محمد عرفان میڈیکل ٹیسٹ میں خطرناک انجری سے کلیئر
ایک ہفتے کا آرام مکمل کرنے کے بعد پیر سے لاہور میں ٹریننگ کا آغاز کرینگے
سری لنکا کیخلاف سیریز سے قبل ڈومیسٹک ٹی20ایونٹ میں شرکت کے خواہاں۔ فوٹو: فائل
فاسٹ بولر محمد عرفان کو میڈیکل ٹیسٹ میں خطرناک انجری سے کلیئر قرار دیدیا گیا، ایک ہفتے کا آرام مکمل کرنے کے بعد وہ پیر سے لاہور میں ٹریننگ کا آغاز کرینگے۔
سری لنکا کیخلاف سیریز سے قبل پیسر نے ڈومیسٹک ٹی20 ایونٹ میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہرکیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق محمد عرفان مسلسل کرکٹ کھیلنے کا بوجھ نہ سنبھال سکے اور جنوبی افریقہ سے دوسرے ٹی ٹوئنٹی کے دوران انجرڈ ہو گئے تھے، وہ ٹیم کیساتھ پروٹیز کے دیس بھی نہیں جا سکے، ہپ اسٹرین کے بعد انھیں طبی معائنے اور ایم آر آئی اسکین کیلیے دبئی میں ہی قیام کرنا پڑا،نتائج کے مطابق وہ کسی خطرناک انجری سے محفوظ رہے ہیں۔31 سالہ عرفان نے نمائندہ ''ایکسپریس ٹریبیون'' فواد حسین سے بات چیت میں کہا کہ ڈاکٹرز نے مجھے ایک ہفتے آرام کا مشورہ دیا،میں تیزی سے روبصحت ہوں اور پیر سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ٹریننگ شروع کر دوں گا۔
انھوں نے مزیدکہا کہ بولنگ کے بھی جلد آغاز کی توقع ہے، میں27نومبر سے شروع ہونیوالے ڈپارٹمنٹل ٹی 20 ٹورنامنٹ میں بھی حصہ لینا چاہتا ہوں، البتہ شرکت کا درست اندازہ ٹریننگ شروع کرنے کے بعد ہی ہو گا۔ عرفان نے کہا کہ میں نے آئندہ ماہ یو اے ای میں سری لنکا کیخلاف سیریز کیلیے مکمل ردھم کے حصول کو ہدف بنایا ہوا ہے، انھوں نے کہا کہ پچز میں بائونس کی وجہ سے میں جنوبی افریقہ میں بولنگ سے لطف اندوز ہوتا ہوں،مجھے وہاں نہ جانے پر مایوسی ہوئی، میں نے رواں برس ہی پروٹیز کے دیس میں اچھا کھیل پیش کیا تھا۔ جنوبی افریقہ کیخلاف یو اے ای سیریز کے 2 ٹیسٹ میں7 اور5 ون ڈے میں9 وکٹیں لینے والے عرفان اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں، انھوں نے کہا کہ اگر ٹیم کو فتح میں مدد ملے تو ہی مجھے اپنے کھیل پر خوشی ہوگی، نتائج کے لحاظ سے وہ ہمارے لیے اچھی سیریز ثابت نہیں ہوئی۔ عرفان نے کہا کہ سری لنکا بھی سخت حریف ہے، میں اس کیخلاف شاندار بولنگ سے اپنی ٹیم کیلیے اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔
سری لنکا کیخلاف سیریز سے قبل پیسر نے ڈومیسٹک ٹی20 ایونٹ میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہرکیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق محمد عرفان مسلسل کرکٹ کھیلنے کا بوجھ نہ سنبھال سکے اور جنوبی افریقہ سے دوسرے ٹی ٹوئنٹی کے دوران انجرڈ ہو گئے تھے، وہ ٹیم کیساتھ پروٹیز کے دیس بھی نہیں جا سکے، ہپ اسٹرین کے بعد انھیں طبی معائنے اور ایم آر آئی اسکین کیلیے دبئی میں ہی قیام کرنا پڑا،نتائج کے مطابق وہ کسی خطرناک انجری سے محفوظ رہے ہیں۔31 سالہ عرفان نے نمائندہ ''ایکسپریس ٹریبیون'' فواد حسین سے بات چیت میں کہا کہ ڈاکٹرز نے مجھے ایک ہفتے آرام کا مشورہ دیا،میں تیزی سے روبصحت ہوں اور پیر سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ٹریننگ شروع کر دوں گا۔
انھوں نے مزیدکہا کہ بولنگ کے بھی جلد آغاز کی توقع ہے، میں27نومبر سے شروع ہونیوالے ڈپارٹمنٹل ٹی 20 ٹورنامنٹ میں بھی حصہ لینا چاہتا ہوں، البتہ شرکت کا درست اندازہ ٹریننگ شروع کرنے کے بعد ہی ہو گا۔ عرفان نے کہا کہ میں نے آئندہ ماہ یو اے ای میں سری لنکا کیخلاف سیریز کیلیے مکمل ردھم کے حصول کو ہدف بنایا ہوا ہے، انھوں نے کہا کہ پچز میں بائونس کی وجہ سے میں جنوبی افریقہ میں بولنگ سے لطف اندوز ہوتا ہوں،مجھے وہاں نہ جانے پر مایوسی ہوئی، میں نے رواں برس ہی پروٹیز کے دیس میں اچھا کھیل پیش کیا تھا۔ جنوبی افریقہ کیخلاف یو اے ای سیریز کے 2 ٹیسٹ میں7 اور5 ون ڈے میں9 وکٹیں لینے والے عرفان اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں، انھوں نے کہا کہ اگر ٹیم کو فتح میں مدد ملے تو ہی مجھے اپنے کھیل پر خوشی ہوگی، نتائج کے لحاظ سے وہ ہمارے لیے اچھی سیریز ثابت نہیں ہوئی۔ عرفان نے کہا کہ سری لنکا بھی سخت حریف ہے، میں اس کیخلاف شاندار بولنگ سے اپنی ٹیم کیلیے اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔