زیریں سندھ شدید دھند اوس حیسکو کے30فیڈ ر ٹرپ11اضلاع اندھیرے میں ڈوب گئے
حیدرآباد سمیت درجنوں شہروں اور سیکڑوں دیہات میں 10 گھنٹے بجلی بند رہی،شدید دھند سے ڈرائیوروں کو مشکلات، ٹریفک معطل
موسم بہتر ہونے اور سورج نکلنے کے بعد بجلی کی بحالی کا کام شروع کیا گیا۔ترجمان۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
حیدرآباد سمیت اندرون سندھ جمعرات کی صبح شدید دھند اور اوس کے باعث 30 سے زائد فیڈر ٹرپ کر گئے، 11 اضلاع میں 10 گھنٹے سے زائد بجلی بند رہی۔
تفصیلات کے مطابق حیدرآباد سمیت اندرون سندھ بدھ اور جمعرات کو رات بھر اوس پڑتی رہی اور شدید دھند چھائی رہی جو صبح تک برقرار رہی، جس کے باعث علی الصباح حد نگاہ کم ہو گئی اور انتہائی قریب کی چیز بھی نظر نہیں آ رہی تھی جب کہ اسکول اور دفاتر جانے کے اوقات میں بھی دھند اس قدر تھی کہ گاڑی چلانے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سپرہائی وے، انڈس ہائی وے اور قومی شاہراہ پر بھی شدید دھند کے باعث کچھ مقامات پر ٹریفک کو روک دیا گیا جبکہ کہیں ڈرائیوروں کو رفتار سے چلنے کی ہدایت کی گئی۔ دن کے وقت بھی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس جلتی رہیں۔
دوسری جانب حیدرآباد، جامشورو، ٹنڈو محمد خان، بدین، سانگھڑ، ٹنڈوالہیار، میرپورخاص، عمرکوٹ، مٹیاری، تھرپارکر، سجاول اضلاع میں بھی بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب2 بجے بجلی معطل ہوگئی جسکے باعث یہ بڑے شہر اور ان سے متصل سیکڑوں دیہات تاریکی میں ڈوب گئے۔
بجلی بند ہونے کے باعث صبح کے وقت لوگوں کو دفاتر اور بچوں کو اسکول جانے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ بجلی کا یہ تعطل 10 گھنٹے سے زائد جاری رہا اور جمعرات کی دوپہر 12 بجے کے بعد بجلی بتدریج بحال ہو ئی ۔
اس سلسلے میں حیسکو ترجمان کا کہنا ہے کہ شدید دھند اور اوس پڑنے کے باعث جامشورو سے آنے والے 220 کے وی کا بریکر اور جی ٹی پی ایس پاور ہاؤس کوٹری ٹرپ کر گئے جس کی وجہ سے کوہسار گرڈ اسٹیشن، قاسم آباد گرڈ اسٹیشن، کوٹری سائٹ گرڈ اسٹیشن و دیگر میں فالٹ آیا۔ ترجمان کے مطابق حیسکو کے70 فیڈرز میں سے 30 سے زائد جن میں جن میں قاسم آباد، ہالا، شہدادپور، سعید آباد، ٹنڈومحمدخان، تلہار، کڈھن، ٹنڈو غلام علی، ماتلی، ڈگری، بلڑی شاہ کریم، ٹنڈو جان محمد، نوکوٹ، مٹھی، ٹنڈوجام، ٹنڈوالہیار، میرپورخاص، سلطان آباد، چمبڑ، کنری، میرواہ، نبی سر، سانگھڑ، شاہ پور چاکر، کنڈیاری و دیگر شامل ہیں سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ ترجمان کے مطابق موسم بہتر ہونے اور سورج نکلنے کے بعد بجلی کی بحالی کا کام شروع کیا گیا۔
حیدرآباد سمیت اندرون سندھ جمعرات کی صبح شدید دھند اور اوس کے باعث 30 سے زائد فیڈر ٹرپ کر گئے، 11 اضلاع میں 10 گھنٹے سے زائد بجلی بند رہی۔
تفصیلات کے مطابق حیدرآباد سمیت اندرون سندھ بدھ اور جمعرات کو رات بھر اوس پڑتی رہی اور شدید دھند چھائی رہی جو صبح تک برقرار رہی، جس کے باعث علی الصباح حد نگاہ کم ہو گئی اور انتہائی قریب کی چیز بھی نظر نہیں آ رہی تھی جب کہ اسکول اور دفاتر جانے کے اوقات میں بھی دھند اس قدر تھی کہ گاڑی چلانے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سپرہائی وے، انڈس ہائی وے اور قومی شاہراہ پر بھی شدید دھند کے باعث کچھ مقامات پر ٹریفک کو روک دیا گیا جبکہ کہیں ڈرائیوروں کو رفتار سے چلنے کی ہدایت کی گئی۔ دن کے وقت بھی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس جلتی رہیں۔
دوسری جانب حیدرآباد، جامشورو، ٹنڈو محمد خان، بدین، سانگھڑ، ٹنڈوالہیار، میرپورخاص، عمرکوٹ، مٹیاری، تھرپارکر، سجاول اضلاع میں بھی بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب2 بجے بجلی معطل ہوگئی جسکے باعث یہ بڑے شہر اور ان سے متصل سیکڑوں دیہات تاریکی میں ڈوب گئے۔
بجلی بند ہونے کے باعث صبح کے وقت لوگوں کو دفاتر اور بچوں کو اسکول جانے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ بجلی کا یہ تعطل 10 گھنٹے سے زائد جاری رہا اور جمعرات کی دوپہر 12 بجے کے بعد بجلی بتدریج بحال ہو ئی ۔
اس سلسلے میں حیسکو ترجمان کا کہنا ہے کہ شدید دھند اور اوس پڑنے کے باعث جامشورو سے آنے والے 220 کے وی کا بریکر اور جی ٹی پی ایس پاور ہاؤس کوٹری ٹرپ کر گئے جس کی وجہ سے کوہسار گرڈ اسٹیشن، قاسم آباد گرڈ اسٹیشن، کوٹری سائٹ گرڈ اسٹیشن و دیگر میں فالٹ آیا۔ ترجمان کے مطابق حیسکو کے70 فیڈرز میں سے 30 سے زائد جن میں جن میں قاسم آباد، ہالا، شہدادپور، سعید آباد، ٹنڈومحمدخان، تلہار، کڈھن، ٹنڈو غلام علی، ماتلی، ڈگری، بلڑی شاہ کریم، ٹنڈو جان محمد، نوکوٹ، مٹھی، ٹنڈوجام، ٹنڈوالہیار، میرپورخاص، سلطان آباد، چمبڑ، کنری، میرواہ، نبی سر، سانگھڑ، شاہ پور چاکر، کنڈیاری و دیگر شامل ہیں سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ ترجمان کے مطابق موسم بہتر ہونے اور سورج نکلنے کے بعد بجلی کی بحالی کا کام شروع کیا گیا۔