بھارت کیساتھ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل اور ویزا پابندی کا خاتمہ چاہتے ہیں وزیراعظم

بھارت ایک قدم آگے بڑھے ہم 2 قدم آگے بڑھیں گے،ملک کو منجدھار سے نکالنے میں کامیاب ہونگے، نوازشریف

لاہور: وزیراعظم نواز شریف الحمرا آرٹس کونسل میں عالمی ادبی ثقافتی کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: اے پی پی

وزیراعظم نوازشریف نے کہاہے کہ ملک گمبھیر مسائل میں گھرا ہوا ہے، وطن عزیز کو مسائل کے منجھدار سے نکالنے کیلیے قربانی کے جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

یقین ہے کہ اس مقصد میں کامیابی ہو گی تاہم اس میں کچھ وقت لگے گا اور قوم کو تحمل اور بردباری کے ساتھ انتظار کرنا پڑے گا، مخلوط حکومت ہوتی تو وزیر اعظم نہ بنتا، پاکستان کی محبت کی وجہ سے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کا فیصلہ کیا، انشااﷲ ہم نیک نیتی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور اس میں کامیاب ہوں گے۔ سہ روزہ چوتھی الحمرا عالمی ادبی و ثقافتی کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سیاستدانوں، میڈیا اور کسی ادارے کو معاشی بحالی اور دہشتگردی کے خاتمے کے معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، بھارت ہمارا ہمسایہ ہے اور ہمسائے تبدیل نہیں کیے جاتے، بھارت کے ساتھ واجپائی دور جیسے تعلقات چاہتے ہیں، کشمیر سمیت تمام معاملات میز پر بیٹھ کر حل کرنا چاہتے ہیں، ایل او سی پر دونوں اطراف سے روز روز کی فائرنگ دونوں کیلیے اچھی نہیں، بھارت ایک قدم آگے بڑھے ہم 2 قدم آگے بڑھیں گے، خواہش تھی کہ بھارت کے ساتھ ویزے کی پابندی بھی ختم کی جائے۔




نوازشریف نے کہاکہ بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں، باقی ہمسایہ ممالک ایران، چین اور افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہیں، بدگمانیاں پھیلائی جارہی ہیں،بھارت کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ویزے کی ضرورت بھی ختم کریں۔ بھارتی وزیر اعظم واجپائی اسٹیٹمین ہیں جودیانتداری کے ساتھ تمام معاملات کو حل کرنا چاہتے تھے۔انھوں نے کہاکہ الیکشن میں ہم نے بھارت کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا جبکہ بھارت میں پاکستان کے خلاف الیکشن میں مخالفانہ باتیں کی جارہی ہیں۔ ماحول کو ٹھیک رکھنے کے لیے الزام تراشیوں سے باہر آنا چاہیے، بھارتی انتخابات کے بعد دونوں ممالک کو بات چیت کاایک موقع ضرورملنا چاہیے۔ اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے پر تنقید اور بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے، بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے نیو یارک میں ہونے والی ملاقات کے بعد یقین ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فضا بہتر ہوگی اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھ کر معاملات حل کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اسلام فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کا نام نہیں، اس کی بنیادیں اخوت، اتحاد اور مساوات پر استوار ہیں، مجھے یقین ہے کہ اس کانفرنس کی وجہ سے مسلمانوں کے بارے میں پائی جانیوالی کئی غلط فہمیاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔ بنگلہ دیش سے آئے ہوئے مہمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بنگلہ دیش کے لوگ ہمارے دلوں میں بستے ہیں، ایک زمانہ تھا جب ہم ایک ملک تھے اور اب وہ زمانہ ہے کہ ہم 2 ملک ہیں، اس سلسلے میں کسی نے کیا کیا اس کو بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے، بھارت سے آئے ہوئے ایک میڈیا گروپ کے مہمان کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کیلیے اپنا کردار ادا کریں۔ اس موقع پر نوازشریف نے فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کیلیے کلب کے قیام کی غرض سے2 کروڑ روپے کی رقم کا اعلان کیا۔ دریں اثنا وزیر اعظم نواز شریف نے ماڈل ٹائون میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر بھٹہ کی رہائش گاہ پر ان کے والد کی وفات پر اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔
Load Next Story