ڈرون حملوں کے بارے میں ابہام ختم ہونا چاہیے
امریکا نے پہلی بار خیبر پختونخوا کے بندوبستی علاقے میں ڈرون حملہ کیا جس میں 6 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو ئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈرون حملے میں جاں بحق ہونے والے حامد اللہ حقانی‘ جلال الدین حقانی کے دست راست اور حقانی نیٹ ورک کے اہم کمانڈر تھے۔ فوٹو: رائٹرز
ISLAMABAD:
موجودہ جمہوری حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد امریکا نے پہلی بار خیبر پختونخوا کے بندوبستی علاقے میں ڈرون حملہ کیا جس میں 6 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے' بعص خبروں کے مطابق 9 افراد جاں بحق ہوئے جن میں طالبان کے چھ سینئر رہنما شامل تھے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق امریکی ڈرون حملے میں جاں بحق ہونے والے حامد اللہ حقانی' جلال الدین حقانی کے دست راست اور حقانی نیٹ ورک کے اہم کمانڈر تھے۔ جاں بحق ہونے والے دوسرے اہم افراد مولانا عبدالرحمن' مولانا کریم' مولانا عبداللہ اور مولانا احمد جان ہیں۔ ان سب کا تعلق افغانستان سے تھا۔
موجودہ جمہوری حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد امریکا سے بارہا مطالبہ کیا کہ ڈرون حملوں کا سلسلہ بند کر دیا جائے کیونکہ اس سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر امریکا نے پاکستان کے اس مطالبے کو درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دورہ امریکا کے دوران صدر اوباما سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا مگر امریکا نے یہ حملے بند کرنے کی کوئی یقین دہانی نہ کرائی۔ گزشتہ سے پیوستہ روز مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کو بتایا تھا کہ امریکا نے اس بات کی واضح یقین دہانی کرا دی ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہیں کرے گا' ان کے بیان کو ابھی 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ امریکا نے ڈرون حملوں کا دائرہ خیبر پختونخوا تک بڑھا دیا۔بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وفاقی حکومت کمزور خارجہ پالیسی کی بدولت امریکی ڈرون حملے قبائلی علاقوں سے آگے نکل کر اب بندوبستی علاقوں تک پہنچ گئے ہیں۔
بعض اخبارات میں یہ خبر بھی آئی ہے کہ خیبر پختونخوا کے بندوبستی علاقے میں یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے، اس سے قبل پہلا حملہ 19نومبر 2008ء میں بنوں میں ہوا تھا جس میں القاعدہ کے اہم رہنما عبداللہ عزام السعودی اپنے چار ساتھیوں سمیت جاں بحق ہو گئے تھے تاہم یہ حملہ خیبر پختونخوا کے صوبائی حکومت کے زیر انتظام قبائلی علاقے جسے ایف آر کہا جاتا ہے میں ہوا تھا جب کہ اگلے روز والا حملہ اسٹیلڈ ایریا میں ہوا ہے۔ ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل میں دینی مدرسہ پر ہونے والے اس ڈرون حملے کی دفتر خارجہ کے ترجمان نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہر فورم پر ڈرون حملوں کا معاملہ اٹھایا ہے، یہ حملے پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سود مند نہیں' یہ حملے فوری بند ہونے چاہئیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک نے ہنگو میں ڈرون حملے کو ملکی سالمیت اور خود مختاری پر حملہ قرار دیا۔ پاکستان کے احتجاج کے باوجود امریکا مسلسل ڈرون حملے کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی ایسے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے کہ وہ یہ حملے کرنا بند کر دے گا۔
ہنگو کے علاقے میں ڈرون حملے میں طالبان رہنمائوں کے جاں بحق ہونے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ افغان طالبان کی ایک تعداد پاکستان کے بندوبستی علاقوں میں آتی جاتی رہتی ہے اور انھیں وہاں کوئی روک ٹوک نہیں، افغان طالبان پاکستان کے علاقوں میں آ جا رہے ہیں اور وہاں کی انتظامیہ کوئی نوٹس نہیں لے رہی۔ امریکا آج طالبان کے تعاقب میں ہنگو پر حملہ کر سکتا ہے تو کل کو وہ مزید آگے بڑھ کر دیگر بندوبستی علاقوں پر بھی حملے کر سکتا ہے۔ امریکا کے اپنے مفادات ہیں جہاں کہیں اس کے مفادات کو زک پہنچے وہ وہاں اس کے ازالے کے لیے پہنچ جاتا ہے۔ پاکستانی حکام کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ افغان طالبان آزادانہ بندوبستی علاقے میں آ جا رہے ہیں جس سے پاکستان کے امریکا سے تعلقات میں تنائو پیدا ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کا امیج متاثر ہو رہا ہے۔ افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ امریکا اور طالبان کے درمیان ہے' پاکستان کے عوام کی امریکا سے کوئی لڑائی نہیں مگر افغان طالبان اور القاعدہ کے باعث پاکستان کے امریکا سے تعلقات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
چند روز قبل جلال الدین حقانی کا ایک بیٹا بھی اسلام آباد میں نا معلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہو گیا تھا۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ افغان طالبان پاکستان کے شہروں میں بھی رہ رہے ہیں جن کے باعث مستقبل میں ملک کے لیے پریشانی پیدا ہو سکتی ہے۔ جہاں تک ڈرون حملوں کا تعلق ہے بعض حلقے یہ الزام لگا رہے ہیں کہ یہ حملے پاکستان کی مرضی سے ہو رہے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے کہ یہ حملے حکومت پاکستان کی مرضی سے ہو رہے ہیں تو حکومت کو فوری طور پر عوام کو اعتماد میں لیتے ہوئے یہ واضح کرنا چاہیے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور اس کی بقا اور سالمیت دہشت گردی کے خاتمے ہی میں ہے لہذا ڈرون حملے ناگزیر ہیں۔
عمران خان نے پریس کانفرنس سے خطاب میں سخت لب و لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ سرتاج عزیز کے ڈرون حملے نہ کرنے کی امریکی یقین دہانی کے بعد ہنگو میں ہونے والے حملے سے ثابت ہو گیا کہ امریکا پاکستانی حکمرانوں کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے' آج ہماری زمین پر حملہ ہوا ہے، اب نیٹو سپلائی روکنے کا قانونی حق رکھتے ہیں۔ عمران خان ایک عرصے سے ڈرون حملوں کے باعث نیٹو سپلائی بند کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اب حالیہ حملے سے ان کے موقف کو تقویت ملی ہے اور عوام کی ہمدردیاں بھی عمران خان کے ساتھ بڑھی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ڈرون حملوں اور دہشت گردی کی جنگ کے بارے میں اپنی واضح پالیسی کا اعلان کرے۔ اگر وہ ڈرون حملوں کے خلاف ہے تو ان کے خلاف کھل کر میدان میں آئے اور ملکی خود مختاری کا تحفظ کرے اور اگر وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ڈرون حملوں کا ساتھ دے رہی ہے تو بھی قوم کو اس سے آگاہ کرے۔ کسی قسم کی دوغلی پالیسی کا نقصان حکومت کی شہرت اور ساکھ ہی کو پہنچے گا۔
موجودہ جمہوری حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد امریکا نے پہلی بار خیبر پختونخوا کے بندوبستی علاقے میں ڈرون حملہ کیا جس میں 6 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے' بعص خبروں کے مطابق 9 افراد جاں بحق ہوئے جن میں طالبان کے چھ سینئر رہنما شامل تھے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق امریکی ڈرون حملے میں جاں بحق ہونے والے حامد اللہ حقانی' جلال الدین حقانی کے دست راست اور حقانی نیٹ ورک کے اہم کمانڈر تھے۔ جاں بحق ہونے والے دوسرے اہم افراد مولانا عبدالرحمن' مولانا کریم' مولانا عبداللہ اور مولانا احمد جان ہیں۔ ان سب کا تعلق افغانستان سے تھا۔
موجودہ جمہوری حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد امریکا سے بارہا مطالبہ کیا کہ ڈرون حملوں کا سلسلہ بند کر دیا جائے کیونکہ اس سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر امریکا نے پاکستان کے اس مطالبے کو درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دورہ امریکا کے دوران صدر اوباما سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا مگر امریکا نے یہ حملے بند کرنے کی کوئی یقین دہانی نہ کرائی۔ گزشتہ سے پیوستہ روز مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کو بتایا تھا کہ امریکا نے اس بات کی واضح یقین دہانی کرا دی ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہیں کرے گا' ان کے بیان کو ابھی 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ امریکا نے ڈرون حملوں کا دائرہ خیبر پختونخوا تک بڑھا دیا۔بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وفاقی حکومت کمزور خارجہ پالیسی کی بدولت امریکی ڈرون حملے قبائلی علاقوں سے آگے نکل کر اب بندوبستی علاقوں تک پہنچ گئے ہیں۔
بعض اخبارات میں یہ خبر بھی آئی ہے کہ خیبر پختونخوا کے بندوبستی علاقے میں یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے، اس سے قبل پہلا حملہ 19نومبر 2008ء میں بنوں میں ہوا تھا جس میں القاعدہ کے اہم رہنما عبداللہ عزام السعودی اپنے چار ساتھیوں سمیت جاں بحق ہو گئے تھے تاہم یہ حملہ خیبر پختونخوا کے صوبائی حکومت کے زیر انتظام قبائلی علاقے جسے ایف آر کہا جاتا ہے میں ہوا تھا جب کہ اگلے روز والا حملہ اسٹیلڈ ایریا میں ہوا ہے۔ ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل میں دینی مدرسہ پر ہونے والے اس ڈرون حملے کی دفتر خارجہ کے ترجمان نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہر فورم پر ڈرون حملوں کا معاملہ اٹھایا ہے، یہ حملے پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سود مند نہیں' یہ حملے فوری بند ہونے چاہئیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک نے ہنگو میں ڈرون حملے کو ملکی سالمیت اور خود مختاری پر حملہ قرار دیا۔ پاکستان کے احتجاج کے باوجود امریکا مسلسل ڈرون حملے کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی ایسے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے کہ وہ یہ حملے کرنا بند کر دے گا۔
ہنگو کے علاقے میں ڈرون حملے میں طالبان رہنمائوں کے جاں بحق ہونے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ افغان طالبان کی ایک تعداد پاکستان کے بندوبستی علاقوں میں آتی جاتی رہتی ہے اور انھیں وہاں کوئی روک ٹوک نہیں، افغان طالبان پاکستان کے علاقوں میں آ جا رہے ہیں اور وہاں کی انتظامیہ کوئی نوٹس نہیں لے رہی۔ امریکا آج طالبان کے تعاقب میں ہنگو پر حملہ کر سکتا ہے تو کل کو وہ مزید آگے بڑھ کر دیگر بندوبستی علاقوں پر بھی حملے کر سکتا ہے۔ امریکا کے اپنے مفادات ہیں جہاں کہیں اس کے مفادات کو زک پہنچے وہ وہاں اس کے ازالے کے لیے پہنچ جاتا ہے۔ پاکستانی حکام کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ افغان طالبان آزادانہ بندوبستی علاقے میں آ جا رہے ہیں جس سے پاکستان کے امریکا سے تعلقات میں تنائو پیدا ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کا امیج متاثر ہو رہا ہے۔ افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ امریکا اور طالبان کے درمیان ہے' پاکستان کے عوام کی امریکا سے کوئی لڑائی نہیں مگر افغان طالبان اور القاعدہ کے باعث پاکستان کے امریکا سے تعلقات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
چند روز قبل جلال الدین حقانی کا ایک بیٹا بھی اسلام آباد میں نا معلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہو گیا تھا۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ افغان طالبان پاکستان کے شہروں میں بھی رہ رہے ہیں جن کے باعث مستقبل میں ملک کے لیے پریشانی پیدا ہو سکتی ہے۔ جہاں تک ڈرون حملوں کا تعلق ہے بعض حلقے یہ الزام لگا رہے ہیں کہ یہ حملے پاکستان کی مرضی سے ہو رہے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے کہ یہ حملے حکومت پاکستان کی مرضی سے ہو رہے ہیں تو حکومت کو فوری طور پر عوام کو اعتماد میں لیتے ہوئے یہ واضح کرنا چاہیے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور اس کی بقا اور سالمیت دہشت گردی کے خاتمے ہی میں ہے لہذا ڈرون حملے ناگزیر ہیں۔
عمران خان نے پریس کانفرنس سے خطاب میں سخت لب و لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ سرتاج عزیز کے ڈرون حملے نہ کرنے کی امریکی یقین دہانی کے بعد ہنگو میں ہونے والے حملے سے ثابت ہو گیا کہ امریکا پاکستانی حکمرانوں کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے' آج ہماری زمین پر حملہ ہوا ہے، اب نیٹو سپلائی روکنے کا قانونی حق رکھتے ہیں۔ عمران خان ایک عرصے سے ڈرون حملوں کے باعث نیٹو سپلائی بند کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اب حالیہ حملے سے ان کے موقف کو تقویت ملی ہے اور عوام کی ہمدردیاں بھی عمران خان کے ساتھ بڑھی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ڈرون حملوں اور دہشت گردی کی جنگ کے بارے میں اپنی واضح پالیسی کا اعلان کرے۔ اگر وہ ڈرون حملوں کے خلاف ہے تو ان کے خلاف کھل کر میدان میں آئے اور ملکی خود مختاری کا تحفظ کرے اور اگر وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ڈرون حملوں کا ساتھ دے رہی ہے تو بھی قوم کو اس سے آگاہ کرے۔ کسی قسم کی دوغلی پالیسی کا نقصان حکومت کی شہرت اور ساکھ ہی کو پہنچے گا۔