ریلوے نظام میں بہتری کے امکانات
ریلوے کی ساکھ کو بحال کرنے میں موجودہ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ہمہ جہت پہلوئوں پر مصروف عمل ہیں۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ بلٹ ٹرین کے لیے 68 ارب ڈالر چاہئیں لیکن اگر منصوبہ مکمل ہو بھی گیا تو بیٹھنے والا کوئی مسافر نہیں ہو گا. فوٹو : اے پی پی/فائل
ریلوے کی ساکھ کو بحال کرنے میں موجودہ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ہمہ جہت پہلوئوں پر مصروف عمل ہیں۔ کراچی تا پشاور بلٹ ٹرین منصوبے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے نے کہا کہ بلٹ ٹرین کے لیے 68 ارب ڈالر چاہئیں لیکن اگر منصوبہ مکمل ہو بھی گیا تو بیٹھنے والا کوئی مسافر نہیں ہو گا، اس لیے پہلے پٹری کو 120 کلومیٹر اور پھر 150 سے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے قابل بنائیں گے۔ گزشتہ ادوار میں بند ہونے والی مسافر ٹرینوں کو ایک سال تک بحال نہیں کریں گے اور نہ ہی اسٹاپ سیاسی بنیادوں پر قائم ہو گا۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ کا یہ بیان کہ کراچی سرکلر ریلوے منصوبے پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے، صحرا میں بارش کی پہلی بوند کی مانند ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے کے ہمراہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے نہ صرف سرکلر ریلوے منصوبے پر عملدرآمد کا عندیہ دیا بلکہ یہ خوشخبری بھی دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے نمایندوں پر مشتمل کمیٹی جلد کام شروع کر دے گی، درپیش مسائل کے باعث تاخیر ہوئی۔ دوسری جانب وزیر ریلوے کا کہنا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کے آغاز میں سب سے بڑی رکاوٹ جاپانی ڈونر کا پاکستانی پارٹنر پر پہلے والے اعتماد کا نہ ہونا ہے، ہم نے اپنے حصے کے کام نہیں کیے، امن و امان کا مسئلہ ہے، انھیں فول پروف سیکیورٹی چاہیے۔ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ منصوبہ ایک دو سال میں مکمل نہیں ہوسکتا، لائنوں سے قبضہ نہیں چھڑا سکے، لوگوں کی ری سیٹلمنٹ کرنا ہو گی۔
ریلوے کی زمینوں پر جن کچی آبادیوں کو صوبائی حکومتیں لیز کرا چکی ہیں انھیں بے گھر نہیں کیا جائے گا البتہ کمرشل زمین ضرور خالی کرائیں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر ریلوے کی یہ باتیں امید افزا ہیں۔ سرکلر ریلوے منصوبے پر عملدرآمد میں جو دو اہم مسئلے درپیش ہیں ان میں سرفہرست ریلوے اراضی سے تجاوزات کا خاتمہ اور دوسرے بیرونی قرضے کے لیے وفاقی حکومت کی شرائط و ضوابط کو حتمی شکل دینا ہے۔ اس سلسلے میں جلد از جلد اقدامات کر کے سرکلر ریلوے منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں اور منصوبہ ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔ سرکلر ریلوے ٹرانسپورٹ مافیا کی لاقانونیت اور چیرہ دستیوں کا ایک موثر جواب ہو گا اور منی پاکستان کے لیے ایک بہترین اور سستا سفری وسیلہ بن جائے گا۔
وفاقی وزیر ریلوے کے ہمراہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے نہ صرف سرکلر ریلوے منصوبے پر عملدرآمد کا عندیہ دیا بلکہ یہ خوشخبری بھی دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے نمایندوں پر مشتمل کمیٹی جلد کام شروع کر دے گی، درپیش مسائل کے باعث تاخیر ہوئی۔ دوسری جانب وزیر ریلوے کا کہنا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کے آغاز میں سب سے بڑی رکاوٹ جاپانی ڈونر کا پاکستانی پارٹنر پر پہلے والے اعتماد کا نہ ہونا ہے، ہم نے اپنے حصے کے کام نہیں کیے، امن و امان کا مسئلہ ہے، انھیں فول پروف سیکیورٹی چاہیے۔ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ منصوبہ ایک دو سال میں مکمل نہیں ہوسکتا، لائنوں سے قبضہ نہیں چھڑا سکے، لوگوں کی ری سیٹلمنٹ کرنا ہو گی۔
ریلوے کی زمینوں پر جن کچی آبادیوں کو صوبائی حکومتیں لیز کرا چکی ہیں انھیں بے گھر نہیں کیا جائے گا البتہ کمرشل زمین ضرور خالی کرائیں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر ریلوے کی یہ باتیں امید افزا ہیں۔ سرکلر ریلوے منصوبے پر عملدرآمد میں جو دو اہم مسئلے درپیش ہیں ان میں سرفہرست ریلوے اراضی سے تجاوزات کا خاتمہ اور دوسرے بیرونی قرضے کے لیے وفاقی حکومت کی شرائط و ضوابط کو حتمی شکل دینا ہے۔ اس سلسلے میں جلد از جلد اقدامات کر کے سرکلر ریلوے منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں اور منصوبہ ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔ سرکلر ریلوے ٹرانسپورٹ مافیا کی لاقانونیت اور چیرہ دستیوں کا ایک موثر جواب ہو گا اور منی پاکستان کے لیے ایک بہترین اور سستا سفری وسیلہ بن جائے گا۔