لاپتہ افراد کیس آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر سے حلف نامہ طلب
پاکستان چوک اور جیکب لائنزسے 2 شہریوں کی غیرقانونی حراست سے متعلق دائر درخواستوں پر مدعا علیہان کونوٹس جاری
اگر لاپتہ افرادآئی ایس آئی کی تحویل میں نہیں ہیں تو ان کی تلاش کے لیے اسے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، جسٹس فیصل عرب۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ نے قوم پرست جماعت کے کارکن شاہد جونیجو،ضمیرخاصخیلی اور اصغر جمالی کی کوئٹہ سریاب روڈ سے گمشدگی کیخلاف دائر درخواست پر آئی ایس آئی کے بریگیڈیئرقاسم سے حلف نامہ طلب کرلیا۔
جسٹس فیصل عرب نے آبزرویشن دی ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمے داری ہے ،آئی ایس آئی بھی ایک ریاستی ادارہ ہے اگر لاپتہ افراد ان کی تحویل میں نہیں ہیں تو ان کی تلاش کیلیے بھی آئی ایس آئی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ عدالت نے کراچی کے 2شہریوں کی غیرقانونی حراست سے متعلق دائر درخواستوں پرمحکمہ داخلہ،ڈی جی رینجرز،آئی جی سندھ اور دیگر کو 19دسمبرکیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے جمعرات کو متعدد لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ جیے سندھ محاذ(آریسر)کے گل شیر جونیجو نے موقف اختیار کیا ہے کہ شاہد جونیجو، ضمیر خاصخیلی اور اصغر جمالی کوکوئٹہ سریاب روڈ سے آئی ایس آئی نے گرفتار کیا اور وہ تاحال لاپتہ ہیں۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل اسلم بٹ نے وزارت دفاع کی جانب سے جواب داخل کیا جس میں کہا گیا کہ مذکورہ لاپتہ افراد آئی ایس آئی کی تحویل میں ہیں اور نہ ہی آئی ایس آئی ان کے بارے میں کوئی علم ہے جبکہ ایم آئی کی جانب سے تاحال جواب موصول نہیں ہوا، مزید مہلت دی جائے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ شواہد کے بغیر ایک ریاستی ادارے پر کیسے الزام عائد کرسکتے ہیں؟غلام مصطفی لاکھونے موقف اختیار کیاکہ لاپتہ افراد میں سے ایک نوجوان کے گھر پرآئی ایس آئی کا ایک اہلکار آیا تھا ۔ جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ آپ کس طرح شناخت کر سکتے ہیں۔ جس پرغلام مصطفی لاکھو ایڈوکیٹ نے بتایا کہ مذکورہ شخص نے بتایا تھا کہ وہ آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر قاسم کا ملازم ہے۔عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ مذکورہ فوجی افسر کا حلف نامہ جمع کرایا جائے۔
جسٹس فیصل عرب نے آبزرویشن دی ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمے داری ہے ،آئی ایس آئی بھی ایک ریاستی ادارہ ہے اگر لاپتہ افراد ان کی تحویل میں نہیں ہیں تو ان کی تلاش کیلیے بھی آئی ایس آئی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ عدالت نے کراچی کے 2شہریوں کی غیرقانونی حراست سے متعلق دائر درخواستوں پرمحکمہ داخلہ،ڈی جی رینجرز،آئی جی سندھ اور دیگر کو 19دسمبرکیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے جمعرات کو متعدد لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ جیے سندھ محاذ(آریسر)کے گل شیر جونیجو نے موقف اختیار کیا ہے کہ شاہد جونیجو، ضمیر خاصخیلی اور اصغر جمالی کوکوئٹہ سریاب روڈ سے آئی ایس آئی نے گرفتار کیا اور وہ تاحال لاپتہ ہیں۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل اسلم بٹ نے وزارت دفاع کی جانب سے جواب داخل کیا جس میں کہا گیا کہ مذکورہ لاپتہ افراد آئی ایس آئی کی تحویل میں ہیں اور نہ ہی آئی ایس آئی ان کے بارے میں کوئی علم ہے جبکہ ایم آئی کی جانب سے تاحال جواب موصول نہیں ہوا، مزید مہلت دی جائے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ شواہد کے بغیر ایک ریاستی ادارے پر کیسے الزام عائد کرسکتے ہیں؟غلام مصطفی لاکھونے موقف اختیار کیاکہ لاپتہ افراد میں سے ایک نوجوان کے گھر پرآئی ایس آئی کا ایک اہلکار آیا تھا ۔ جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ آپ کس طرح شناخت کر سکتے ہیں۔ جس پرغلام مصطفی لاکھو ایڈوکیٹ نے بتایا کہ مذکورہ شخص نے بتایا تھا کہ وہ آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر قاسم کا ملازم ہے۔عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ مذکورہ فوجی افسر کا حلف نامہ جمع کرایا جائے۔