکھ22 ہزار813 ڈالر کی سرمایا کاری ہوئی۔ فوٹو: آن لائن/ فائل
KARACHI:
سرمایہ کاروں کوملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی پر تحفظات کے علاوہ ایک مذہبی جماعت کی جانب سے جمعہ کواحتجاجی جلسے و ریلی کے اعلان کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو بھی اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے۔
جس سے انڈیکس کی23800 کی حد گرگئی، مندی کے باعث48.18 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید8 ارب98 کروڑ3 لاکھ90 ہزار70 روپے ڈوب گئے، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں اور میوچل فنڈز کی جانب سے مجموعی طور پر25 لاکھ12 ہزار269 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے سبب ایک موقع پر113.63 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی 23900 کی حد بھی عبور ہوگئی تھی لیکن زبردست مزاحمت اور پرافٹ ٹیکنگ کا رحجان غالب ہونے کی وجہ سے انڈیکس کی مذکورہ حد زیادہ دیربرقرار نہ رہ سکی ۔
کیونکہ ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے3 لاکھ23 ہزار327، این بی ایف سیز کی جانب سے2 لاکھ22 ہزار813 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے 16 لاکھ 64 ہزار858 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 3 لاکھ ایک ہزار 270 ڈالر کا انخلا کیا گیا جس کا مارکیٹ پر اثر پڑا، کاروبار کے اختتام پرکے ایس ای100 انڈیکس 16.79 پوائنٹس کی کمی سے 23784.18 اور کے ایس ای30 انڈیکس 27.41 پوائنٹس کی کمی سے 17977.02 ہوگیا۔
کاروباری حجم بدھ کی نسبت41.17 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر14 کروڑ43 لاکھ 47 ہزار590 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ 330 کمپنیوں تک محدود رہا جن میں143 کے بھاؤ میں اضافہ 159 کے داموں میں کمی اور28 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
سرمایہ کاروں کوملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی پر تحفظات کے علاوہ ایک مذہبی جماعت کی جانب سے جمعہ کواحتجاجی جلسے و ریلی کے اعلان کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو بھی اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے۔
جس سے انڈیکس کی23800 کی حد گرگئی، مندی کے باعث48.18 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید8 ارب98 کروڑ3 لاکھ90 ہزار70 روپے ڈوب گئے، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں اور میوچل فنڈز کی جانب سے مجموعی طور پر25 لاکھ12 ہزار269 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے سبب ایک موقع پر113.63 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی 23900 کی حد بھی عبور ہوگئی تھی لیکن زبردست مزاحمت اور پرافٹ ٹیکنگ کا رحجان غالب ہونے کی وجہ سے انڈیکس کی مذکورہ حد زیادہ دیربرقرار نہ رہ سکی ۔
کیونکہ ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے3 لاکھ23 ہزار327، این بی ایف سیز کی جانب سے2 لاکھ22 ہزار813 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے 16 لاکھ 64 ہزار858 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 3 لاکھ ایک ہزار 270 ڈالر کا انخلا کیا گیا جس کا مارکیٹ پر اثر پڑا، کاروبار کے اختتام پرکے ایس ای100 انڈیکس 16.79 پوائنٹس کی کمی سے 23784.18 اور کے ایس ای30 انڈیکس 27.41 پوائنٹس کی کمی سے 17977.02 ہوگیا۔
کاروباری حجم بدھ کی نسبت41.17 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر14 کروڑ43 لاکھ 47 ہزار590 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ 330 کمپنیوں تک محدود رہا جن میں143 کے بھاؤ میں اضافہ 159 کے داموں میں کمی اور28 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔