ٹرمینلز پرمحدود گنجائش کلیئرنس کیلیے ہزاروں کنٹینرز جمع

یومیہ 200 کنٹینرز کی گنجائش، ایگزامنیشن کیلیے مارکنگ فی ٹرمینل 500 کی ہورہی ہے.

15ہزارکنٹینرجمع،گراؤنڈنگ میں15،کلیئرنس میں5روزلگ رہے ہیں، ٹریڈ سیکٹرپریشان فوٹو : آن لائن

محکمہ کسٹمز کی جانب سے مارک شدہ ایگزامنیشن کے مطابق نجی کنٹینر ٹرمینلز میں گراؤنڈنگ کے لیے مطلوبہ گنجائش نہ ہونے کے باعث 15 ہزار کنٹینرز کی کلیئرنس مستقل بنیادوں پر تعطل کا شکارہوگئی ہے۔

تاہم نچلے درجے کے کسٹم افسران اس تعطلی کی وجہ ٹرانسپورٹرز کی حالیہ 11 روزہ ہڑتال کو قراردے رہے ہیں جو حقائق کے برعکس ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز کی حالیہ ہڑتال کے دوران محکمہ کسٹمز کے تمام کلکٹریٹس کی جانب سے کسٹم ڈیوٹی وٹیکسز باقاعدگی کے ساتھ وصول کیے گئے جبکہ کسٹمز ایسسمنٹس اور ایگزامنیشن کی سرگرمیاںمعمول کے مطابق جاری رہیں البتہ ہڑتال کی وجہ سے برآمدی کنسائمنٹس کی ایک بڑی تعداد بندرگاہوں تک نہیں پہنچ سکی جس کے نتیجے میں بیشتر برآمدکنندگان کی بروقت شپمنٹس نہ ہونے کی وجہ سے انکے برآمدی معاہدے منسوخ ہوگئے یا پھر ان کے غیرملکی خریداروں نے کنسائمنٹس تاخیر سے پہنچنے پرطے شدہ قیمتوں میں30 تا40 فیصد کی کمی کردی ہے جس کے نتیجے میں پاکستانی برآمدکنندگان کو بھاری مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔

ذرائع نے بتایاکہ نجی کنٹینر ٹرمینلز کے آئی سی ٹی اور پی آئی سی ٹی کے پاس کسٹمز ایگزامنیشن کے لیے یومیہ صرف 200 کنٹینرز گراؤنڈ کرنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ کسٹمز کے مختلف کلکٹریٹس کی جانب سے فی ٹرمینل کو یومیہ 400 تا500 کنٹینرز کی کسٹمز ایگزامنیشن کی ہدایات جاری ہوتی ہیں۔




ٹرمینلز میں گنجائش اور کسٹمز کی زائدایگزامنیشن مارکنگ کے درمیان اس نمایاں فرق نے کنٹینر ٹرمینلز پرطویل دورانیے سے بیک لاگ کی صورتحال پیدا کر دی ہے جو درآمدکنندگان اور ٹریڈ سیکٹر کے لیے اضافی اخراجات وتاخیر کا سبب بن رہی ہے کیونکہ بیک لاگ کے سبب ملک میں درآمدہونے والے کنٹینر کی گراؤنڈنگ 10 تا15 روز میں ہورہی ہے جبکہ کنٹینرز کی کلیئرنس میں مزید 5 یوم درکار ہوتے ہیں، اس طرح سے فی کنٹینرکی کلیئرنس کی مدت20 یوم تک پہنچ گئی ہے۔

اس ضمن میں پاکستان اکانومی فورم کے چیئرمین ارشد جمال نے بتایا کہ محکمہ کسٹمز اور نجی کنٹینرٹرمینلز کے درمیان کنسائمنٹس کی کلیرنس کے رہنما اصول کا ایک معاہدہ گزشتہ کئی سال سے زیرالتوا ہے جسکی وجہ سے ٹریڈ سیکٹر کے مصائب بڑھتے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت نجی کنٹینر ٹرمینلز کی کنٹرولنگ اتھارٹی محکمہ کسٹمز کو ہونا تھا جبکہ نجی کنٹینر ٹرمینلز کو تیز رفتارکسٹمز ایگزامنیشن کے لیے ''ایگزامنیشن ایریا'' مختص کرنا تھا۔ انہوں نے بتایاکہ درآمدی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس میں تاخیرکاایک سبب ایگزامنیشن کرنیوالے کسٹم افسران کی ایگزامینشن کی رپورٹ متعلقہ اسسٹنٹ کلکٹرکی اجازت کے بغیرنہ بھیجناہے جوکنٹینرز کی کلیئرنس کے عمل میں مزید تاخیرکا سبب بن رہی ہے۔
Load Next Story