امریکا پاکستان میں نجی کاروبار کیلیے سرمایہ فراہم کرے گا
فنڈنگ پاکستان پرائیویٹ انویسٹمنٹ انیشیٹو پروگرام کے تحت یو ایس ایڈکے ذریعے مقامی اداروں کے ساتھ مل کرکی جائیگی
نجی کاروبارکے فروغ سے ملازمتوں کے مواقع پیداہونگے،خواتین کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے،امریکی قونصل جنرل .فوٹو: فائل
کراچی میں تعینات امریکی قونصل جنرل مائیکل ڈوڈ مین نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں کم ہوتی ملازمتوں کے باعث نجی کاروباری شعبے (انٹرپرینیورشپ) کی ترقی نہایت ضروری ہے۔
امریکا پاکستان میں نجی کاروباری شعبے کی ترقی کے لیے فنڈز فراہم کرے گا۔ گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں نیشنل انٹرپرینیورشپ ورکنگ گروپ (نیو جی) کے زیر اہتمام ورلڈ انٹر پرینیورشپ ویک کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے امریکی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نجی کاروباری شعبے کی ترقی میں امریکا ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا، اس وقت پاکستان میں نجی کاروباری شعبے کی حوصلہ افزائی کرنی کی ضرورت ہے تا کہ ملازمتوں کے کم ہوتے ہوئے مواقع کے باعث نجی کاروباری شعبے کو ترقی دے کر ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔
انھوں نے کہاکہ نجی کاروباری شعبے کی ترقی کے لیے خواتین کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، بدقسمتی سے پاکستان میں نجی کاروبار شروع کرنے والی خواتین کی شرح 1فیصد سے بھی کم ہے جس کی حوصلہ افزائی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
مائیکل ڈوڈ مین نے بتایا کہ امریکا میں تقریباً ایک کروڑ افراد نجی کاروباری شعبے سے وابستہ ہیں جو2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کررہے ہیں جبکہ امریکا میں نجی کاروباری شعبے کا ٹرن اوور 3کھرب ڈالر سے بھی زائد ہے۔
امریکی قونصل جنرل نے کہاکہ پاکستان میں نجی کاروباری شعبے کی ترقی کے لیے پاکستان پرائیویٹ انویسٹمنٹ انیشیٹو پروگرام کے تحت امریکا یو ایس ایڈ کے ذریعے فنڈنگ فراہم کرے گا جس کے طریقہ کار کا اعلان آئندہ سال کر دیا جائے گا،نجی کاروبار کے لیے براہ راست فنڈز فراہم کرنے کے بجائے یو ایس ایڈ مقامی اداروں کے ساتھ مل کر فنڈز کی فراہمی کا کام کرے گا جس کے لیے 2 اداروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل انٹرپرینیور شپ ورکنگ گروپ کے صدر رضوان راضوی کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد ملازمتوں کی تلاش میں سرکرداں افراد کو ملازمتیں فراہم کرنے والوں کی صف میں شامل کرنا ہے۔
امریکا پاکستان میں نجی کاروباری شعبے کی ترقی کے لیے فنڈز فراہم کرے گا۔ گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں نیشنل انٹرپرینیورشپ ورکنگ گروپ (نیو جی) کے زیر اہتمام ورلڈ انٹر پرینیورشپ ویک کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے امریکی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نجی کاروباری شعبے کی ترقی میں امریکا ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا، اس وقت پاکستان میں نجی کاروباری شعبے کی حوصلہ افزائی کرنی کی ضرورت ہے تا کہ ملازمتوں کے کم ہوتے ہوئے مواقع کے باعث نجی کاروباری شعبے کو ترقی دے کر ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔
انھوں نے کہاکہ نجی کاروباری شعبے کی ترقی کے لیے خواتین کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، بدقسمتی سے پاکستان میں نجی کاروبار شروع کرنے والی خواتین کی شرح 1فیصد سے بھی کم ہے جس کی حوصلہ افزائی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
مائیکل ڈوڈ مین نے بتایا کہ امریکا میں تقریباً ایک کروڑ افراد نجی کاروباری شعبے سے وابستہ ہیں جو2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کررہے ہیں جبکہ امریکا میں نجی کاروباری شعبے کا ٹرن اوور 3کھرب ڈالر سے بھی زائد ہے۔
امریکی قونصل جنرل نے کہاکہ پاکستان میں نجی کاروباری شعبے کی ترقی کے لیے پاکستان پرائیویٹ انویسٹمنٹ انیشیٹو پروگرام کے تحت امریکا یو ایس ایڈ کے ذریعے فنڈنگ فراہم کرے گا جس کے طریقہ کار کا اعلان آئندہ سال کر دیا جائے گا،نجی کاروبار کے لیے براہ راست فنڈز فراہم کرنے کے بجائے یو ایس ایڈ مقامی اداروں کے ساتھ مل کر فنڈز کی فراہمی کا کام کرے گا جس کے لیے 2 اداروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل انٹرپرینیور شپ ورکنگ گروپ کے صدر رضوان راضوی کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد ملازمتوں کی تلاش میں سرکرداں افراد کو ملازمتیں فراہم کرنے والوں کی صف میں شامل کرنا ہے۔