پاکستان کبڈی کا عالمی چیمپئن

کرکٹ پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ اگر حکومت مقامی کھیلوں پر بھی توجہ دے تو اس سے ان کے فروغ میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔

کرکٹ پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ اگر حکومت مقامی کھیلوں پر بھی توجہ دے تو اس سے ان کے فروغ میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ (فوٹو: فائل)

پاکستان سنسنی خیز مقابلے کے بعد روایتی حریف بھارت کو شکست دے کر پہلی مرتبہ کبڈی کا عالمی چیمپئن بن گیا۔ اتوار کو پنجاب اسٹیڈیم لاہور میں ہونے والے فائنل میں قومی ٹیم نے بھارت کے خلاف دو پوائنٹس سے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان نے تینتالیس اور بھارت نے اکتالیس پوائنٹس بنائے۔

تماشائیوں نے بھنگڑے ڈال کر فتح کا جشن منایا۔ کبڈی کی اس عالمی جنگ کو دیکھنے کے لیے تماشائیوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے اسٹیڈیم کا رخ کیا جنھوں نے ہر پوائنٹ پر کھلاڑیوں کو دل کھول کرداد دی اور خوب محظوظ ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے کپتان عرفان مانا، شفیق چشتی، وقاص بٹ، ملک بنیامین، سجاد گجر، قمر بٹ نے شاندار کھیل پیش کیا۔ فاتح ٹیم کو ٹرافی کے ساتھ ایک کروڑ روپے انعام دیاگیا، رنر اپ ٹیم کو 75 لاکھ روپے کا انعام ملا۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان عرفان مانا نے کہا یہ جیت کبڈی کھلاڑیوں کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ہے۔قبل ازیں تیسری اور چوتھی پوزیشن کے لیے ایران اور آسٹریلیا کے درمیان میچ کھیلا گیا، ایران کی کبڈی ٹیم نے آسٹریلیا کو 21 پوائنٹس سے شکست دے کر ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ورلڈ کپ میں پاکستان کی فتح کے بعد اسٹیڈیم پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ صدر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عالمی کپ جیتنے پر پاکستان کبڈی ٹیم کو مبارکباد دی ہے۔


صدر مملکت نے اس فتح کو دنیا کے ''امن'' کے لیے وقف کرنے کا مطالبہ کیا۔ عمران خان نے کہا ہمیں ملک و قوم کا نام روشن کرنے والی ٹیم پر فخر ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ دونوں ٹیموں نے عمدہ کھیل پیش کیا۔ فائنل میں بہتر ین کھیل پر دونوں ٹیموں کی کارکردگی لائق تحسین ہے۔ تمام ٹیموں نے ایونٹ میں عمدہ کھیل پیش کیا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، معاون خصوصی فردوس عاشق، وفاقی وزیر غلام سرور اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی پاکستان کبڈی ٹیم کو ورلڈ کپ جیتنے پر مبارکباد دی اور کہا ملک میں کھیلوں کی بحالی اور عالمی مقابلوں کے انعقاد کو دیکھ کر دلی خوشی ہو رہی ہے۔

کبڈی کا عالمی چیمپیئن بننے پر پاکستانی قوم کو ایک عرصے بعد بڑی خوشی ملی' پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان کھیلے جانے والے فائنل کو دیکھنے کے لیے شائقین کی بہت بڑی تعداد نے اسٹیڈیم کا رخ کیا۔ پنجاب اسٹیڈیم کی تاریخ میں اس سے قبل اتنی بڑی تعداد میں شائقین نہیں آئے،ایک بڑی تعداد اسٹیڈیم کے باہر بھی موجود تھی جو اسٹیڈیم میں داخلے کے حصول کی کوشش کرتی رہی۔ کبڈی میچ جیتنے پر گوجرانوالہ میں جشن کا سماں تھا' ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے۔

کھیلوں کے میدان میں حکومت پاکستان کی زیادہ توجہ کرکٹ کی طرف مبذول چلی آ رہی اور اس کھیل کے فروغ کے لیے خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے۔ سری لنکا کی ٹیم پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے کے بعد ایک عرصے تک غیرملکی ٹیموں نے پاکستان کا رخ نہیں کیا' اگرچہ بعدازاں سری لنکا اور بنگلہ دیش کی ٹیموں نے پاکستان میں آ کر دوبارہ انٹرنیشنل کھیلوں کو بحال کیا لیکن اب بھی دیگر بڑی غیرملکی ٹیمیں پاکستان آنے سے کترا رہی ہیں۔ ایسے میں کبڈی میچ کا انعقاد پاکستانی قوم کے لیے مسرت کا پیغام لے کر آیا' بالخصوص پاک بھارت میچوں میں دونوں جانب سے عوام کا جوش و خروش قابل دید ہوتا ہے۔

کرکٹ پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ اگر حکومت مقامی کھیلوں پر بھی توجہ دے تو اس سے ان کے فروغ میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا' ہاکی جس میں پاکستان ورلڈ چیمپیئن رہا ہے مگر اب وہ اس کھیل میں بہت پیچھے رہ گیا ' ضرورت اس امر کی ہے کہ ہاکی کے کھیل کو بھی فروغ دینے کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے جائیں' فٹ بال کے کھیل میں تو پاکستان کا مقام بہت ہی نیچے ہے' کراچی میں لیاری ایسا علاقہ ہے جہاں بہترین فٹ بالرز موجود ہیں ،اسی طرح پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی فٹ بال کا بے انتہا ٹیلنٹ موجود ہے۔

اسی طرح والی بال' باسکٹ بال' بیڈمنٹن' ریسلنگ' جوڈو کراٹے ' سوئمنگ کے کھیل بھی حکومتی توجہ کے متقاضی ہیں جب کہ یہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں بس ضرورت نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کی ہے۔ کبڈی ورلڈ کپ کا پاکستان میں انعقاد یقیناً خوش آیند ہے' اس کے میچز کی کوریج کے لیے بھی کرکٹ کے میچوں کی طرح بھرپور انتظامات کیے جانے چاہئیں اور کھیل میں کسی بھی موقع کا ریویو لینے کے لیے زیادہ سے زیادہ کیمرے نصب کیے جائیں تاکہ کھیل میں کسی قسم کا کوئی سقم نہ رہے اور اسے بھرپور کوریج ملے۔
Load Next Story