افغانستان میں گرینڈ لویہ جرگہ کا انعقاد
افغانستان میں تقریباً ڈھائی ہزار قبائلی سرداروں،عمائدین اور سیاستدانوں کا چار روزہ گرینڈ لویہ جرگہ جمعرات کو شروع ہوا۔
افغان صدر حامد کرزئی نے مقامی عمائدین سے اپیل کی ہے کہ امریکا کے ساتھ سلامتی سے متعلق اس معاہدے کی منظوری دے دی جائے۔ فوٹو؛ رائٹرز
افغانستان میں تقریباً ڈھائی ہزار قبائلی سرداروں، عمائدین اور سیاستدانوں کا چار روزہ گرینڈ لویہ جرگہ جمعرات کو شروع ہو گیا جس میں امریکا کے ساتھ دوطرفہ سیکیورٹی معاہدے پر بحث کی جا رہی ہے۔ منتظمین کے مطابق کابل اور امریکا کے درمیان جس دستاویز پر اتفاق ہو گا اس کی ایک کاپی مقامی زبانوں میں وفود کو فراہم کی جائے گی۔ کابل کی جانب سے جاری مسودے میں کرزئی نے جو امریکی مطالبات تسلیم کیے ہیں، ان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں کو کسی جرم میں افغان عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکے گا بلکہ صرف امریکا میں ہی انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں گے۔ واضح رہے یہ وہ معاملہ ہے جس پر پورا ایک سال مذاکرات ہوتے رہے مگر افغانستان اسے تسلیم کرنے پر تیار نہ تھا۔
اس کے ساتھ ہی برطانوی میڈیا میں لویہ جرگہ کی ایک تصویر شایع ہوئی ہے جس میں ایک افغان خاتون ہاتھوں میں ایک بینر اٹھائے عمائدین کے سامنے سے گزر رہی ہے جس پر لکھا ہے ''پیمان با امریکا وطن فروشی است'' ادھر افغان صدر حامد کرزئی نے مقامی عمائدین سے اپیل کی ہے کہ امریکا کے ساتھ سلامتی سے متعلق اس معاہدے کی منظوری دے دی جائے جس کے تحت آیندہ برس ملک سے بین الاقوامی افواج کے انخلا ء کے بعد بھی10 سے 15 ہزار غیر ملکی فوجیوں کو افغانستان میں رہنے کی اجازت ہو گی تاہم امریکی فوجیوں کو صرف مخصوص مواقعوں پر افغان شہریوں کے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت ہو گی، اس معاہدے پر 2014ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے دستخط نہیں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی صدر کرزئی کا دعویٰ تھا کہ افغانستان کا امن امریکا اور پاکستان کے ہاتھوں میں ہے۔ ادھر طالبان نے لویہ جرگے کو مسترد کر دیا ہے۔
امریکی صدر بارک اوباما نے افغان لویا جرگہ کے نام ایک خط میں افغان قوم کو یقین دلایا ہے کہ امریکی افواج افغانستان کی خود مختاری کا احترام کریں گی، کسی افغان گھر میں داخل نہیں ہوںگی۔ افغان لویہ جرگہ امریکا کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کی منظوری دیتا ہے یا نہیں' اس کا فیصلہ ایک دو روز میں ہو جائے گا تاہم طالبان کی جانب سے اسے مسترد کیے جانے کے بعد اس لویہ جرگہ کی حیثیت یکطرفہ ہو گئی ہے' اس جرگہ سے افغانستان میں جاری بدامنی ختم ہونے کی امید نہیں کی جا سکتی' جہاں تک افغان صدر حامد کرزئی کا یہ کہنا ہے کہ افغانستان کا امن امریکا اور پاکستان کے ہاتھ میں ہے' اس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں قیام امن کی خواہش ظاہر کی ہے لیکن کرزئی انتظامیہ میں شامل طاقتور لابی نے پاکستان مخالف پالیسی اختیار کی جس کا ثبوت فضل اللہ کا افغانستان میں قیام پذیر ہونا ہے' کرزئی انتظامیہ کو بھی اس پالیسی پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
اس کے ساتھ ہی برطانوی میڈیا میں لویہ جرگہ کی ایک تصویر شایع ہوئی ہے جس میں ایک افغان خاتون ہاتھوں میں ایک بینر اٹھائے عمائدین کے سامنے سے گزر رہی ہے جس پر لکھا ہے ''پیمان با امریکا وطن فروشی است'' ادھر افغان صدر حامد کرزئی نے مقامی عمائدین سے اپیل کی ہے کہ امریکا کے ساتھ سلامتی سے متعلق اس معاہدے کی منظوری دے دی جائے جس کے تحت آیندہ برس ملک سے بین الاقوامی افواج کے انخلا ء کے بعد بھی10 سے 15 ہزار غیر ملکی فوجیوں کو افغانستان میں رہنے کی اجازت ہو گی تاہم امریکی فوجیوں کو صرف مخصوص مواقعوں پر افغان شہریوں کے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت ہو گی، اس معاہدے پر 2014ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے دستخط نہیں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی صدر کرزئی کا دعویٰ تھا کہ افغانستان کا امن امریکا اور پاکستان کے ہاتھوں میں ہے۔ ادھر طالبان نے لویہ جرگے کو مسترد کر دیا ہے۔
امریکی صدر بارک اوباما نے افغان لویا جرگہ کے نام ایک خط میں افغان قوم کو یقین دلایا ہے کہ امریکی افواج افغانستان کی خود مختاری کا احترام کریں گی، کسی افغان گھر میں داخل نہیں ہوںگی۔ افغان لویہ جرگہ امریکا کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کی منظوری دیتا ہے یا نہیں' اس کا فیصلہ ایک دو روز میں ہو جائے گا تاہم طالبان کی جانب سے اسے مسترد کیے جانے کے بعد اس لویہ جرگہ کی حیثیت یکطرفہ ہو گئی ہے' اس جرگہ سے افغانستان میں جاری بدامنی ختم ہونے کی امید نہیں کی جا سکتی' جہاں تک افغان صدر حامد کرزئی کا یہ کہنا ہے کہ افغانستان کا امن امریکا اور پاکستان کے ہاتھ میں ہے' اس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں قیام امن کی خواہش ظاہر کی ہے لیکن کرزئی انتظامیہ میں شامل طاقتور لابی نے پاکستان مخالف پالیسی اختیار کی جس کا ثبوت فضل اللہ کا افغانستان میں قیام پذیر ہونا ہے' کرزئی انتظامیہ کو بھی اس پالیسی پر ضرور غور کرنا چاہیے۔