وائلن بجاتی خاتون کے دماغ کا آپریشن
دماغ کے اس قدر حساس آپریشن کا مریضہ کے وائلن بجاتے ہوئے مکمل ہونا جدید میڈیکل تاریخ کا ایک انوکھا کارنامہ ہے۔
دماغ کے اس قدر حساس آپریشن کا مریضہ کے وائلن بجاتے ہوئے مکمل ہونا جدید میڈیکل تاریخ کا ایک انوکھا کارنامہ ہے۔ فوٹو: فائل
مغربی ممالک زندگی کے مختلف شعبوں میں مسلسل ترقی کے مراحل طے کر رہے ہیں یہاں تک کہ کئی معاملات دیکھ کر انسان ورطۂ حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ تازہ ترین خبر لندن سے آئی ہے جہاں ایک ادھیڑ عمر موسیقار خاتون جو چند برس قبل ایک محفل موسیقی میں میوزک بجاتے ہوئے بیہوش ہو گئی۔ طبی معائنے کے بعد پتہ چلا اس کے دماغ میں ٹیومر ہے جو خطرناک کینسر کی علامت تھا۔
اب ماہر ڈاکٹوں نے اس 53 سالہ موسیقار خاتون کے آپریشن کے ذریعے کینسر کا ٹیومر نکالنے کا فیصلہ کیا تو اس کے دماغ کے ایک مخصوص حصے کو بیہوش کر دیا تاکہ آپریشن کی تکلیف محسوس نہ ہو لیکن بازوؤں کو حرکت دینے والا دماغ کا حصہ ویسے ہی چھوڑ دیا۔
اب اس حیرت انگیز آپریشن کی تصویر ورلڈ میڈیا میں شایع ہوئی ہے کہ ڈیمر ٹرنر نامی اس برطانوی مریضہ کے دماغ سے ٹیومر نکالنے کے لیے آپریشن کیا جاتا ہے جب کہ مریضہ اپنے ہاتھ سے وائلن پر اپنی پسندیدہ دھن بجا رہی ہے۔ یہ ٹیومر مریضہ کے دماغ کے داہنے طرف تھا۔ دماغ کا آپریشن کنگز کالج اسپتال لندن کے کنسلٹنٹ نیورو سرجن کیومارس اشکان کی زیرنگرانی کیا گیاہے اور وائلن کی مدھر دھن سے صرف مریضہ ہی نہیں دیگر ڈاکٹر بھی محفوظ ہو رہے ہیں۔
دماغ کے اس قدر حساس آپریشن کا مریضہ کے وائلن بجاتے ہوئے مکمل ہونا جدید میڈیکل تاریخ کا ایک انوکھا کارنامہ ہے جس کی جس قدر بھی داد دی جائے وہ کم ہے لیکن یہاں ہمیں اپنے وطن عزیز کی طبی سہولیات کا خیال بھی آتا ہے اور انسان کف افسوس سے ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔ اگرچہ نئی حکومت نے غریب لوگوں کے علاج معالجہ کے لیے صحت کارڈ متعارف کرانے کی بات کی ہے مگر دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کے دل خوش کن اعلانات زیادہ تر اعلانات تک ہی محدود رہتے ہیں۔
ان پر عمل درآمد کے لیے کس قسم کا لائحہ عمل مرتب کیا جاتا ہے اس کی تفصیلات کا بالعموم علم ہی نہیں ہو پاتا سوائے حکومتی ترجمانوں کے ''سب اچھا'' جیسے بیانات کے جو غالباً خانہ پری کے ذیل میں آتے ہیں۔ ادھر ہم ایک دوسری بڑی مثال چین کی صورت میں دیکھتے ہیں جہاں ہلاکت خیز کرونا وائرس کی دریافت کے بعد انھوں نے صرف دس دن کی مختصر مدت کے دوران وہاں سو بستروں کا ایک نیا اسپتال کھڑا کر لیا۔
اب ماہر ڈاکٹوں نے اس 53 سالہ موسیقار خاتون کے آپریشن کے ذریعے کینسر کا ٹیومر نکالنے کا فیصلہ کیا تو اس کے دماغ کے ایک مخصوص حصے کو بیہوش کر دیا تاکہ آپریشن کی تکلیف محسوس نہ ہو لیکن بازوؤں کو حرکت دینے والا دماغ کا حصہ ویسے ہی چھوڑ دیا۔
اب اس حیرت انگیز آپریشن کی تصویر ورلڈ میڈیا میں شایع ہوئی ہے کہ ڈیمر ٹرنر نامی اس برطانوی مریضہ کے دماغ سے ٹیومر نکالنے کے لیے آپریشن کیا جاتا ہے جب کہ مریضہ اپنے ہاتھ سے وائلن پر اپنی پسندیدہ دھن بجا رہی ہے۔ یہ ٹیومر مریضہ کے دماغ کے داہنے طرف تھا۔ دماغ کا آپریشن کنگز کالج اسپتال لندن کے کنسلٹنٹ نیورو سرجن کیومارس اشکان کی زیرنگرانی کیا گیاہے اور وائلن کی مدھر دھن سے صرف مریضہ ہی نہیں دیگر ڈاکٹر بھی محفوظ ہو رہے ہیں۔
دماغ کے اس قدر حساس آپریشن کا مریضہ کے وائلن بجاتے ہوئے مکمل ہونا جدید میڈیکل تاریخ کا ایک انوکھا کارنامہ ہے جس کی جس قدر بھی داد دی جائے وہ کم ہے لیکن یہاں ہمیں اپنے وطن عزیز کی طبی سہولیات کا خیال بھی آتا ہے اور انسان کف افسوس سے ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔ اگرچہ نئی حکومت نے غریب لوگوں کے علاج معالجہ کے لیے صحت کارڈ متعارف کرانے کی بات کی ہے مگر دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کے دل خوش کن اعلانات زیادہ تر اعلانات تک ہی محدود رہتے ہیں۔
ان پر عمل درآمد کے لیے کس قسم کا لائحہ عمل مرتب کیا جاتا ہے اس کی تفصیلات کا بالعموم علم ہی نہیں ہو پاتا سوائے حکومتی ترجمانوں کے ''سب اچھا'' جیسے بیانات کے جو غالباً خانہ پری کے ذیل میں آتے ہیں۔ ادھر ہم ایک دوسری بڑی مثال چین کی صورت میں دیکھتے ہیں جہاں ہلاکت خیز کرونا وائرس کی دریافت کے بعد انھوں نے صرف دس دن کی مختصر مدت کے دوران وہاں سو بستروں کا ایک نیا اسپتال کھڑا کر لیا۔