ہاکی لیگ سے اخراج بھارت نے ملبہ پاکستان پرڈال دیا
رابطہ کرنے کے باوجود پی ایچ ایف نے پلیئرز کیلیے این اوسی نہیں بھجوائے، آفیشل
آئندہ سال 23جنوری سے شروع ہونے والے دوسرے ایڈیشن کیلیے گرین شرٹس پلیرزکو زیر غور ہی نہیں لایا گیا۔ آفیشل۔ فوٹو: فائل
بھارت نے ہاکی انڈیا لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کو موقع نہ دینے کا ملبہ پی ایچ ایف پر ڈال دیا، حکام کا کہنا ہے کہ رابطہ کرنے کے باوجود این اوسی نہیں بھجوائے گئے۔
تفصیلات کے مطابق رواں سال ہاکی انڈیا لیگ کے پہلے ایڈیشن کیلیے پاکستان کے 9کھلاڑیوں کا انتخاب ہوا تھا، ممبئی میجیشنز ٹیم میں 4 پلیئرزکو جگہ ملی لیکن ان کے پریکٹس سیشن کے دوران بھارتی انتہا پسند جماعت شیو سینا کے کارکنوں نے احتجاج کیا، ٹورنامنٹ کے آرگنائزرز نے دوسرے شہروں میں موجود پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی بلایا اور تمام کو سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے میچ کھیلے بغیر ہی وطن واپس بھجوا دیا، آئندہ سال 23جنوری سے شروع ہونے والے دوسرے ایڈیشن کیلیے گرین شرٹس پلیرزکو زیر غور ہی نہیں لایا گیا۔
منتظمین نے ٹورنامنٹ میں عدم شرکت کا ملبہ پاکستان ہاکی فیڈریشن پر ڈال کر اپنی جان چھڑالی، فرنچائزز کیلیے کھلاڑیوں کی نیلامی کے موقع پر آفیشلز نے کہاکہ ہم نے پی ایچ ایف سے رابطہ کیا تھا لیکن ان کی طرف سے کھلاڑیوں کے این او سی نہیں بھجوائے گئے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز نیلامی میں بھارتی مڈ فیلڈر رمن دیپ سنگھ سب سے مہنگے داموں فروخت ہوئے تھے، ان کی خدمات اتر پردیش وزارڈ نے 81ہزار ڈالر میں حاصل کیں، دوسرے نمبر پر نئی فرنچائز کالنگا لانسرز نے نیوزی لینڈ کے آرچی بیلڈ کو 71ہزار ڈالر میں خریدا، رانچی رینوز ایک، ممبئی میجیشنز 11، اتر پردیش وزارڈ4، پنجاب واریئرز 5اور دہلی ویو رائیڈرز نے 4 پلیئرز شامل کیے۔نیلامی کیلیے پیش کیے جانے والے 154میں سے 49کی فروخت ہوئی، ان میں سے 28بھارتی اور 21غیر ملکی تھے۔
تفصیلات کے مطابق رواں سال ہاکی انڈیا لیگ کے پہلے ایڈیشن کیلیے پاکستان کے 9کھلاڑیوں کا انتخاب ہوا تھا، ممبئی میجیشنز ٹیم میں 4 پلیئرزکو جگہ ملی لیکن ان کے پریکٹس سیشن کے دوران بھارتی انتہا پسند جماعت شیو سینا کے کارکنوں نے احتجاج کیا، ٹورنامنٹ کے آرگنائزرز نے دوسرے شہروں میں موجود پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی بلایا اور تمام کو سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے میچ کھیلے بغیر ہی وطن واپس بھجوا دیا، آئندہ سال 23جنوری سے شروع ہونے والے دوسرے ایڈیشن کیلیے گرین شرٹس پلیرزکو زیر غور ہی نہیں لایا گیا۔
منتظمین نے ٹورنامنٹ میں عدم شرکت کا ملبہ پاکستان ہاکی فیڈریشن پر ڈال کر اپنی جان چھڑالی، فرنچائزز کیلیے کھلاڑیوں کی نیلامی کے موقع پر آفیشلز نے کہاکہ ہم نے پی ایچ ایف سے رابطہ کیا تھا لیکن ان کی طرف سے کھلاڑیوں کے این او سی نہیں بھجوائے گئے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز نیلامی میں بھارتی مڈ فیلڈر رمن دیپ سنگھ سب سے مہنگے داموں فروخت ہوئے تھے، ان کی خدمات اتر پردیش وزارڈ نے 81ہزار ڈالر میں حاصل کیں، دوسرے نمبر پر نئی فرنچائز کالنگا لانسرز نے نیوزی لینڈ کے آرچی بیلڈ کو 71ہزار ڈالر میں خریدا، رانچی رینوز ایک، ممبئی میجیشنز 11، اتر پردیش وزارڈ4، پنجاب واریئرز 5اور دہلی ویو رائیڈرز نے 4 پلیئرز شامل کیے۔نیلامی کیلیے پیش کیے جانے والے 154میں سے 49کی فروخت ہوئی، ان میں سے 28بھارتی اور 21غیر ملکی تھے۔