بلوچستان پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت
وفاقی حکومت بلوچستان کے مسائل میں دلچسپی نہیں لے رہی
صوبائی حکومتوں نے بلوچستان میں آئین اور قانون کی رٹ کی بحالی کے سلسلے میں جو یقین دہانی کرائی تھی اس پر پیش رفت نہیں ہو رہی. فوٹو: فائل
بلوچستان کے حالات بدستور تشویشناک ہیں جس کا ثبوت وہاں آئے روز پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات ہیں۔
پیر کو بھی کوئٹہ اور اندرون صوبہ فائرنگ کے مختلف واقعات میں اہلسنت والجماعت کے ضلعی ترجمان سمیت6 افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہو گئے جب کہ2 نیٹو کنٹینرز کو آگ لگا دی گئی اور دو افراد کو اغوا کر لیا گیا۔ اس ٹھوس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کے اس سب سے بڑے صوبے میں ایسے واقعات اب تسلسل کے ساتھ ہونے لگے ہیں جو اس امر کا ثبوت بھی ہیں کہ حکومت کی جانب سے وہاں کے حالات بہتر بنانے پر اتنی توجہ نہیں دی گئی جتنی توجہ دی جانی چاہیے تھی۔
اسی وجہ سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہو ئے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات آئین کے تحت نہیں چلائے جا رہے، وفاقی حکومت دلچسپی نہیں لے رہی، وفاقی' صوبائی حکومتوں نے بلوچستان میں آئین اور قانون کی رٹ کی بحالی کے سلسلے میں جو یقین دہانی کرائی تھی اس پر پیش رفت نہیں ہو رہی، محسوس ہوتا ہے کہ امن و امان حکومت کے کنٹرول میں نہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے بلوچستان کی صورتحال سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔
بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین شامل ہیں۔ بلوچستان کے بارے میں عوام اور عدلیہ ہی فکرمند نہیں بلکہ اقتدار کے ایوانوں کے اندر سے بھی بلوچستان کے بارے میں فکرمندی کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ اراکین سینیٹ حاجی عدیل، زاہد خان، ظفرالحق نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان قتل گاہ بن چکا ہے، حکومتی رٹ نظر نہیں آ رہی، لوگوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر مارا جا رہا ہے، حکومت اور انٹیلی جنس ایجنسیاں سو رہی ہیں۔ چنانچہ حالات کا تقاضا ہے کہ وفاقی اور بلوچستان کی صوبائی حکومت وہاں حالات بہتر بنانے کے سلسلے میں اپنی ذمے داریوں کا احساس و ادراک کریں۔
اگرچہ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے گورنر بلوچستان کو ہدایت کی ہے کہ صوبے کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہنگامی حکمت عملی تیار کی جائے' اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اسلام آباد میں گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے تحت بلوچستان کے لیے منظور شدہ منصوبوں میں کٹوتی نہیں کی جائے گی۔
ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ سربراہ حکومت نے جو باتیں کہی ہیں وہ ان پر عمل بھی کریں یا کرائیں' ورنہ ایسے دعوے اور ایسی یقین دھانیاں تو اس سے پہلے کئی بار کی جا چکی ہیں۔ دہشت گردی کی وارداتیں خیبر پختونخوا میں بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ پیر کو بھی پشاور میں اقوام متحدہ کے دفتر کے قریب امریکی سفارتخانے کی گاڑی پر خودکش دھماکے میں 2 افراد ہلاک جب کہ 2 امریکیوں سمیت 20 زخمی ہو گئے۔ پاکستان نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
دفتر خارجہ سے جاری کردہ بیان کے مطابق حکومت پاکستان اس واقعے کی مکمل تحقیقات کروائے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے اس سلسلے میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ ٹیم جلد اپنا کام مکمل کرے گی اور اس کی مرتب کردہ رپورٹ کی روشنی میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کا زور توڑنے کے لیے فول پروف لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
پیر کو بھی کوئٹہ اور اندرون صوبہ فائرنگ کے مختلف واقعات میں اہلسنت والجماعت کے ضلعی ترجمان سمیت6 افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہو گئے جب کہ2 نیٹو کنٹینرز کو آگ لگا دی گئی اور دو افراد کو اغوا کر لیا گیا۔ اس ٹھوس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کے اس سب سے بڑے صوبے میں ایسے واقعات اب تسلسل کے ساتھ ہونے لگے ہیں جو اس امر کا ثبوت بھی ہیں کہ حکومت کی جانب سے وہاں کے حالات بہتر بنانے پر اتنی توجہ نہیں دی گئی جتنی توجہ دی جانی چاہیے تھی۔
اسی وجہ سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہو ئے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات آئین کے تحت نہیں چلائے جا رہے، وفاقی حکومت دلچسپی نہیں لے رہی، وفاقی' صوبائی حکومتوں نے بلوچستان میں آئین اور قانون کی رٹ کی بحالی کے سلسلے میں جو یقین دہانی کرائی تھی اس پر پیش رفت نہیں ہو رہی، محسوس ہوتا ہے کہ امن و امان حکومت کے کنٹرول میں نہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے بلوچستان کی صورتحال سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔
بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین شامل ہیں۔ بلوچستان کے بارے میں عوام اور عدلیہ ہی فکرمند نہیں بلکہ اقتدار کے ایوانوں کے اندر سے بھی بلوچستان کے بارے میں فکرمندی کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ اراکین سینیٹ حاجی عدیل، زاہد خان، ظفرالحق نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان قتل گاہ بن چکا ہے، حکومتی رٹ نظر نہیں آ رہی، لوگوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر مارا جا رہا ہے، حکومت اور انٹیلی جنس ایجنسیاں سو رہی ہیں۔ چنانچہ حالات کا تقاضا ہے کہ وفاقی اور بلوچستان کی صوبائی حکومت وہاں حالات بہتر بنانے کے سلسلے میں اپنی ذمے داریوں کا احساس و ادراک کریں۔
اگرچہ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے گورنر بلوچستان کو ہدایت کی ہے کہ صوبے کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہنگامی حکمت عملی تیار کی جائے' اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اسلام آباد میں گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے تحت بلوچستان کے لیے منظور شدہ منصوبوں میں کٹوتی نہیں کی جائے گی۔
ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ سربراہ حکومت نے جو باتیں کہی ہیں وہ ان پر عمل بھی کریں یا کرائیں' ورنہ ایسے دعوے اور ایسی یقین دھانیاں تو اس سے پہلے کئی بار کی جا چکی ہیں۔ دہشت گردی کی وارداتیں خیبر پختونخوا میں بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ پیر کو بھی پشاور میں اقوام متحدہ کے دفتر کے قریب امریکی سفارتخانے کی گاڑی پر خودکش دھماکے میں 2 افراد ہلاک جب کہ 2 امریکیوں سمیت 20 زخمی ہو گئے۔ پاکستان نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
دفتر خارجہ سے جاری کردہ بیان کے مطابق حکومت پاکستان اس واقعے کی مکمل تحقیقات کروائے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے اس سلسلے میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ ٹیم جلد اپنا کام مکمل کرے گی اور اس کی مرتب کردہ رپورٹ کی روشنی میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کا زور توڑنے کے لیے فول پروف لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔