کے ای ایس سی واٹر بورڈ تنصیبات پر لوڈشیڈنگ بند کرے شرجیل میمن
واجبات کا معاملہ مذاکرات سے حل کرے،شہر کو پانی کے بحران میں نہ دھکیلاجائے،صوبائی وزیر
سندھ حکومت واٹربورڈپرکے ای ایس سی کے واجبات کی ادائیگیوں کیلیے سنجیدہ ہے،وزیربلدیات۔ فوٹو: فائل
وزیربلدیات واطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کی صدارت میں کے ای ایس سی کے اعلیٰ حکام اورمحکمہ بلدیات سمیت دیگرمحکموں کے سیکریٹریزکے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کے ای ایس سی نے سندھ حکومت سے واٹربورڈکی تنصیبات کی بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے سمیت دیگرامورکے حل کیلیے24 گھنٹے کی مہلت طلب کی ہے۔
جبکہ صوبائی وزیربلدیات کاکہناہے کہ کے ای ایس سی کراچی کے شہریوں کو پانی کے بحران میں دھکیلنے کے بجائے معاملات کومذاکرات سے حل کرنے کوترجیع دے۔واٹر بورڈ کے پمپنگ اسٹیشنوں پرکے ای ایس سی انتظامیہ کی جانب سے واجبات کوجواز بنا کر کی جانے والی لوڈشیڈنگ کے بعد صوبائی وزیربلدیات نے جمعے کو اپنے دفتر میں ایک اعلیٰ سطح کااجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں مشیرخزانہ مراد علی شاہ،سیکریٹری خزانہ سہیل راجپوت،سکریٹری بلدیات جاویدحنیف،کے ای ایس سی کے چیف آف اسٹاف اسامہ قریشی،ڈائریکٹرڈسٹری بیوشن کراچی سمیت دیگرحکام نے شرکت کی۔اجلاس میںکے ای ایس سی انتظامیہ کی جانب سے واٹربورڈ پرواجبات کی ادائیگی کیلیے زوردیاگیااورصوبائی وزیربلدیات سے استدعاکی گئی کہ وہ ادائیگیوںکیلیے اقدامات کریں۔
اس موقع پرصوبائی وزیربلدیات شرجیل میمن نے کہاکہ سندھ حکومت واٹربورڈپرکے ای ایس سی کے واجبات کی ادائیگیوں کیلیے سنجیدہ ہے اوراس سلسلے میں کوئی فارمولاجلدطے کر لیا جائیگا،کے ای ایس سی واٹربورڈکے پمپنگ اسٹیشنوں پرلوڈشیڈنگ فوری ختم کرے کیونکہ اس سے شہرمیں پانی کابحران شدت اختیارکرتاجارہاہے۔دریں اثناکے ای ایس سی کے ترجمان نے واضح کیاہے کہ واٹر بورڈ کی پمپنگ اسٹیشنزپربجلی کی لوڈ شیڈنگ واجبات کی عدم ادائیگی اور مسلسل متعدد نوٹسز جاری ہونے کے بعدواٹر بورڈانتظامیہ کی غیرسنجیدگی کے باعث کی گئی،فروری2013 میں سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ اگرواٹر بورڈ مارچ 2013 سے ماہانہ بلوں کی ادائیگی نہیں کرتاتوکے ای ایس سی واٹر بورڈکی تنصیبات کی بجلی منقطع کرنے کاحق رکھتی ہے ،کے ای ایس سی انتظامیہ نے کراچی کے شہریوں کی پانی کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے فروری 2013 سے مارچ تک واٹربورڈ کی بجلی عدالت کے حکم کے باوجودمنقطع نہیں کی ۔
جبکہ صوبائی وزیربلدیات کاکہناہے کہ کے ای ایس سی کراچی کے شہریوں کو پانی کے بحران میں دھکیلنے کے بجائے معاملات کومذاکرات سے حل کرنے کوترجیع دے۔واٹر بورڈ کے پمپنگ اسٹیشنوں پرکے ای ایس سی انتظامیہ کی جانب سے واجبات کوجواز بنا کر کی جانے والی لوڈشیڈنگ کے بعد صوبائی وزیربلدیات نے جمعے کو اپنے دفتر میں ایک اعلیٰ سطح کااجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں مشیرخزانہ مراد علی شاہ،سیکریٹری خزانہ سہیل راجپوت،سکریٹری بلدیات جاویدحنیف،کے ای ایس سی کے چیف آف اسٹاف اسامہ قریشی،ڈائریکٹرڈسٹری بیوشن کراچی سمیت دیگرحکام نے شرکت کی۔اجلاس میںکے ای ایس سی انتظامیہ کی جانب سے واٹربورڈ پرواجبات کی ادائیگی کیلیے زوردیاگیااورصوبائی وزیربلدیات سے استدعاکی گئی کہ وہ ادائیگیوںکیلیے اقدامات کریں۔
اس موقع پرصوبائی وزیربلدیات شرجیل میمن نے کہاکہ سندھ حکومت واٹربورڈپرکے ای ایس سی کے واجبات کی ادائیگیوں کیلیے سنجیدہ ہے اوراس سلسلے میں کوئی فارمولاجلدطے کر لیا جائیگا،کے ای ایس سی واٹربورڈکے پمپنگ اسٹیشنوں پرلوڈشیڈنگ فوری ختم کرے کیونکہ اس سے شہرمیں پانی کابحران شدت اختیارکرتاجارہاہے۔دریں اثناکے ای ایس سی کے ترجمان نے واضح کیاہے کہ واٹر بورڈ کی پمپنگ اسٹیشنزپربجلی کی لوڈ شیڈنگ واجبات کی عدم ادائیگی اور مسلسل متعدد نوٹسز جاری ہونے کے بعدواٹر بورڈانتظامیہ کی غیرسنجیدگی کے باعث کی گئی،فروری2013 میں سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ اگرواٹر بورڈ مارچ 2013 سے ماہانہ بلوں کی ادائیگی نہیں کرتاتوکے ای ایس سی واٹر بورڈکی تنصیبات کی بجلی منقطع کرنے کاحق رکھتی ہے ،کے ای ایس سی انتظامیہ نے کراچی کے شہریوں کی پانی کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے فروری 2013 سے مارچ تک واٹربورڈ کی بجلی عدالت کے حکم کے باوجودمنقطع نہیں کی ۔