3 ستمبر اور 7 ستمبر
ہٹلر کا جنگی جنون اس کے 28 لاکھ 50 ہزار فوجی نگل گیا اور سوویت یونین نے اپنے 75لاکھ فوجیوں کی قربانی دی
zahedahina@gmail.com
دو دن پہلے 3 ستمبر آئی اورخاموشی سے گزرگئی۔ ہمارے یہاں شاید بہت ہی کم لوگوں کو یاد آیا ہو کہ یہ وہ تاریخ تھی جب دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کا اعلان ہوا اور جنگ سے تباہ حال یورپ نے سکون کا سانس لیا۔ امریکا اس جنگ میں شامل تو ہوا تھا اور جاپان کے دو شہروں کو ایٹمی ہتھیاروں کا نوالہ بناکر شاداں و فرحاں تھا۔ اس بھیانک جنگ کی آگ امریکی ساحلوں تک نہیں پہنچی تھی پھر بھی وہاں اس خبر کا استقبال ہوا اور برطانوی اور فرانسیسی نو آبادیات کے لیے بھی یہ خبر ایک مژدہ جانفزا تھی۔
برصغیر جو برطانیہ کی سب سے بڑی نوآبادی تھی وہاں سے ہزارہا نوجوان اپنی اور اپنے گھر والوں کی بھوک سے مجبور ہوکر فوج میں بھرتی ہوئے تھے اور سیکڑوں ہزاروں میل کی دوری پر توپوں کا نوالہ ہوگئے تھے۔ اس موضوع پر ہمارے اس وقت کے ادیبوں اور شاعروں نے دل کو چھو لینے والی بہت سی نظمیں اور بہت سے افسانے لکھے ۔ کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی، ن م راشد، فیض، عصمت چغتائی، ساحر لدھیانوی۔ کوئی محاذ جنگ سے لوٹ کر آنے والوں پر آنسو بہا رہا تھا اور کوئی ان کے پسماندگان
پر۔ اس دوسری جنگ عظیم نے برصغیر پر ایک ستم یہ بھی کیا تھا کہ اس کے شہر امریکی فوجیوں کی گزر گاہ بن گئے تھے۔ یہ برصغیر کی وہ بستیاں تھیں جن میں بھوک رقصاں تھی اور ان غیر ملکی سپاہیوں کے ہاتھوں برصغیر کی عزت نیلام ہورہی تھی۔ اسی مرحلے پر ساحر نے 'اجنبی محافظ' لکھی تھی۔
اونچے ہوٹل کے شبستانوں میں
قہقہے مارتے ہنستے ہوئے ایستادہ ہیں
اجنبی دیس کے مضبوط گرانڈیل جواں
جیب میں نقرئی سکوں کی کھنک
رات کو جس کے عوض بکتا ہے
کسی افلاس کی ماری کا تقدس
اسی ہوٹل کے قریب
بھوکے مجبور غلاموں کے گروہ
ٹکٹکی باندھ کے تکتے ہوئے اوپر کی طرف
منتظر بیٹھے ہیں اس ساعتِ نایاب کے جب
بوٹ کی نوک سے نیچے پھینکے
کوئی سکہ، کوئی سگریٹ، کوئی کیک
یا ڈبل روٹی کے چھوٹے ٹکڑے
یہ مناظر صرف دوسری جنگ عظیم میں مفتوح قوموں اور نوآبادیات کے ہی نہیں ہیں، انسانوں نے جنگ جب سے ایجاد کی ہے اس وقت سے آج تک ہر زمانے میں یہی مناظر نظر آرہے ہیں۔پہلی جنگ عظیم ختم ہوئی تو اس کی تباہ کاریوں سے سہمے ہوئے لوگوں کو یقین تھا کہ انسانی جان و مال کی تباہی اور بستیوں کی بربادی کے بعد دنیا کے جنگ پرستوںکو بہت دنوں تک ہمت نہیں ہوگی کہ وہ ایک بار پھر سے انسانیت کو جنگ کے جہنم میں دھکیل دیں۔
لیکن اسلحے کے تاجروں کو اپنے کارخانوں کو زندہ رکھنے اور اپنے منافعے سے غرض تھی، اسی لیے 1939 میں ایک بار پھر دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ جنگ کا ایندھن بنا۔ اس کے پھیلائو کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جنگ میں حصہ لینے والے دونوں فریقوں کی طرف سے 57 ملک اس میں شریک تھے۔ امریکا جس کی حصے داری اس جنگ میں بہت کم تھی، اس کے باوجود محاذ جنگ پر اس کے 292,100 فوجی کام آئے۔ برطانیہ کے 3,97,762 اور ہندوستان سے بھرتی ہونے والے 36,092 فوجی گھر لوٹ کر نہ آئے۔
ہٹلر کا جنگی جنون اس کے 28 لاکھ 50 ہزار فوجی نگل گیا اور سوویت یونین نے اپنے 75لاکھ فوجیوں کی قربانی دی۔ چین کے 22لاکھ فوجی اس جنگ میں کام آئے۔ یہ تو فوجیوں کی جانوں کا حساب ہے اگر مارے جانے والوں کی کل تعداد کا اندازہ لگایا جائے تو وہ 3کروڑ تک پہنچتی ہے۔ سیکڑوں شہر راکھ کا ڈھیر ہوئے، ہزاروں بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں اور کروڑوں شہر لقمہ اجل ہوئے۔
ہیرو شیما اور ناگاساکی کے برباد ہوجانے کے بعد شہنشاہ جاپان نے اتحادی افواج کے سامنے ہتھیار ڈالنے میں ہی عافیت سمجھی۔ 2 ستمبر 1945 کو خلیج ٹوکیو میں کھڑے امریکی بحری جہاز 'مسوری' پر جاپان نے اس ذلت آمیز معاہدے پر دستخط کیے جو اسے اتحادیوں کی جانب سے دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی 3 ستمبر 1945کو مکمل جنگ بندی کا اعلان ہوگیا۔
اس سے یہ نہ سمجھیے کہ جنگ پرستوں کی خون کی پیاس بجھ گئی۔ اس کے بعد سے اب تک علاقائی جنگیں لڑی گئیں جن میں کوریا، ویتنام اور اب عراق اور افغانستان کی جنگیں شامل ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم اور اس کے بعد کی لڑائیوں نے ان لوگوں کو جنم دیا جو انسانی جان کے زیاں اور دنیا کے بیش بہا وسائل کی بربادی سے اتنے متاثر ہوئے کہ انھوں نے جنگ کو ایک غیر اخلاقی اور غیر انسانی عمل سمجھا اور عمر بھر جنگ مخالف کے طور پر پہچانے گئے۔
ان میں سے ایک امریکی نژاد کارڈیل ہل تھے جن کا کہنا تھا 'جب تک لوگوں کے درمیان انتقام اور تلخ تجارتی تنازعات موجود رہتے ہیں اس وقت تک مستقل بنیادوں پر قوموں کے درمیان نہ تجارت بحال ہوسکتی ہے ، نہ وہ ایک دوسرے پر اعتماد کرسکتی ہیں اورنہ امن کے معاملات حقیقی بنیادوں پر استوار ہوسکتے ہیں۔' یہ بات انھوں نے دوسری جنگ عظیم سے کچھ دنوں پہلے کہی تھی۔
ان کی یہ بات کس قدر درست تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ انھوں نے پہلی جنگ عظیم کے خوفناک اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور دوسری جنگ عظیم کے مہیب زخموں کو جھیلتے ہوئے اقوام متحدہ کا ادارہ قائم کرنے اور اس کے اصولوں کو طے کرنے کا بنیادی کام کیا تھا اور وہ اس ادارے کے بانی کے طور پر پہچانے گئے ان کے اس کارنامے کے سبب انھیں 1945 کا نوبیل امن انعام دیا گیا۔ اس انعام کو قبول کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا۔' ہمارے دل و دماغ میں امن کا مسئلہ آج سب سے اہم ہے (ایسے وقت میں) جب دنیا تاریخ کی سب سے زیادہ پھیلائو والی ظالمانہ جنگ کی ابتلاء سے لڑکھڑاتی ہوئی نکل رہی ہے۔
اس جنگ نے انسانیت کو تباہی کی ناقابل یقین ترقی اور خوفناک حد تک تیز اور تقریباً غیرمحدود سمت پر گامزن کیا ہے۔ ابھی فاتح سائنس اور ٹیکنالوجی اتنی حیرت ناک توانائی کے ماخذ کے ساتھ صرف انسان کے حکم کی منتظر ہے۔ جس کو اگر عسکری استعمال میں لایا جائے تو ہماری پوری تہذیب ایک آن میں مکمل طور پر تباہ ہوسکتی ہے۔
پچھلی عالمی جنگ کے حالات نے دنیا پر جو منحوس سایہ ڈالا ہے اس میں مہذب اور شائستہ زندگی کے لیے امن ویسا ہی ضروری ہوگیا جیسے سانس لینے کے لیے تازہ ہوا۔ ہر جگہ کے عوام اور حکومتوں پر اس سے بڑی اور کیا ذمے داری ہوسکتی ہے کہ وہ اس بات کا یقین دلائیں کہ بالآخر اس بار، دیرپا امن نہ صرف قائم ہوگا بلکہ اس کو مستحکم کیا جائے گا اور برقرار رکھا جائے گا۔
چند ہفتوں کے اندر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک اجتماع کے ذریعے سان فرانسسکو کے منشور کے مطابق بین الاقوامی امن اور تحفظ کے لیے باقاعدہ ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جائے گی۔ مجھے پورا احساس ہے کہ یہ نیا ادارہ اپنے عظیم مقصد کے لیے ایک آلے کی صورت میں کام کرنے کے بجائے انسانی انداز میں کام کرے گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ مجھے یقین ہے کہ یہ بہتر ہوتا جائے گا۔
یقینا سماجی مشین کا کوئی بھی حصہ ، خواہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ بنایاگیا ہو موثر نہیں ہوگا جب تک اس میں کامیابی حاصل کرنے کی خواہش اور پکا ارادہ نہ ہو۔ آج کے انسانوں اور قوموں کی پرکھ کی قطعی کسوٹی یہ ہے کہ کیا انھوں نے تکلیفیں اٹھائی ہیں۔ کیا انھوں نے شبہات کو ایک طرف رکھنا، تعصب اور کم نظری میں قیاس کیے ہوئے مفادات اور ان کے سب سے بڑے مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے متحد ہونا سیکھا ہے کہ نہیں۔
مسٹر ہل کو یہ انعام اس وقت دیا گیا جب ابھی دوسری جنگ عظیم کے بجھتے ہوئے شعلوں کی تپش کو دنیا محسوس کررہی تھی۔ انھوں نے اور ان جیسے بے شمار لوگوں نے امن کا جو خواب دیکھا تھا وہ آج بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکا ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ دنیا میں امن کو قائم کرنے کے لیے بے شمار تنظیمیں اور افراد کام کررہے ہیں۔ ورنہ اب سے پہلے تو جنگ مخالف لوگوں کو ان کے ملکوں میں 'غدار' اور 'غیر محب وطن' سمجھا جاتا تھا۔
3 ستمبر گزر گئی ہے۔ 7 ستمبر کو ہمارے ملک میں اپنے پڑوسی سے مذاکرات کے لیے گفتگو آغاز ہوگی۔ اس موقعے پر ہم خواہش کرسکتے ہیں کہ ستمبر کا مہینہ ہمارے درمیان پائیدار امن کا ایک قدم ثابت ہو۔
برصغیر جو برطانیہ کی سب سے بڑی نوآبادی تھی وہاں سے ہزارہا نوجوان اپنی اور اپنے گھر والوں کی بھوک سے مجبور ہوکر فوج میں بھرتی ہوئے تھے اور سیکڑوں ہزاروں میل کی دوری پر توپوں کا نوالہ ہوگئے تھے۔ اس موضوع پر ہمارے اس وقت کے ادیبوں اور شاعروں نے دل کو چھو لینے والی بہت سی نظمیں اور بہت سے افسانے لکھے ۔ کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی، ن م راشد، فیض، عصمت چغتائی، ساحر لدھیانوی۔ کوئی محاذ جنگ سے لوٹ کر آنے والوں پر آنسو بہا رہا تھا اور کوئی ان کے پسماندگان
پر۔ اس دوسری جنگ عظیم نے برصغیر پر ایک ستم یہ بھی کیا تھا کہ اس کے شہر امریکی فوجیوں کی گزر گاہ بن گئے تھے۔ یہ برصغیر کی وہ بستیاں تھیں جن میں بھوک رقصاں تھی اور ان غیر ملکی سپاہیوں کے ہاتھوں برصغیر کی عزت نیلام ہورہی تھی۔ اسی مرحلے پر ساحر نے 'اجنبی محافظ' لکھی تھی۔
اونچے ہوٹل کے شبستانوں میں
قہقہے مارتے ہنستے ہوئے ایستادہ ہیں
اجنبی دیس کے مضبوط گرانڈیل جواں
جیب میں نقرئی سکوں کی کھنک
رات کو جس کے عوض بکتا ہے
کسی افلاس کی ماری کا تقدس
اسی ہوٹل کے قریب
بھوکے مجبور غلاموں کے گروہ
ٹکٹکی باندھ کے تکتے ہوئے اوپر کی طرف
منتظر بیٹھے ہیں اس ساعتِ نایاب کے جب
بوٹ کی نوک سے نیچے پھینکے
کوئی سکہ، کوئی سگریٹ، کوئی کیک
یا ڈبل روٹی کے چھوٹے ٹکڑے
یہ مناظر صرف دوسری جنگ عظیم میں مفتوح قوموں اور نوآبادیات کے ہی نہیں ہیں، انسانوں نے جنگ جب سے ایجاد کی ہے اس وقت سے آج تک ہر زمانے میں یہی مناظر نظر آرہے ہیں۔پہلی جنگ عظیم ختم ہوئی تو اس کی تباہ کاریوں سے سہمے ہوئے لوگوں کو یقین تھا کہ انسانی جان و مال کی تباہی اور بستیوں کی بربادی کے بعد دنیا کے جنگ پرستوںکو بہت دنوں تک ہمت نہیں ہوگی کہ وہ ایک بار پھر سے انسانیت کو جنگ کے جہنم میں دھکیل دیں۔
لیکن اسلحے کے تاجروں کو اپنے کارخانوں کو زندہ رکھنے اور اپنے منافعے سے غرض تھی، اسی لیے 1939 میں ایک بار پھر دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ جنگ کا ایندھن بنا۔ اس کے پھیلائو کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جنگ میں حصہ لینے والے دونوں فریقوں کی طرف سے 57 ملک اس میں شریک تھے۔ امریکا جس کی حصے داری اس جنگ میں بہت کم تھی، اس کے باوجود محاذ جنگ پر اس کے 292,100 فوجی کام آئے۔ برطانیہ کے 3,97,762 اور ہندوستان سے بھرتی ہونے والے 36,092 فوجی گھر لوٹ کر نہ آئے۔
ہٹلر کا جنگی جنون اس کے 28 لاکھ 50 ہزار فوجی نگل گیا اور سوویت یونین نے اپنے 75لاکھ فوجیوں کی قربانی دی۔ چین کے 22لاکھ فوجی اس جنگ میں کام آئے۔ یہ تو فوجیوں کی جانوں کا حساب ہے اگر مارے جانے والوں کی کل تعداد کا اندازہ لگایا جائے تو وہ 3کروڑ تک پہنچتی ہے۔ سیکڑوں شہر راکھ کا ڈھیر ہوئے، ہزاروں بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں اور کروڑوں شہر لقمہ اجل ہوئے۔
ہیرو شیما اور ناگاساکی کے برباد ہوجانے کے بعد شہنشاہ جاپان نے اتحادی افواج کے سامنے ہتھیار ڈالنے میں ہی عافیت سمجھی۔ 2 ستمبر 1945 کو خلیج ٹوکیو میں کھڑے امریکی بحری جہاز 'مسوری' پر جاپان نے اس ذلت آمیز معاہدے پر دستخط کیے جو اسے اتحادیوں کی جانب سے دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی 3 ستمبر 1945کو مکمل جنگ بندی کا اعلان ہوگیا۔
اس سے یہ نہ سمجھیے کہ جنگ پرستوں کی خون کی پیاس بجھ گئی۔ اس کے بعد سے اب تک علاقائی جنگیں لڑی گئیں جن میں کوریا، ویتنام اور اب عراق اور افغانستان کی جنگیں شامل ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم اور اس کے بعد کی لڑائیوں نے ان لوگوں کو جنم دیا جو انسانی جان کے زیاں اور دنیا کے بیش بہا وسائل کی بربادی سے اتنے متاثر ہوئے کہ انھوں نے جنگ کو ایک غیر اخلاقی اور غیر انسانی عمل سمجھا اور عمر بھر جنگ مخالف کے طور پر پہچانے گئے۔
ان میں سے ایک امریکی نژاد کارڈیل ہل تھے جن کا کہنا تھا 'جب تک لوگوں کے درمیان انتقام اور تلخ تجارتی تنازعات موجود رہتے ہیں اس وقت تک مستقل بنیادوں پر قوموں کے درمیان نہ تجارت بحال ہوسکتی ہے ، نہ وہ ایک دوسرے پر اعتماد کرسکتی ہیں اورنہ امن کے معاملات حقیقی بنیادوں پر استوار ہوسکتے ہیں۔' یہ بات انھوں نے دوسری جنگ عظیم سے کچھ دنوں پہلے کہی تھی۔
ان کی یہ بات کس قدر درست تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ انھوں نے پہلی جنگ عظیم کے خوفناک اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور دوسری جنگ عظیم کے مہیب زخموں کو جھیلتے ہوئے اقوام متحدہ کا ادارہ قائم کرنے اور اس کے اصولوں کو طے کرنے کا بنیادی کام کیا تھا اور وہ اس ادارے کے بانی کے طور پر پہچانے گئے ان کے اس کارنامے کے سبب انھیں 1945 کا نوبیل امن انعام دیا گیا۔ اس انعام کو قبول کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا۔' ہمارے دل و دماغ میں امن کا مسئلہ آج سب سے اہم ہے (ایسے وقت میں) جب دنیا تاریخ کی سب سے زیادہ پھیلائو والی ظالمانہ جنگ کی ابتلاء سے لڑکھڑاتی ہوئی نکل رہی ہے۔
اس جنگ نے انسانیت کو تباہی کی ناقابل یقین ترقی اور خوفناک حد تک تیز اور تقریباً غیرمحدود سمت پر گامزن کیا ہے۔ ابھی فاتح سائنس اور ٹیکنالوجی اتنی حیرت ناک توانائی کے ماخذ کے ساتھ صرف انسان کے حکم کی منتظر ہے۔ جس کو اگر عسکری استعمال میں لایا جائے تو ہماری پوری تہذیب ایک آن میں مکمل طور پر تباہ ہوسکتی ہے۔
پچھلی عالمی جنگ کے حالات نے دنیا پر جو منحوس سایہ ڈالا ہے اس میں مہذب اور شائستہ زندگی کے لیے امن ویسا ہی ضروری ہوگیا جیسے سانس لینے کے لیے تازہ ہوا۔ ہر جگہ کے عوام اور حکومتوں پر اس سے بڑی اور کیا ذمے داری ہوسکتی ہے کہ وہ اس بات کا یقین دلائیں کہ بالآخر اس بار، دیرپا امن نہ صرف قائم ہوگا بلکہ اس کو مستحکم کیا جائے گا اور برقرار رکھا جائے گا۔
چند ہفتوں کے اندر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک اجتماع کے ذریعے سان فرانسسکو کے منشور کے مطابق بین الاقوامی امن اور تحفظ کے لیے باقاعدہ ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جائے گی۔ مجھے پورا احساس ہے کہ یہ نیا ادارہ اپنے عظیم مقصد کے لیے ایک آلے کی صورت میں کام کرنے کے بجائے انسانی انداز میں کام کرے گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ مجھے یقین ہے کہ یہ بہتر ہوتا جائے گا۔
یقینا سماجی مشین کا کوئی بھی حصہ ، خواہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ بنایاگیا ہو موثر نہیں ہوگا جب تک اس میں کامیابی حاصل کرنے کی خواہش اور پکا ارادہ نہ ہو۔ آج کے انسانوں اور قوموں کی پرکھ کی قطعی کسوٹی یہ ہے کہ کیا انھوں نے تکلیفیں اٹھائی ہیں۔ کیا انھوں نے شبہات کو ایک طرف رکھنا، تعصب اور کم نظری میں قیاس کیے ہوئے مفادات اور ان کے سب سے بڑے مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے متحد ہونا سیکھا ہے کہ نہیں۔
مسٹر ہل کو یہ انعام اس وقت دیا گیا جب ابھی دوسری جنگ عظیم کے بجھتے ہوئے شعلوں کی تپش کو دنیا محسوس کررہی تھی۔ انھوں نے اور ان جیسے بے شمار لوگوں نے امن کا جو خواب دیکھا تھا وہ آج بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکا ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ دنیا میں امن کو قائم کرنے کے لیے بے شمار تنظیمیں اور افراد کام کررہے ہیں۔ ورنہ اب سے پہلے تو جنگ مخالف لوگوں کو ان کے ملکوں میں 'غدار' اور 'غیر محب وطن' سمجھا جاتا تھا۔
3 ستمبر گزر گئی ہے۔ 7 ستمبر کو ہمارے ملک میں اپنے پڑوسی سے مذاکرات کے لیے گفتگو آغاز ہوگی۔ اس موقعے پر ہم خواہش کرسکتے ہیں کہ ستمبر کا مہینہ ہمارے درمیان پائیدار امن کا ایک قدم ثابت ہو۔