انسانی حقوق کے معاملے میں پولیس کو رعایت نہیں دینگے سپریم کورٹ
پولیس کوبااختیاربنانے سےمقدمات ختم ہوسکتے ہیں لیکن اسے اختیارات کاعلم نہیں،آئی ایس آئی اسے ملازم سمجھتی ہے،جسٹس جواد
لاپتہ محمد خالد،حسن عبداللہ کے مقدمات میںپولیس رپورٹ مسترد،اٹھانے کاالزام ایلیٹ فورس اور آئی ایس آئی پرہے،چیف جسٹس۔ فوٹو: فائل
GILGIT:
سپریم کورٹ نے لاہور سے لاپتہ محمد خالداورحسن عبداللہ کے بارے میں پولیس رپورٹ مستردکر دی اور دونوں کی بازیابی کیلیے 7 دن کی مہلت دیدی گئی۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آئی ایس آئی پولیس کو اپنا ملازم سمجھتی ہے شاید پولیس کو اپنے اختیارکا علم نہیں، پولیس اہلکارکسی خفیہ ایجنسی کے ہرگز ملازم نہیں ہیں۔چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ ایس پی انویسٹی گیشن جہانزیب کاکڑ نے رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ ایلیٹ فورس کے انسپکٹر سے رابطہ کیا گیا ہے لیکن اس نے لاعلمی کا اظہارکیا ہے جبکہ آئی ایس آئی سے رابطہ کیا جا رہا ہے، انھوں نے کہا جس نمبر سے مغوی حسن عبداللہ کے بھائی کوکال موصول ہوئی اس کا ریکارڈ نہیں مل رہا، ہوسکتا ہے ڈیٹا اڑا دیا گیا ہو۔
چیف جسٹس نے کہا الزام ایلیٹ فورس اور آئی ایس آئی پر ہے کہ انھوں نے دونوں کو لوگوں کے سامنے اٹھایا ہے، جسٹس جواد نے کہا کرائم کے ایک لاکھ مقدمات میں نامزد99 ہزار900 ملزمان خودکو بیگناہ سمجھتے ہیں اور لکھ کر دیتے ہیں لیکن پولیس پھر بھی انکوائری کرتی ہے۔ آئی این پی کے مطابق جسٹس جواد نے کہااگر پولیس تفتیش کرنے کے بجائے تحریری بیانات کی بنیاد پرکسی کو بیگناہ سمجھنا شروع کر دے تو99 فیصد ملزمان کسی جرم کا اعتراف نہیںکریںگے۔ انسانی حقوق کا معاملہ ہے جو لوگ غائب ہوگئے تفتیش کرنا پولیس کی آئینی ذمہ داری ہے، ایسے معاملات میں پولیس کورعایت نہیں دی جا سکتی۔
سپریم کورٹ نے لاہور سے لاپتہ محمد خالداورحسن عبداللہ کے بارے میں پولیس رپورٹ مستردکر دی اور دونوں کی بازیابی کیلیے 7 دن کی مہلت دیدی گئی۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آئی ایس آئی پولیس کو اپنا ملازم سمجھتی ہے شاید پولیس کو اپنے اختیارکا علم نہیں، پولیس اہلکارکسی خفیہ ایجنسی کے ہرگز ملازم نہیں ہیں۔چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ ایس پی انویسٹی گیشن جہانزیب کاکڑ نے رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ ایلیٹ فورس کے انسپکٹر سے رابطہ کیا گیا ہے لیکن اس نے لاعلمی کا اظہارکیا ہے جبکہ آئی ایس آئی سے رابطہ کیا جا رہا ہے، انھوں نے کہا جس نمبر سے مغوی حسن عبداللہ کے بھائی کوکال موصول ہوئی اس کا ریکارڈ نہیں مل رہا، ہوسکتا ہے ڈیٹا اڑا دیا گیا ہو۔
چیف جسٹس نے کہا الزام ایلیٹ فورس اور آئی ایس آئی پر ہے کہ انھوں نے دونوں کو لوگوں کے سامنے اٹھایا ہے، جسٹس جواد نے کہا کرائم کے ایک لاکھ مقدمات میں نامزد99 ہزار900 ملزمان خودکو بیگناہ سمجھتے ہیں اور لکھ کر دیتے ہیں لیکن پولیس پھر بھی انکوائری کرتی ہے۔ آئی این پی کے مطابق جسٹس جواد نے کہااگر پولیس تفتیش کرنے کے بجائے تحریری بیانات کی بنیاد پرکسی کو بیگناہ سمجھنا شروع کر دے تو99 فیصد ملزمان کسی جرم کا اعتراف نہیںکریںگے۔ انسانی حقوق کا معاملہ ہے جو لوگ غائب ہوگئے تفتیش کرنا پولیس کی آئینی ذمہ داری ہے، ایسے معاملات میں پولیس کورعایت نہیں دی جا سکتی۔