کامرہ حملہ 3 ایئر فورس ملازمین کا کورٹ مارشل روکنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ نے امتناعی حکم جاری کرکے فضائیہ سے 27 نومبر کو جواب طلب کرلیا
ملزمان کے وکیل کو کس قانون کے تحت مقدمہ لڑنے سے روکا گیا، جسٹس شہزادہ مظہر ، فوٹو:فائل
لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس شہزادہ مظہرنے کامرہ ایئربیس میں دہشت گردوں کے حملے میںتباہ ہونے والے3ریڈار ایئر کرافٹس کے مقدمے میں ایئرفورس ملٹری کورٹ میں کورٹ مارشل کاسامنا کرنیوالے 3 ٹیکنیشنوں کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی حکم امتناع جاری کرکے روک دی اورایئرفورس حکام کونوٹس جاری کر کے 27نومبر کوجواب ورپورٹ طلب کرلی ہے۔
اس کورٹ مارشل کی کارروائی کو تینوں ٹیکنیشنوں ظفر عباس، شاویزخان وغیرہ نے چیلنج کیاتھا۔ کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ کاموقف تھاکہ تینوںٹ یکنیشنوں کاسیکیورٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انھیں چارج شیٹ کی نقول نہیں دی گئیں اور بطوروکیل سماعت میں حصہ نہیںلینے دیاجا رہا۔ اسلیے پٹیشن کے فیصلے تک سماعت روکی جائے۔ جسٹس شہزادہ مظہرشیخ نے ریمارکس دیے کہ کس قانون کے تحت ملزمان کے وکیل کو مقدمہ لڑنے سے روکا گیا ہے۔
اس کورٹ مارشل کی کارروائی کو تینوں ٹیکنیشنوں ظفر عباس، شاویزخان وغیرہ نے چیلنج کیاتھا۔ کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ کاموقف تھاکہ تینوںٹ یکنیشنوں کاسیکیورٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انھیں چارج شیٹ کی نقول نہیں دی گئیں اور بطوروکیل سماعت میں حصہ نہیںلینے دیاجا رہا۔ اسلیے پٹیشن کے فیصلے تک سماعت روکی جائے۔ جسٹس شہزادہ مظہرشیخ نے ریمارکس دیے کہ کس قانون کے تحت ملزمان کے وکیل کو مقدمہ لڑنے سے روکا گیا ہے۔