منزل دور نہیں ہے
سندھ سے کمشنری نظام کا خاتمہ اور ضلعی حکومتوں کی ملک گیر بحالی وقت کا تقاضہ ہے
نئے آرڈیننس کو ایس ایل جی او 2012 کا نام دیا جا رہا ہے جس کے اجرا کے بعد 1979 کا بلدیاتی اور کمشنری نظام ختم ہو جائے گا. فوٹو: فائل
لاہور:
پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں کمشنری نظام کے خاتمے، ضلعی حکومتوں کی بحالی اور ضلعی حکومتوں میں سیاسی ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔
اس سلسلے میں آرڈیننس جاری کیے جانے کا فوری امکان ہے جس کی روشنی میں سیاسی ایڈمنسٹریٹرز کی تقرریوں کے حکم نامے جاری کر دیے جائیں گے۔ نئے آرڈیننس کو ایس ایل جی او 2012 کا نام دیا جا رہا ہے جس کے اجرا کے بعد 1979 کا بلدیاتی اور کمشنری نظام ختم ہو جائے گا جب کہ ضلعی، تعلقہ اور ٹاؤنز کی سطح پر سیاسی ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیے جائیں گے، آرڈیننس کے مسودے پر دونوں جماعتوں کے درمیان رات گئے تک صلاح مشورے اور قانونی ماہرین کی مشاورت بھی لی جا رہی تھی۔
پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان ساڑھے 4 سال سے جاری مذاکرات میں پیر کی شام یہ ڈرامائی موڑ آیا۔ اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، پیپلز پارٹی کے وزیر بلدیات آغا سراج درانی، وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ، وزیر قانون ایاز سومرو، ایم کیو ایم کی جانب سے ڈاکٹر فاروق ستار، سید سردار احمد، بابر غوری جب کہ وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین نے شرکت کی۔
بلاشبہ سیاسی حلقوں میں اس اہم فیصلہ پر عملدرآمد سے قومی سیاست کا نہ صرف رخ تبدیل ہو سکتا ہے بلکہ بلدیاتی نظام کے احیاء اور اس کی مقصدیت کے حوالے سے ابہام، شکوک و شبہات اور بدگمانیوں کی دھول بھی صاف کی جا سکتی ہے جس نے بلدیاتی نظام، مقامی حکومتوں کی افادیت پر بھی ایک لاحاصل سا سوالیہ نشان لگا دیا ہے جب کہ ضرورت اس امر کی ہے اس کا جلد سے جلد ازالہ کیا جائے تاکہ جمہوریت کو گراس روٹ لیول پر پنپنے کا موقع ملے اور جمہوری عمل کسی قسم کے سقم اور دبائو کے بغیر اپنی جڑیں مضبوط کرتا جائے۔
اصولی بات یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی سیاسی جماعتوں کی ترجیح اپنے منشور پر عمل پیرا ہونا ہوتا ہے تاہم ان معاشروں میں مقامی حکومتوں کا نظام اس قدر مستحکم ہے کہ وفاقی اور فیڈرل سطح پر تمام ادارے سماجی، بلدیاتی اور نچلی سطح پر عوام کو درپیش مسائل کے حل سے متعلق نظام کے بارے میں کسی تشویش اور الجھن کا شکار اس لیے نہیں ہوتے کہ وہاں انتظامی یونٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شہری حکومتوں اور مقامی خودمختار سویلین سیٹ اپ کی صورت میں تمام بلدیاتی امور سرانجام پاتے ہیں اور بلاروک ٹوک قومی ترقی اور سماجی استحکام کے ساتھ ساتھ وہاں سیاسی میدان میں نئی نسل کے باصلاحیت افراد قومی دھارے میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔
اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو بلدیاتی نظام سے صرف نظر اور مجرمانہ غفلت کے بھیانک نتائج سب کے سامنے ہیں، لوگ درست کہتے ہیں کہ قومی سیاست بحرانوں کی اندھی گلی میں کبھی بھی داخل نہ ہوتی اگر بلدیاتی نظام کے تسلسل کو جاری رہنے دیا جاتا، ساتھ ہی اس تاثر کو مٹا دیا جاتا کہ جمہوری حکومتیں بلدیاتی نظام سے اللہ واسطے کا بیر رکھتی ہیں۔
مقامی حکومتوں کے عملی تصور سے مخاصمت، سیاسی اجارہ داری اور جاگیردارانہ مفادات کے باعث ضلعی حکومتوں کی بحالی سے گریز کیا گیا جو سیاسی عاقبت نااندیشی کا افسوسناک طرزعمل تھا۔ بہرحال صدر مملکت نے بلدیاتی انتخابات کی عام انتخابات سے پیشگی انعقاد کی بات کر کے دراصل قومی مفاہمت کی ہمہ جہت نتیجہ خیزی کی طرف پیش قدمی کا عندیہ دیا ہے۔ اب ضرورت اسی مفاہمت، دور اندیشی پر مبنی مصالحت اور اتحاد و یک جہتی کو فروغ دینے کی ہے۔ اگر پورے ملک میں بلدیاتی نظام یکساں جمہوری روایات اور اصولوں کی روشنی میں قائم ہوتا ہے تو اس کے دور رس اثرات برآمد ہوں گے۔
سندھ سے کمشنری نظام کا خاتمہ اور ضلعی حکومتوں کی ملک گیر بحالی وقت کا تقاضہ ہے جس سے بلاشبہ پورے ملکی سیاسی کلچر اور مزاج میں بنیادی تبدیلی دیکھنے میں آئے گی، یقین کرنا چاہیے کہ مقامی یا شہری حکومتوں کی تشکیل کے اقدام سے پیدا شدہ سیاسی تنائو میں ٹھہرائو آئے گا اور جذباتی اور کشیدگی کی فضا بامقصد مفاہمت اور اتحاد و اتفاق کے فارمولے پر عمل درآمد سے حکومتی اہداف تک رسائی کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم یہ سارا عمل اتحادی اور دیگر سیاسی جماعتوں اور خاص طور پر اپوزیشن کو ساتھ ملا کر کیا جائے تو اس کے نتائج زیادہ دیرپا اور باثمر ہوں گے۔
اس ضمن میں ن لیگ کے سربراہ نواز شریف نے نئے صوبوں کے قیام کے لیے یک طرفہ کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے اس کی تشکیل نو کا جو مطالبہ کیا ہے اسے مزید متنازعہ نہ بنایا جائے۔ مفاہمت دوسری جماعتوں سے ہو سکتی ہے تو قومی مفاہمت کا تقاضہ ہے کہ کمیشن کی تشکیل پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے۔ دیگر امور پر بھی سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف نے مشاورتی اجلاس کے دوران پنجاب کی تقسیم کے لیے قائم پارلیمانی کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پنجاب کی لسانی بنیادوں پر تقسیم نہیں ہونے دیں گے تاہم انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل کے حق میں ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے صوبوں کی تجاویز کی حمایت کرتی ہے لیکن قومی اتفاق رائے سے کمیشن کی تشکیل نو کی جائے تو مسلم لیگ (ن) اس کا حصہ بنے گی۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بلدیاتی نظام اور الیکشن کے انعقاد سے مسائل کے حل میں بڑی مدد ملے گی تاہم یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ ملک کو دہشت گردی کے عذاب کا دریا بھی کامیابی سے عبور کرنا ہے جب کہ دشمنوں کی کوشش ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام رہے جس کے لیے شورش اور تخریب کاری کا ہر حربہ آزمایا جا رہا ہے، جرائم پیشہ عناصر نے دہشت گردوں سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے جس کا مقابلہ اتحاد و اتفاق اور قومی یکجہتی سے کیا جا سکتا ہے۔
ملک کو شدید مسائل کا سامنا ہے۔ قومی سیاست و معیشت کو داخلی اور خارجی دبائو سے نکالنے کے لیے اہم قومی فیصلے کرنے ہیں' اس لیے ملک بھر میں ضلعی حکومتوں کی بحالی اور سندھ کے کمشنری نظام کے خاتمے کے حوالے سے قانونی معاملات کا جائزہ لینے کا کام بھی جلد مکمل ہونا چاہیے۔ صدر کی ہدایت بروقت ہے کہ بلدیاتی نظام کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل کیا جائے۔ انھوں نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ حکومت کی اہم اتحادی جماعت ہے، ایم کیو ایم سے ہمارا اتحاد آیندہ انتخابات کے بعد بھی برقرار رہے گا، جو عناصر اتحاد کو سبوتاژ کرنے کی سازش کر رہے ہیں، دونوں جماعتیں مل کر ان سازشوں کو ناکام بنا دیں۔
کراچی میں امن و امان کی نازک صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں شہر میں قیام امن کے لیے متحد ہو کر کام کریں، کراچی میں بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے، بلدیاتی نظام پر ایم کیو ایم سمیت تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر نیا مسودہ تشکیل دیا جائے تاکہ صوبے میں نیا بلدیاتی نظام نافذ کر کے عوام کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔
ضرورت اس امر کی ہے مفاہمت اور یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر اہم قومی امور کے جب فیصلے ہوں گے تو ان سے سیاست میں خیر سگالی کا جذبہ نمو پذیر ہو گا، روایتی اور فرسودہ سیاسی نظام سے تشدد، عدم رواداری، انتقام، بداعتمادی، نفرت اور تعصبات کا خاتمہ ہو گا۔
چنانچہ اس امید کے ساتھ اگر بلدیاتی الیکشن کا انعقاد عمل میں آتا ہے تو یہ تجربہ عام انتخابات کے پُرامن انعقاد کی سمت ایک بڑی پیش رفت کے مترادف ہو گا لہٰذا حکمران اپنی توجہ صرف میعاد کی جیسی تیسی تکمیل پر مرکوز نہ رکھیں بلکہ اتحادی و جمہوری قوتوں کا اصل ہدف ایک مستحکم پاکستان اور فلاحی ریاست کے قیام کی منزل ہونا چاہیے۔ بلاشبہ یہ منزل دور نہیں ہے' صرف عزم، اتحاد و کشادہ نظری کی ضرورت ہے۔
پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں کمشنری نظام کے خاتمے، ضلعی حکومتوں کی بحالی اور ضلعی حکومتوں میں سیاسی ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔
اس سلسلے میں آرڈیننس جاری کیے جانے کا فوری امکان ہے جس کی روشنی میں سیاسی ایڈمنسٹریٹرز کی تقرریوں کے حکم نامے جاری کر دیے جائیں گے۔ نئے آرڈیننس کو ایس ایل جی او 2012 کا نام دیا جا رہا ہے جس کے اجرا کے بعد 1979 کا بلدیاتی اور کمشنری نظام ختم ہو جائے گا جب کہ ضلعی، تعلقہ اور ٹاؤنز کی سطح پر سیاسی ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیے جائیں گے، آرڈیننس کے مسودے پر دونوں جماعتوں کے درمیان رات گئے تک صلاح مشورے اور قانونی ماہرین کی مشاورت بھی لی جا رہی تھی۔
پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان ساڑھے 4 سال سے جاری مذاکرات میں پیر کی شام یہ ڈرامائی موڑ آیا۔ اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، پیپلز پارٹی کے وزیر بلدیات آغا سراج درانی، وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ، وزیر قانون ایاز سومرو، ایم کیو ایم کی جانب سے ڈاکٹر فاروق ستار، سید سردار احمد، بابر غوری جب کہ وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین نے شرکت کی۔
بلاشبہ سیاسی حلقوں میں اس اہم فیصلہ پر عملدرآمد سے قومی سیاست کا نہ صرف رخ تبدیل ہو سکتا ہے بلکہ بلدیاتی نظام کے احیاء اور اس کی مقصدیت کے حوالے سے ابہام، شکوک و شبہات اور بدگمانیوں کی دھول بھی صاف کی جا سکتی ہے جس نے بلدیاتی نظام، مقامی حکومتوں کی افادیت پر بھی ایک لاحاصل سا سوالیہ نشان لگا دیا ہے جب کہ ضرورت اس امر کی ہے اس کا جلد سے جلد ازالہ کیا جائے تاکہ جمہوریت کو گراس روٹ لیول پر پنپنے کا موقع ملے اور جمہوری عمل کسی قسم کے سقم اور دبائو کے بغیر اپنی جڑیں مضبوط کرتا جائے۔
اصولی بات یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی سیاسی جماعتوں کی ترجیح اپنے منشور پر عمل پیرا ہونا ہوتا ہے تاہم ان معاشروں میں مقامی حکومتوں کا نظام اس قدر مستحکم ہے کہ وفاقی اور فیڈرل سطح پر تمام ادارے سماجی، بلدیاتی اور نچلی سطح پر عوام کو درپیش مسائل کے حل سے متعلق نظام کے بارے میں کسی تشویش اور الجھن کا شکار اس لیے نہیں ہوتے کہ وہاں انتظامی یونٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شہری حکومتوں اور مقامی خودمختار سویلین سیٹ اپ کی صورت میں تمام بلدیاتی امور سرانجام پاتے ہیں اور بلاروک ٹوک قومی ترقی اور سماجی استحکام کے ساتھ ساتھ وہاں سیاسی میدان میں نئی نسل کے باصلاحیت افراد قومی دھارے میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔
اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو بلدیاتی نظام سے صرف نظر اور مجرمانہ غفلت کے بھیانک نتائج سب کے سامنے ہیں، لوگ درست کہتے ہیں کہ قومی سیاست بحرانوں کی اندھی گلی میں کبھی بھی داخل نہ ہوتی اگر بلدیاتی نظام کے تسلسل کو جاری رہنے دیا جاتا، ساتھ ہی اس تاثر کو مٹا دیا جاتا کہ جمہوری حکومتیں بلدیاتی نظام سے اللہ واسطے کا بیر رکھتی ہیں۔
مقامی حکومتوں کے عملی تصور سے مخاصمت، سیاسی اجارہ داری اور جاگیردارانہ مفادات کے باعث ضلعی حکومتوں کی بحالی سے گریز کیا گیا جو سیاسی عاقبت نااندیشی کا افسوسناک طرزعمل تھا۔ بہرحال صدر مملکت نے بلدیاتی انتخابات کی عام انتخابات سے پیشگی انعقاد کی بات کر کے دراصل قومی مفاہمت کی ہمہ جہت نتیجہ خیزی کی طرف پیش قدمی کا عندیہ دیا ہے۔ اب ضرورت اسی مفاہمت، دور اندیشی پر مبنی مصالحت اور اتحاد و یک جہتی کو فروغ دینے کی ہے۔ اگر پورے ملک میں بلدیاتی نظام یکساں جمہوری روایات اور اصولوں کی روشنی میں قائم ہوتا ہے تو اس کے دور رس اثرات برآمد ہوں گے۔
سندھ سے کمشنری نظام کا خاتمہ اور ضلعی حکومتوں کی ملک گیر بحالی وقت کا تقاضہ ہے جس سے بلاشبہ پورے ملکی سیاسی کلچر اور مزاج میں بنیادی تبدیلی دیکھنے میں آئے گی، یقین کرنا چاہیے کہ مقامی یا شہری حکومتوں کی تشکیل کے اقدام سے پیدا شدہ سیاسی تنائو میں ٹھہرائو آئے گا اور جذباتی اور کشیدگی کی فضا بامقصد مفاہمت اور اتحاد و اتفاق کے فارمولے پر عمل درآمد سے حکومتی اہداف تک رسائی کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم یہ سارا عمل اتحادی اور دیگر سیاسی جماعتوں اور خاص طور پر اپوزیشن کو ساتھ ملا کر کیا جائے تو اس کے نتائج زیادہ دیرپا اور باثمر ہوں گے۔
اس ضمن میں ن لیگ کے سربراہ نواز شریف نے نئے صوبوں کے قیام کے لیے یک طرفہ کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے اس کی تشکیل نو کا جو مطالبہ کیا ہے اسے مزید متنازعہ نہ بنایا جائے۔ مفاہمت دوسری جماعتوں سے ہو سکتی ہے تو قومی مفاہمت کا تقاضہ ہے کہ کمیشن کی تشکیل پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے۔ دیگر امور پر بھی سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف نے مشاورتی اجلاس کے دوران پنجاب کی تقسیم کے لیے قائم پارلیمانی کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پنجاب کی لسانی بنیادوں پر تقسیم نہیں ہونے دیں گے تاہم انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل کے حق میں ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے صوبوں کی تجاویز کی حمایت کرتی ہے لیکن قومی اتفاق رائے سے کمیشن کی تشکیل نو کی جائے تو مسلم لیگ (ن) اس کا حصہ بنے گی۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بلدیاتی نظام اور الیکشن کے انعقاد سے مسائل کے حل میں بڑی مدد ملے گی تاہم یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ ملک کو دہشت گردی کے عذاب کا دریا بھی کامیابی سے عبور کرنا ہے جب کہ دشمنوں کی کوشش ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام رہے جس کے لیے شورش اور تخریب کاری کا ہر حربہ آزمایا جا رہا ہے، جرائم پیشہ عناصر نے دہشت گردوں سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے جس کا مقابلہ اتحاد و اتفاق اور قومی یکجہتی سے کیا جا سکتا ہے۔
ملک کو شدید مسائل کا سامنا ہے۔ قومی سیاست و معیشت کو داخلی اور خارجی دبائو سے نکالنے کے لیے اہم قومی فیصلے کرنے ہیں' اس لیے ملک بھر میں ضلعی حکومتوں کی بحالی اور سندھ کے کمشنری نظام کے خاتمے کے حوالے سے قانونی معاملات کا جائزہ لینے کا کام بھی جلد مکمل ہونا چاہیے۔ صدر کی ہدایت بروقت ہے کہ بلدیاتی نظام کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل کیا جائے۔ انھوں نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ حکومت کی اہم اتحادی جماعت ہے، ایم کیو ایم سے ہمارا اتحاد آیندہ انتخابات کے بعد بھی برقرار رہے گا، جو عناصر اتحاد کو سبوتاژ کرنے کی سازش کر رہے ہیں، دونوں جماعتیں مل کر ان سازشوں کو ناکام بنا دیں۔
کراچی میں امن و امان کی نازک صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں شہر میں قیام امن کے لیے متحد ہو کر کام کریں، کراچی میں بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے، بلدیاتی نظام پر ایم کیو ایم سمیت تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر نیا مسودہ تشکیل دیا جائے تاکہ صوبے میں نیا بلدیاتی نظام نافذ کر کے عوام کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔
ضرورت اس امر کی ہے مفاہمت اور یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر اہم قومی امور کے جب فیصلے ہوں گے تو ان سے سیاست میں خیر سگالی کا جذبہ نمو پذیر ہو گا، روایتی اور فرسودہ سیاسی نظام سے تشدد، عدم رواداری، انتقام، بداعتمادی، نفرت اور تعصبات کا خاتمہ ہو گا۔
چنانچہ اس امید کے ساتھ اگر بلدیاتی الیکشن کا انعقاد عمل میں آتا ہے تو یہ تجربہ عام انتخابات کے پُرامن انعقاد کی سمت ایک بڑی پیش رفت کے مترادف ہو گا لہٰذا حکمران اپنی توجہ صرف میعاد کی جیسی تیسی تکمیل پر مرکوز نہ رکھیں بلکہ اتحادی و جمہوری قوتوں کا اصل ہدف ایک مستحکم پاکستان اور فلاحی ریاست کے قیام کی منزل ہونا چاہیے۔ بلاشبہ یہ منزل دور نہیں ہے' صرف عزم، اتحاد و کشادہ نظری کی ضرورت ہے۔