بیلجیم کے اشتراک سے گوادر پورٹ کا انفرا اسٹرکچر بہتر بنا رہے ہیں کامران مائیکل
یورپی یونین کوٹوناودیگرمچھلیاں اور جمبو جھینگے برآمدکررہے ہیں، خیبرپختونخواسے سی فوڈاسمگلنگ روکیں گے، وزیر پورٹس
ہالینڈسے جدیدفائبربوٹس درآمد کرکے اقساط پرماہی گیروںکو دینگے، کامران مائیکل۔ فوٹو : اے پی پی
وفاقی وزیر پورٹس وشپنگ سینیٹر کامران مائیکل نے کہا ہے کہ ماہی گیری کی صنعت کو جدید سطح پر استوار کرنے کیلیے ہالینڈ سے جدید جی پی آر ایس نظام سے لیس فائبر بوٹس درآمد کی جارہی ہیں، ابتدائی طور پر50 بوٹس جلد پاکستان پہنچ جائیں گی جنہیں اقساط اور لیز پر ماہی گیروں کو فراہم کیا جائے گا، فائبر بوٹس پر لائف جیکٹس بھی فراہم کی جائیں گی تاکہ ماہی گیروں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکے۔
انہوں نے یہ بات جمعرات کو مقامی ہوٹل میں ورلڈ وائلڈ لائف فیڈریشن (ڈبلیوڈبلیو ایف )، فشرمین کوآپریٹوسوسائٹی، میرین فشریز ڈپارٹمنٹ اور کراچی فش ہاربر اتھارٹی کے مشترکہ تعاون سے ماہی گیروں کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کہی، اس موقع پر صوبائی وزیر فشریز اور لائیواسٹاک جام خان شورو، ڈائریکٹر فشریز غلام محمد مہر، فیصل افتخار،معظم خان، میراکبر، ڈاکٹر آصف ہمایوں، حبیب اللہ نیازی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ سینیٹر کامران مائیکل نے کہا کہ ہالینڈ کی12کمپنیوں سے ہمارا رابطہ ہے اور جو بھی ہمیں قابل عمل قیمت دے گا اس کمپنی سے ہی یہ بوٹس منگوائیں گے، جدیدفائبر بوٹس میں لگے جدید جی پی آر ایس نظام کی وجہ سے ماہی گیر زمینی رابطے میں رہیں گے اور اپنے گھروں سے بھی رابطے میں رہیں گے۔
اس میں سمندری حدود کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت ہوگی اور مچھیرے اپنی سمت نہیں بھولیں گے جبکہ وہ دوسرے ممالک کے سمندر کی حدود بھی عبور نہیں کریں گے۔ انکا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کو مچھلیوں کی برآمد کے لیے مچھیروں کے لیے اسپیڈی بوٹس بھی متعارف کرائیں گے جس سے کم لاگت میں صرف 2 دن میں مچھلی خلیجی ممالک پہنچے گی، فضائی راستے سے 90روپے فی کلو برآمد کی جانے والی مچھلی اسپیڈی بوٹس کے ذریعے صرف 2 دن میں 5سے10روپے فی کلو خلیجی ریاستوں میں بھیجی جا سکے گی۔
وفاقی وزیر برائے پورٹ اینڈ شپنگ نے کہا ہے کہ بیلجیم حکومت کے اشتراک سے گوادر پورٹ میں انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے منصوبے پر کام ہورہا ہے، وہاں کولڈ اسٹوریج قائم ہونگے، بلوچستان کے ماہی گیروں سے مناسب قیمت پر مچھلی خرید کر جدیدترین نظام کے تحت انکی پیکنگ کی جائے گی، اس طرح بلوچستان کے ماہی گیروں کا معیار زندگی بلند ہوگا اور انہیں مچھلی کا زیادہ معاوضہ ملے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ماہی گیروں کی فلاح و بہود، ترقی اور خوشخالی کے لیے جامع پالیسیاں مرتب کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پابندی کے خاتمے کے بعد یورپی یونین کو پاکستان سے ٹونا مچھلی، جمبو جھینگے اور دیگر مچھلی کی ترسیل ہورہی ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مچھلی کی ایکسپورٹ میں عالمی معیار کو برقرار رکھیں، صوبہ خیبر پختونخوا سے غیرقانی طریقے سے ایکسپورٹ ہونے والی مچھلیوں کی روک تھا م کو بھی یقینی بنائیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مچھیروں کے ساتھ مل کر مچھلیوں کا مناسب ریٹ طے کریں گے۔ صوبائی وزیرفشریزجام خان شورو نے کہا کہ وفاقی حکومت ماہی گیروں کی حالت زار بہتر بنانے کے لیے فنڈز مہیا کرے، اگر فشریز اور ماہی گیروں کا معیار زندگی بہتر ہوگا تو سمندری خوراک کی برآمد میں بھی تیزی آئے گی۔
انہوں نے یہ بات جمعرات کو مقامی ہوٹل میں ورلڈ وائلڈ لائف فیڈریشن (ڈبلیوڈبلیو ایف )، فشرمین کوآپریٹوسوسائٹی، میرین فشریز ڈپارٹمنٹ اور کراچی فش ہاربر اتھارٹی کے مشترکہ تعاون سے ماہی گیروں کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کہی، اس موقع پر صوبائی وزیر فشریز اور لائیواسٹاک جام خان شورو، ڈائریکٹر فشریز غلام محمد مہر، فیصل افتخار،معظم خان، میراکبر، ڈاکٹر آصف ہمایوں، حبیب اللہ نیازی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ سینیٹر کامران مائیکل نے کہا کہ ہالینڈ کی12کمپنیوں سے ہمارا رابطہ ہے اور جو بھی ہمیں قابل عمل قیمت دے گا اس کمپنی سے ہی یہ بوٹس منگوائیں گے، جدیدفائبر بوٹس میں لگے جدید جی پی آر ایس نظام کی وجہ سے ماہی گیر زمینی رابطے میں رہیں گے اور اپنے گھروں سے بھی رابطے میں رہیں گے۔
اس میں سمندری حدود کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت ہوگی اور مچھیرے اپنی سمت نہیں بھولیں گے جبکہ وہ دوسرے ممالک کے سمندر کی حدود بھی عبور نہیں کریں گے۔ انکا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کو مچھلیوں کی برآمد کے لیے مچھیروں کے لیے اسپیڈی بوٹس بھی متعارف کرائیں گے جس سے کم لاگت میں صرف 2 دن میں مچھلی خلیجی ممالک پہنچے گی، فضائی راستے سے 90روپے فی کلو برآمد کی جانے والی مچھلی اسپیڈی بوٹس کے ذریعے صرف 2 دن میں 5سے10روپے فی کلو خلیجی ریاستوں میں بھیجی جا سکے گی۔
وفاقی وزیر برائے پورٹ اینڈ شپنگ نے کہا ہے کہ بیلجیم حکومت کے اشتراک سے گوادر پورٹ میں انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے منصوبے پر کام ہورہا ہے، وہاں کولڈ اسٹوریج قائم ہونگے، بلوچستان کے ماہی گیروں سے مناسب قیمت پر مچھلی خرید کر جدیدترین نظام کے تحت انکی پیکنگ کی جائے گی، اس طرح بلوچستان کے ماہی گیروں کا معیار زندگی بلند ہوگا اور انہیں مچھلی کا زیادہ معاوضہ ملے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ماہی گیروں کی فلاح و بہود، ترقی اور خوشخالی کے لیے جامع پالیسیاں مرتب کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پابندی کے خاتمے کے بعد یورپی یونین کو پاکستان سے ٹونا مچھلی، جمبو جھینگے اور دیگر مچھلی کی ترسیل ہورہی ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مچھلی کی ایکسپورٹ میں عالمی معیار کو برقرار رکھیں، صوبہ خیبر پختونخوا سے غیرقانی طریقے سے ایکسپورٹ ہونے والی مچھلیوں کی روک تھا م کو بھی یقینی بنائیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مچھیروں کے ساتھ مل کر مچھلیوں کا مناسب ریٹ طے کریں گے۔ صوبائی وزیرفشریزجام خان شورو نے کہا کہ وفاقی حکومت ماہی گیروں کی حالت زار بہتر بنانے کے لیے فنڈز مہیا کرے، اگر فشریز اور ماہی گیروں کا معیار زندگی بہتر ہوگا تو سمندری خوراک کی برآمد میں بھی تیزی آئے گی۔