شام پر روس ترکی مذاکرات بے نتیجہ اختتام پذیر
روس کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ دونوں فریق موجودہ معاہدے کا احترام کریں گے جس کا مقصد امن اقدامات کا احترام کرنا ہے۔
روس کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ دونوں فریق موجودہ معاہدے کا احترام کریں گے جس کا مقصد امن اقدامات کا احترام کرنا ہے۔ فوٹو: گوگل
شمال مغربی شام میں کشیدگی کم کرنے کی خاطر ترکی اور روس کے مابین ہونے والے مذاکرات میں کوئی تسلی بخش نتیجہ برآمد نہ ہو سکا البتہ فریقین کا مزید مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہو گیا۔
ترکی اور روس شام میں دو مختلف متحارب گروپوں کی حمایت کر رہے ہیں البتہ گزشتہ چند برس سے ادلب کے صوبے میں مذاکرات پر دونوں باہمی تعاون کر رہے ہیں۔ 2019 میں دونوں ممالک ایک صلح کے دہانے پر پہنچ گئے تھے مگر مذاکرات کی وہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی جس کے نتیجے میں روس کے حمایت یافتہ شامی فوجیوں نے باغیوں کے زیر قبضہ اس علاقے کے بہت سے مقامات پر قبضہ کر لیا۔
اس مرحلے کے بعد خانہ جنگی شروع ہوئی تھی جس کے نتیجے میں انسانی المیہ نے جنم لیا اور نو لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہو گئے انھیں اپنے گھر بار چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ دریں اثناء ترکی کا ایک سرکاری وفد ماسکو میں بات چیت کے لیے گیا جن کی بات چیت بے نتیجہ ختم ہو گئی ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے ترجمان ابراہیم کالن نے کہا ہے کہ دونوں فریق دوبارہ ملاقات پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ کالن نے کہا ہمیں جو نقشہ پیش کیا گیا تھا اسے ترکی نے منظور نہیں کیا کیونکہ ترکی انھی سرحدوں کے قیام پر مصر تھا جو 1918 میں ادلب کے لیے متعین کی گئی تھیں۔
کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کالن نے کہا ترکی ان سرحدوں کی پابندی چاہتا ہے جو ادلب میں ترک فوج کے لیے قائم کی گئی ہیں۔
کالن نے مزید بتایا کہ ترکی اس علاقے کی سویلین آبادی کی حفاظت کے لیے اپنے فوجی دستے روانہ کرنے پر تیار ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر ترک فوج کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو ترکی اس کا سختی سے جواب دے گا۔
دوسری طرف روس کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ دونوں فریق موجودہ معاہدے کا احترام کریں گے جس کا مقصد امن اقدامات کا احترام کرنا ہے۔ دوسری طرف جنیوا میں بین الاقوامی نمائندے مائیکل بیخلف نے اس بات پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا کہ بمباری کے نتیجے میں جن لوگوں کے گھروں کو تباہ کیا گیا ہے وہ اس سخت سردی کے موسم میں پاسٹک شیٹ کے ذریعے برفباری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترکی اور روس شام میں دو مختلف متحارب گروپوں کی حمایت کر رہے ہیں البتہ گزشتہ چند برس سے ادلب کے صوبے میں مذاکرات پر دونوں باہمی تعاون کر رہے ہیں۔ 2019 میں دونوں ممالک ایک صلح کے دہانے پر پہنچ گئے تھے مگر مذاکرات کی وہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی جس کے نتیجے میں روس کے حمایت یافتہ شامی فوجیوں نے باغیوں کے زیر قبضہ اس علاقے کے بہت سے مقامات پر قبضہ کر لیا۔
اس مرحلے کے بعد خانہ جنگی شروع ہوئی تھی جس کے نتیجے میں انسانی المیہ نے جنم لیا اور نو لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہو گئے انھیں اپنے گھر بار چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ دریں اثناء ترکی کا ایک سرکاری وفد ماسکو میں بات چیت کے لیے گیا جن کی بات چیت بے نتیجہ ختم ہو گئی ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے ترجمان ابراہیم کالن نے کہا ہے کہ دونوں فریق دوبارہ ملاقات پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ کالن نے کہا ہمیں جو نقشہ پیش کیا گیا تھا اسے ترکی نے منظور نہیں کیا کیونکہ ترکی انھی سرحدوں کے قیام پر مصر تھا جو 1918 میں ادلب کے لیے متعین کی گئی تھیں۔
کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کالن نے کہا ترکی ان سرحدوں کی پابندی چاہتا ہے جو ادلب میں ترک فوج کے لیے قائم کی گئی ہیں۔
کالن نے مزید بتایا کہ ترکی اس علاقے کی سویلین آبادی کی حفاظت کے لیے اپنے فوجی دستے روانہ کرنے پر تیار ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر ترک فوج کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو ترکی اس کا سختی سے جواب دے گا۔
دوسری طرف روس کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ دونوں فریق موجودہ معاہدے کا احترام کریں گے جس کا مقصد امن اقدامات کا احترام کرنا ہے۔ دوسری طرف جنیوا میں بین الاقوامی نمائندے مائیکل بیخلف نے اس بات پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا کہ بمباری کے نتیجے میں جن لوگوں کے گھروں کو تباہ کیا گیا ہے وہ اس سخت سردی کے موسم میں پاسٹک شیٹ کے ذریعے برفباری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔