ملکی بقا کیلیے دہشت گردی کیخلاف مل کر فیصلہ کرنا ہوگا متحدہ کے تحت امن و یکجہتی سیمینار
کیا پاکستان وہی ریاست ہے جسے قائد اعظم نے بنایا تھا؟ معراج محمد خان، محمود شام،عامر محمود،عباس کمیلی،ایمانیل وکٹر
کراچی: ایم کیو ایم کے تحت امن ویکجہتی سیمینار سے معراج محمد خان، فاروق ستار،مولانا تنویر الحق تھانوی، عباس کمیلی و دیگر خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
MIRPUR:
متحدہ رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ آج پاکستان میں فیصلے کی گھڑی ہے اور اب ہمیں مل کر دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کرنا ہوگا ، اگر اب بھی ہم نے فیصلے سے راہ فراراختیار کیا تو پاکستان کی بقا و سلامتی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
ان خیالات کااظہار انھوں نے ایم کیوایم کے زیر اہتمام ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلیے جمعرات کی شب مقامی ہوٹل میں ''امن و یکجہتی '' سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان میں امن کا قیام یکجہتی سے ہی ممکن ہے اور اگر یکجہتی پیدا نہ کی گئی تو شائد یہ موقع بھی نہ مل سکے۔ رابطہ کمیٹی رکن حیدرعباس رضوی نے کہاکہ قائد تحریک پاکستان کی موجودہ صوررتحال پر نظررکھے ہوئے ہیں جبکہ ہم اس امر کوطے کرچکے ہیںکہ ہمارا سرحدوں سے باہر موجود دشمن وطن عزیز پاکستان کیلیے سر دست اتنا بڑا گردانا نہیں جاسکتا جتنا کہ ہماری سرحدوں کے اندر ہمارے دشمن ہوتے جارہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اور نیشنل سیکیورٹی کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلیے معاشرے میں موجود تمام مذہبی اکائیوں ، مختلف مسالک ، فنکار اور تمام طبقہ فکرکی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے ، مولانا تنویر الحق تھانوی نے سانحہ راولپنڈی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حال کے حالات ماضی کے حالات کا نتیجہ ہوتے ہیں آج کے حالات دیکھ کر ماضی کو فراموش نہیں کرسکتے تھے ۔انھوں نے کہا کہ شیعہ سنی اتحاد برقرار رہنا چاہیے۔ بزر گ سیاستدان ودانشور معراج محمد خان نے کہاکہ دنیا میں کوئی پاگل اور دیوانہ ہی ہوگا جواتحادکو زندگی ، ترقی کی علامت نہیں سمجھے گا ،کسی بھی معاشرے میں ناانصافی اور نابرابر ی موجود ہو تو وہاں اتحاد بین المسلمین یا اتحاد بین المذاہب ہو ایک دھوکے کی مانند ہے ۔ معروف عالم دین علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ پاکستان دراصل ان کے ہاتھوں میں آگیا جو قائد اعظم کے نظریہ کے مخالفت تھے جنہوں نے انہیں کافر قرار دیا تھا ۔
ادیب اور شاعر محمود شام نے کہا کہ پاکستان تاریخ جھنجھوڑ رہی ہے اور جغرافیہ للکار رہا ہے ہم صر ف بھاری مینڈیٹ کا ڈھول پیٹ رہے ہیں ،راولپنڈی ، راجا بازار ، مسجدیں دکانیں کس صوبے کے اختیار میں ہیں ۔کالم نگارمقتدا منصورنے کہا کہ ریاست کی جانب سے بعض ایسے فیصلے کیے گئے جن کے نتیجے میں یہ ریاست منافقتوں کا ایک گہوارہ بن گئی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن بورڈ کے رکن اسد بٹ نے کہا کہ ہم لوگ جب تک مسائل کو نہیں سمجھیں گے تو اس کا حل تلاش نہیں کرسکتے ،جوقوم فرد، ریاست خود اپنے آپ سے جھوٹ بولتی ہے اپنے آپ کو دھوکہ دیتی ہے اس کے بچنے کا کوئی چانس نہیں ہوتا ۔ کراچی تاجر اتحاد کے جمیل پراچہ نے کہا کہ اس شہر یا ملک میں دہشت گرد بار بار اپنی کوششیں کرتے رہتے ہیں،الطاف حسین نے سب سے پہلے روالپنڈی سانحہ پر آواز بلند کی اور یہاں تمام مکاتب فکر کے لوگ موجود ہیں جو اس بات کی مثال ہے کہ پاکستان کے تمام مسالک ایک ہیں۔
مذہبی اسکالر ڈاکٹر جمیل راٹھور نے کہا کہ ہم جس ماحول میں سسک کرزندگی گزار رہے ہیں وہ ہولناک ، دہشت ناک ، خون آشام اور پرآشوب ہے ، عام پاکستانی کا خون بہہ رہا ہے ،کوئی آوازا بلند نہیں ہورہی ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک ہی آواز بلند ہورہی ہے جو مظلومیت کیلیے اور ظالم کے خلاف بلند ہورہی ہے وہ آواز قائد تحریک الطاف حسین کی ہے،کونسل آف پاکستان نیوز پیپر کے عامرمحمود نے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ نے ایک مرتبہ پھر پہل کردی یہ پہل ہمیشہ کی طرح ایم کیوایم کے حصے میں کیوں آئی اس لیے کہ جب بھی ملک میں یا اس شہر اور صوبے میں کبھی بھی کوئی ایسا مسئلہ اٹھا متحدہ قومی موومنٹ نے اسے حل کرنا اپنا فرض سمجھا اور پہل کی اور آج اتنے علمائے کرام ، صحافیوں ، زعما سب کو جمع کرکے پلیٹ فارم فراہم کیاکہ یہاں سے ہم امن و یکجہتی کی بات کریں ۔
آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے کہا کہ یہ قابل ستائش بات ہے کہ عیسائیوں کو قتل عام کیاگیا تو نائن زیرو پران کی یاد میں دیے جلائے گئے ، اب پاکستان کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو چوہے کی طرح گھر میں بیٹھے بیٹھے مرجائیں یا لڑکرمرجائیں اگر چوہے کی طرح مریں گے تو ذلیل ہوں گے اور شیرکی طرح لڑ کر مریں گے تو شان سلامت رہے گی ۔ معروف اسکالرشہربانو والا جائی نے کہا کہ ہمارے ہاں مذہبی جماعتیں کوششیں کرتی ہیں لیکن ان میں بھی ایم کیوایم سبقت لے جاتی ہے ، آغا مسعود حسین نے کہا کہ یہاں شیعہ سنی کا مسئلہ نہیں ہے اور نہ کبھی تھا ۔
رام ناتھ مہاراج نے کہا کہ الطاف حسین اور ایم کیوایم امن و یکجہتی پر سیمینار کرکے بڑا کام کیا ہے ، مختار عاقل نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے آج ضرورت کو محسوس کیا اور امن و یکجہتی کے جن چراغ کو بجھانے کی کوشش کی جارہی ہے اسے جلا یا ہے۔ پاسٹر ایمانیل وکٹرنے کہا کہ میں بے شک امن و یکجہتی کا حامی ہوں ، مسیحی ہوتے میں اس کا بہت بڑا حامی ہوں اور ہمیں بھی اپنے پیرو کاروں کو بھی یہی در س دینا ہے کہ اپنے گرد و نواح میں قوم کوئی بھی ہو، کسی بھی مذہب کا ہو ،وائس چانسلروفاقی اردویونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ میں ایک استاد ہوں یہ جانتا ہوںکہ اگر تقسیم کا یہ عمل نہیں روکا تو استاد ، کلا س روم ،لائیبریاں اور پانی پینے کے گلاس بھی تقسیم ہوجائیں گے ۔
متحدہ رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ آج پاکستان میں فیصلے کی گھڑی ہے اور اب ہمیں مل کر دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کرنا ہوگا ، اگر اب بھی ہم نے فیصلے سے راہ فراراختیار کیا تو پاکستان کی بقا و سلامتی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
ان خیالات کااظہار انھوں نے ایم کیوایم کے زیر اہتمام ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلیے جمعرات کی شب مقامی ہوٹل میں ''امن و یکجہتی '' سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان میں امن کا قیام یکجہتی سے ہی ممکن ہے اور اگر یکجہتی پیدا نہ کی گئی تو شائد یہ موقع بھی نہ مل سکے۔ رابطہ کمیٹی رکن حیدرعباس رضوی نے کہاکہ قائد تحریک پاکستان کی موجودہ صوررتحال پر نظررکھے ہوئے ہیں جبکہ ہم اس امر کوطے کرچکے ہیںکہ ہمارا سرحدوں سے باہر موجود دشمن وطن عزیز پاکستان کیلیے سر دست اتنا بڑا گردانا نہیں جاسکتا جتنا کہ ہماری سرحدوں کے اندر ہمارے دشمن ہوتے جارہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اور نیشنل سیکیورٹی کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلیے معاشرے میں موجود تمام مذہبی اکائیوں ، مختلف مسالک ، فنکار اور تمام طبقہ فکرکی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے ، مولانا تنویر الحق تھانوی نے سانحہ راولپنڈی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حال کے حالات ماضی کے حالات کا نتیجہ ہوتے ہیں آج کے حالات دیکھ کر ماضی کو فراموش نہیں کرسکتے تھے ۔انھوں نے کہا کہ شیعہ سنی اتحاد برقرار رہنا چاہیے۔ بزر گ سیاستدان ودانشور معراج محمد خان نے کہاکہ دنیا میں کوئی پاگل اور دیوانہ ہی ہوگا جواتحادکو زندگی ، ترقی کی علامت نہیں سمجھے گا ،کسی بھی معاشرے میں ناانصافی اور نابرابر ی موجود ہو تو وہاں اتحاد بین المسلمین یا اتحاد بین المذاہب ہو ایک دھوکے کی مانند ہے ۔ معروف عالم دین علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ پاکستان دراصل ان کے ہاتھوں میں آگیا جو قائد اعظم کے نظریہ کے مخالفت تھے جنہوں نے انہیں کافر قرار دیا تھا ۔
ادیب اور شاعر محمود شام نے کہا کہ پاکستان تاریخ جھنجھوڑ رہی ہے اور جغرافیہ للکار رہا ہے ہم صر ف بھاری مینڈیٹ کا ڈھول پیٹ رہے ہیں ،راولپنڈی ، راجا بازار ، مسجدیں دکانیں کس صوبے کے اختیار میں ہیں ۔کالم نگارمقتدا منصورنے کہا کہ ریاست کی جانب سے بعض ایسے فیصلے کیے گئے جن کے نتیجے میں یہ ریاست منافقتوں کا ایک گہوارہ بن گئی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن بورڈ کے رکن اسد بٹ نے کہا کہ ہم لوگ جب تک مسائل کو نہیں سمجھیں گے تو اس کا حل تلاش نہیں کرسکتے ،جوقوم فرد، ریاست خود اپنے آپ سے جھوٹ بولتی ہے اپنے آپ کو دھوکہ دیتی ہے اس کے بچنے کا کوئی چانس نہیں ہوتا ۔ کراچی تاجر اتحاد کے جمیل پراچہ نے کہا کہ اس شہر یا ملک میں دہشت گرد بار بار اپنی کوششیں کرتے رہتے ہیں،الطاف حسین نے سب سے پہلے روالپنڈی سانحہ پر آواز بلند کی اور یہاں تمام مکاتب فکر کے لوگ موجود ہیں جو اس بات کی مثال ہے کہ پاکستان کے تمام مسالک ایک ہیں۔
مذہبی اسکالر ڈاکٹر جمیل راٹھور نے کہا کہ ہم جس ماحول میں سسک کرزندگی گزار رہے ہیں وہ ہولناک ، دہشت ناک ، خون آشام اور پرآشوب ہے ، عام پاکستانی کا خون بہہ رہا ہے ،کوئی آوازا بلند نہیں ہورہی ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک ہی آواز بلند ہورہی ہے جو مظلومیت کیلیے اور ظالم کے خلاف بلند ہورہی ہے وہ آواز قائد تحریک الطاف حسین کی ہے،کونسل آف پاکستان نیوز پیپر کے عامرمحمود نے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ نے ایک مرتبہ پھر پہل کردی یہ پہل ہمیشہ کی طرح ایم کیوایم کے حصے میں کیوں آئی اس لیے کہ جب بھی ملک میں یا اس شہر اور صوبے میں کبھی بھی کوئی ایسا مسئلہ اٹھا متحدہ قومی موومنٹ نے اسے حل کرنا اپنا فرض سمجھا اور پہل کی اور آج اتنے علمائے کرام ، صحافیوں ، زعما سب کو جمع کرکے پلیٹ فارم فراہم کیاکہ یہاں سے ہم امن و یکجہتی کی بات کریں ۔
آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے کہا کہ یہ قابل ستائش بات ہے کہ عیسائیوں کو قتل عام کیاگیا تو نائن زیرو پران کی یاد میں دیے جلائے گئے ، اب پاکستان کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو چوہے کی طرح گھر میں بیٹھے بیٹھے مرجائیں یا لڑکرمرجائیں اگر چوہے کی طرح مریں گے تو ذلیل ہوں گے اور شیرکی طرح لڑ کر مریں گے تو شان سلامت رہے گی ۔ معروف اسکالرشہربانو والا جائی نے کہا کہ ہمارے ہاں مذہبی جماعتیں کوششیں کرتی ہیں لیکن ان میں بھی ایم کیوایم سبقت لے جاتی ہے ، آغا مسعود حسین نے کہا کہ یہاں شیعہ سنی کا مسئلہ نہیں ہے اور نہ کبھی تھا ۔
رام ناتھ مہاراج نے کہا کہ الطاف حسین اور ایم کیوایم امن و یکجہتی پر سیمینار کرکے بڑا کام کیا ہے ، مختار عاقل نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے آج ضرورت کو محسوس کیا اور امن و یکجہتی کے جن چراغ کو بجھانے کی کوشش کی جارہی ہے اسے جلا یا ہے۔ پاسٹر ایمانیل وکٹرنے کہا کہ میں بے شک امن و یکجہتی کا حامی ہوں ، مسیحی ہوتے میں اس کا بہت بڑا حامی ہوں اور ہمیں بھی اپنے پیرو کاروں کو بھی یہی در س دینا ہے کہ اپنے گرد و نواح میں قوم کوئی بھی ہو، کسی بھی مذہب کا ہو ،وائس چانسلروفاقی اردویونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ میں ایک استاد ہوں یہ جانتا ہوںکہ اگر تقسیم کا یہ عمل نہیں روکا تو استاد ، کلا س روم ،لائیبریاں اور پانی پینے کے گلاس بھی تقسیم ہوجائیں گے ۔